BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 September, 2005, 00:22 GMT 05:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیڈر کا مفاد ہرسسکی سے بالاتر

صدر مشرف اپنے ہر اقدام کو قومی مفاد کے حوالے سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں
صدر مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ عورتیں دولت کمانے اور بیرون ملک جانےکے لالچ میں اپنی آبرو ریزی کرواتی ہیں اور جب کچھ لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو جنرل مشرف انہیں قوم مخالف قرار دیتے ہیں۔ تو آخر کیسے طے ہوتاہے قوم کا مفاد؟

میں جب جب صدر مشرف کو دیکھتا ہوں، تو میرے ذہن میں اندرا گاندھی کی تصویر ابھرتی ہے۔

دونوں نے’قوم کے مفاد‘ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کیں، خود ہی یہ طے کیا کہ قوم کا مفاد کس بات میں ہے اور اس کا کیسےتحفظ کیا جائے۔ آپ کہیں گے کہ یہی تو عظیم رہنماؤں کا کام ہوتا ہے، اور میں کہوں گا کہ آپ کی بات بالکل صحیح ہے۔

صدر مشرف اور اندرا گاندھی دونوں ہی کے دلوں پر قوم کا درد بھاری رہا ہے اور حسن اتفاق سے دونوں ہی اس نتیجے پر پہنچے کہ قوم کا مفاد خود ان کے ذاتی مفاد سے وابستہ ہے اور اگر کسی بات سے انہیں فیض پہنچتا ہے تو اس کا منطقی انجام یہی ہے کہ اس سے قوم کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور بات سمجھ میں آتی بھی ہے، کیونکہ اگر کسی ایک گروپ میں ہر شخص اپنے مجموعی فائدے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرے، تو کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مجموعی طور پر پورے گروپ کواس کا فائدہ ہوتا ہے۔ یعنی صدر مشرف تو اپنی سی کوشش کررہے ہیں، اگر آپ بھی ہاتھ بٹائیں تو بات بن سکتی ہے۔

لیکن افسوس کہ قومیں بہت احسان فراموش ہوا کرتی ہیں۔ تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے، تو آپ دیکھیں گے کہ بر صغیر کی خود غرض قومیں شاذ و نادر ہی ان قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں، جو ان کے عظیم رہنما ان کے مفاد کی خاطر دیتے ہیں۔

صدر مشرف اور اندرا گاندھی دونوں ہی کے دلوں پر قوم کا درد بھاری رہا ہے
اندرا گاندھی جب زندہ تھیں، تو کانگریس پارٹی نے اندرا از انڈیا کا نعرہ دیا تھا۔ یعنی اندرا ہی انڈیا ہیں۔ لیکن انڈیا میں آج جب اندرا گاندھی کا ذکر ہوتا ہے، تو ذہن میں تصویر ابھرتی ہے ان نوجوانوں کی جنہیں ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لئے نس بندی پر مجبور کیا گیا، اس ایمرجسنی کی جو ملک کو ’ٹوٹنے‘ سے بچانے کے لئے لگائی گئی، اور پریس کی اس سنسر شپ کی جو لوگوں کو ’گمراہ کن پروپگنڈے‘ سےمحفوظ رکھنے کے لئے نافذ کی گئی تھی۔

سب کچھ قوم کے مفاد میں ہوا لیکن پھر بھی کچھ لوگ یہ کہنے سے نہیں چوکتے کہ اندرا گاندھی نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ ملک کی وزیر اعظم نہیں رہ سکتیں، یہ سب کچھ اقتدار میں قائم رہنے کے لئے کیا تھا۔

اور یاد رہے کہ اندرا گاندھی کا یہ حشر انیس سو اکہتر کی جنگ کے بعد ہوا جب ان کے سخت ترین سیاسی مخالف اٹل بہاری واجپئی نے ملک کی پارلیمان میں کھڑے ہوکر انہیں بہادری اور طاقت کی دیوی درگا سے تعبیر کیا تھا۔

کچھ یہی حال صدر مشرف کا بھی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا؟ ملک کو ’حقیقی جمہوریت‘ دینے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کو چھوڑا، ایک ساتھ دو دو عہدوں کی ذمہ داری سنبھالی، نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا اور بے نظیر بھٹو کو واپس آنے سے روکا تاکہ ایک پاک صاف جمہوریت پروان چڑھ سکے۔

لیکن ان قربانیوں میں سے آپ کو ان کی کیا بات یاد رہی؟ کہ وہ پاکستانی عورتوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔

لیکن ذرا تصویر کا دوسرا رخ تو دیکھئے۔ اگر پاکستان میں کسی عورت کی عزت مٹی میں ملتی ہے یا وہ خود اپنی عزت مٹی میں ملواتی ہے، تو صدر مشرف کی بدنامی ہوتی ہے۔ صدر صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی بدنامی پاکستان کی بدنامی ہے اور ان کی مخالفت پاکستانی قوم کی مخالفت ہے۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی بدنامی جنرل مشرف کو کسی قیمت برداشت نہیں۔

چاہےاس کے لئے انہیں احتجاج کرنے والوں کو قوم مخالف کہنا پڑے، یا کسی درندہ صفت انسان کی حوس کا شکار بننے والی کمزور اور بے سہارا عورت کو مفاد پرست۔

آخر سوال مفاد کا ہے، اور ہمیں معلوم ہے کہ قوم اور صدرکا مفاد ہر بات اور ہرسسکی سے بالاتر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد