’میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے نیو یارک کے ہوٹل میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ خواتین کے مسائل ملک کے اندر اٹھانے چاہئیں اور دنیا بھر میں ان کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیئے۔ انہوں نے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو خواتین کے مسائل ملک سے باہر الٹاتے ہیں ان کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور وہ ایسے لوگوں کو دیکھ لیں گے۔ انہوں نے غیر سرکاری تنظیموں کو تنبیہہ کی کہ ’میں ایک سپاہی ہوں اور مجھے لڑنا آتا ہے۔ میں آپ سے لڑوں گا اور اگر آپ چیخیں گی تو میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘۔ صدر مشرف کے خطاب کے بعد سوال جواب کے دوران جب ایک خاتون نے کہا کہ وہ خواتین جو امریکہ میں پاکستانی خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں بے حد مخلص ہیں اور پاکستانی صدر کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیئے، تو اس بات پر جنرل مشرف برہم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ’آپ جیسے لوگ قومی مفاد کے خلاف ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کے اپنے معاشی یا سیاسی مفاد ہوتے ہیں جسکی خاطر وہ ان واقعات پر خاص روشنی ڈالنا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کے وقار کو ٹھیس پہنچے۔ اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر جہانگیر کرامت نے اٹھ کر صدر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مائیک خود سنبھال لیا۔ اس سے پہلے جب ایک خاتون نے صدر جنرل مشرف سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے متنازعہ انٹرویو کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس بارے میں وضاحت کر چکے ہیں۔ صدر مشرف نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے بہت کچھ کیا ہے جبکہ پاکستان کی خاتون وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے بھی پاکستان میں خواتین کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔ اس تقریب میں آئی خواتین میں ایک ڈاکٹر اسماء چوہدری بھی تھیں۔ صدر کے خطاب پر انہوں نے کہا کہ ’میں شدید غصے میں ہوں، صدر صاحب غنڈوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں‘۔ اس دوران ہوٹل کے باہر خواتین کے حقوق کی تنظیم ’انا‘ کا مظاہرہ جاری رہا۔ انا نے مختار مائی کو امریکہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن پاکستان کی حکومت نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔ انا کی ترجمان آمنہ بٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی خواتین زیادتی کا شکار ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر خواتین مختار مائی کو ہیرو سمجھتی ہیں اور ان سے ملنا چاہتی ہیں۔ صدر مشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے اس لیئے روکا تھا کہ انہیں پتہ چلا تھا کہ کچھ لوگ ان کے ذریعے ’خود ان کے اور پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کرنا چاہتے ہیں‘۔ امریکہ میں رہنے والی پاکستانی نژاد خواتین کے لیے اس تقریب میں شروع ہی میں اس وقت بدمزگی ہو گئی جب درجنوں خواتین کو ہال کے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ یہ تمام خواتین دعوت ناموں پر آئی تھیں اور ان میں سے کچھ تو دوسری ریاستوں سے خصوصاً اس تقریب کے لیے نیو یارک آئی تھیں۔ مگر منتظمین نے ہال کی گنجائش سے کہیں زیادہ لوگوں کو دعوت دے رکھی تھی۔ یاد رہے کہ یہ دعوت نامے پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||