لیڈر کا مفاد ہرسسکی سے بالاتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ عورتیں دولت کمانے اور بیرون ملک جانےکے لالچ میں اپنی آبرو ریزی کرواتی ہیں اور جب کچھ لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو جنرل مشرف انہیں قوم مخالف قرار دیتے ہیں۔ تو آخر کیسے طے ہوتاہے قوم کا مفاد؟ میں جب جب صدر مشرف کو دیکھتا ہوں، تو میرے ذہن میں اندرا گاندھی کی تصویر ابھرتی ہے۔ دونوں نے’قوم کے مفاد‘ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں، خود ہی یہ طے کیا کہ قوم کا مفاد کس بات میں ہے اور اس کا کیسےتحفظ کیا جائے۔ آپ کہیں گے کہ یہی تو عظیم رہنماؤں کا کام ہوتا ہے، اور میں کہوں گا کہ آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔ صدر مشرف اور اندرا گاندھی دونوں ہی کے دلوں پر قوم کا درد بھاری رہا ہے اور حسن اتفاق سے دونوں ہی اس نتیجے پر پہنچے کہ قوم کا مفاد خود ان کے ذاتی مفاد سے وابستہ ہے اور اگر کسی بات سے انہیں فیض پہنچتا ہے تو اس کا منطقی انجام یہی ہے کہ اس سے قوم کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور بات سمجھ میں آتی بھی ہے، کیونکہ اگر کسی ایک گروپ میں ہر شخص اپنے مجموعی فائدے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرے، تو کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مجموعی طور پر پورے گروپ کواس کا فائدہ ہوتا ہے۔ یعنی صدر مشرف تو اپنی سی کوشش کررہے ہیں، اگر آپ بھی ہاتھ بٹائیں تو بات بن سکتی ہے۔
سب کچھ قوم کے مفاد میں ہوا لیکن پھر بھی کچھ لوگ یہ کہنے سے نہیں چوکتے کہ اندرا گاندھی نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ ملک کی وزیر اعظم نہیں رہ سکتیں، یہ سب کچھ اقتدار میں قائم رہنے کے لئے کیا تھا۔ اور یاد رہے کہ اندرا گاندھی کا یہ حشر انیس سو اکہتر کی جنگ کے بعد ہوا جب ان کے سخت ترین سیاسی مخالف اٹل بہاری واجپئی نے ملک کی پارلیمان میں کھڑے ہوکر انہیں بہادری اور طاقت کی دیوی درگا سے تعبیر کیا تھا۔ کچھ یہی حال صدر مشرف کا بھی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا؟ ملک کو ’حقیقی جمہوریت‘ دینے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کو چھوڑا، ایک ساتھ دو دو عہدوں کی ذمہ داری سنبھالی، نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا اور بے نظیر بھٹو کو واپس آنے سے روکا تاکہ ایک پاک صاف جمہوریت پروان چڑھ سکے۔ لیکن ان قربانیوں میں سے آپ کو ان کی کیا بات یاد رہی؟ کہ وہ پاکستانی عورتوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ لیکن ذرا تصویر کا دوسرا رخ تو دیکھئے۔ اگر پاکستان میں کسی عورت کی عزت مٹی میں ملتی ہے یا وہ خود اپنی عزت مٹی میں ملواتی ہے، تو صدر مشرف کی بدنامی ہوتی ہے۔ صدر صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی بدنامی پاکستان کی بدنامی ہے اور ان کی مخالفت پاکستانی قوم کی مخالفت ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی بدنامی جنرل مشرف کو کسی قیمت برداشت نہیں۔ چاہےاس کے لئے انہیں احتجاج کرنے والوں کو قوم مخالف کہنا پڑے، یا کسی درندہ صفت انسان کی حوس کا شکار بننے والی کمزور اور بے سہارا عورت کو مفاد پرست۔ آخر سوال مفاد کا ہے، اور ہمیں معلوم ہے کہ قوم اور صدرکا مفاد ہر بات اور ہرسسکی سے بالاتر ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||