BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان میں فوجی آمریت نہیں ہے‘

 جنرل مشرف
جنرل مشرف دوسرے پاکستان فوجی حکمرانوں سے مختلف ہیں: امریکی سفیر
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ریان سی کروکر نے کہا ہے کہ باوجود اس کے کہ صدر مشرف فوجی وردی میں ہیں وہ پاکستان میں فوجی آمریت نہیں سمجھتے۔

پیر کے روز صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے امریکی سفیر نے صدر جنرل پرویز مشرف کی ’پائیدار‘ جمہوریت قائم کرنے سمیت تمام پالیسیوں کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ صدر مشرف پاکستان کے دیگر فوجی حکمرانوں سے خاصے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور پارلیمان بھی کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پائیدار جمہوریت قائم کرنے اور اداروں کو مستحکم کرنے کی رفتار سے مطمئن ہیں۔

ریان سی کروکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ پاکستان میں ایسی سویلین حکومتیں بھی نہیں چاہتا جیسی صدر مشرف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تھیں۔

اس پر صحافیوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی اور کہا کہ کیا وہ صدر مشرف کے حق میں اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے خلاف ایک لحاظ سے فیصلہ نہیں دے رہے۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسے نہیں سمجھتے لیکن اگر صحافی ایسا سمجھتے ہیں تو بیشک سمجھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کہتا رہا ہے کہ چند ماہ پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات پاکستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے ’ٹیسٹ کیس‘ ہوگا اور ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں بھی ہوئیں اور کیا اس کا اثر عام انتخابات پر نہیں ہوگا؟

اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کو وہ ٹھیک سے ’مانیٹر‘ نہیں کر پائے لیکن عام انتخابات کو تفصیل سے مانیٹر کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات کے شفاف ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔

سن دوہزار سات میں صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی اتارنے کے متعلق سوال کا بھی انہوں نے گول مول جواب دیا۔

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ریان سی کروکر نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کا القاعدہ سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور وہ اب اپنی تنظیم کے ’آپریشنل کمانڈر‘ نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کہیں اس طرح چھپے ہوئے ہیں جس طرح صدام حسین اپنے آخری دنوں میں ایک تہہ خانے میں تھے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جس طرح القاعدہ کے اہم شدت پسند پاکستان مارے جارہے ہیں یا گرفتار ہو رہے ہیں اس سے انہیں لگتا ہے کہ اب بھی پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں القاعدہ والے پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ابو حمزہ رابیہ کے مارے جانےسےمتعلق انہوں نے کہا کہ جب صدر جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں کہ وہ مارا گیا ہے تو اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت کو اپنے قبائلی علاقوں پر مکمل گرفت قائم کرنا ہوگی۔

امریکی سفیر کی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کا مقصد تو آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد امریکی امداد اور تعاون کے بارے میں تشہیر کرنا تھا۔لیکن انہوں نے دیگر موضوعات پر بھی کھل کر باتیں کیں۔

امریکی سفیر کے مطابق

 پاکستان میں میڈیا آزاد ہے، پارلیمان بھی کام کر رہا ہے اور صدر مشرف پاکستان کے دیگر فوجی حکمرانوں سے خاصے مختلف ہیں
امریکی سفیر ریان سی کروکر
میڈیا آزاد ہے اور پارلیمان بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف پاکستان کے دیگر فوجی حکمرانوں سے خاصے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے پائیدار جمہوریت قائم کرنے اور اداروں کو مستحکم کرنے کی رفتار سے مطمئن ہیں۔ ریان سی کروکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ پاکستان میں ایسی سویلین حکومتیں بھی نہیں چاہتا جیسی صدر مشرف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تھیں۔

اس پر صحافیوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی اور کہا کہ کیا وہ صدر مشرف کے حق میں اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے خلاف ایک لحاظ سے فیصلہ نہیں دے رہے۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسے نہیں سمجہتے لیکن صحافی ایسا سمجھتے ہیں تو بیشک سمجھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کہتا رہا ہے کہ چند ماہ پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات پاکستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے ’ٹیسٹ کیس‘ ہوگا اور ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں بھی ہوئیں اور کیا اس کا اثر عام انتخابات پر نہیں ہوگا؟۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کو وہ ٹھیک سے ’مانیٹر‘ نہیں کر پائے لیکن عام انتخابات کو تفصیل سے مانیٹر کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات کے شفاف ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔

سن دوہزار سات میں صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی اتارنے کے متعلق سوال کا بھی انہوں نے گول مول جواب دیا۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے امدادی کاموں میں حصہ لینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جو بھی کام کر رہی ہیں اس سے خود کو مضبوط کر رہی ہیں۔ جوکہ ان کے مطابق تشویشناک بات ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا امریکہ کالاباغ ڈیم سمیت کسی بھی منصوبے کے لیے فی الحال مزید مالی امداد نہیں دے سکتے البتہ بڑے ڈیموں اور زلزلے سے بچاؤ کے لیے تعمیرات کے سلسلے میں فنی مدد اور مہارت اگر مانگی گئی تو وہ فراہم کریں گے۔

اسی بارے میں
صدر مشرف کو صدر بش کا فون
17 November, 2005 | پاکستان
اللہ، آرمی اور کشمیر
23 October, 2005 | قلم اور کالم
طاقت سے خاتمہ کریں گے: مشرف
08 September, 2005 | پاکستان
’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں
30 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد