BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 September, 2005, 00:54 GMT 05:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘

مشرف کے بیان پر مظاہرے
خواتین کو جنرل مشرف کے بیان پر شدید غصہ ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے نیو یارک کے ہوٹل میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ خواتین کے مسائل ملک کے اندر اٹھانے چاہئیں اور دنیا بھر میں ان کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیئے۔

انہوں نے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو خواتین کے مسائل ملک سے باہر الٹاتے ہیں ان کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور وہ ایسے لوگوں کو دیکھ لیں گے۔

انہوں نے غیر سرکاری تنظیموں کو تنبیہہ کی کہ ’میں ایک سپاہی ہوں اور مجھے لڑنا آتا ہے۔ میں آپ سے لڑوں گا اور اگر آپ چیخیں گی تو میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘۔

صدر مشرف کے خطاب کے بعد سوال جواب کے دوران جب ایک خاتون نے کہا کہ وہ خواتین جو امریکہ میں پاکستانی خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں بے حد مخلص ہیں اور پاکستانی صدر کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیئے، تو اس بات پر جنرل مشرف برہم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ’آپ جیسے لوگ قومی مفاد کے خلاف ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کے اپنے معاشی یا سیاسی مفاد ہوتے ہیں جسکی خاطر وہ ان واقعات پر خاص روشنی ڈالنا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کے وقار کو ٹھیس پہنچے۔

اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر جہانگیر کرامت نے اٹھ کر صدر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مائیک خود سنبھال لیا۔

اس سے پہلے جب ایک خاتون نے صدر جنرل مشرف سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے متنازعہ انٹرویو کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس بارے میں وضاحت کر چکے ہیں۔

صدر مشرف نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے بہت کچھ کیا ہے جبکہ پاکستان کی خاتون وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے بھی پاکستان میں خواتین کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔

اس تقریب میں آئی خواتین میں ایک ڈاکٹر اسماء چوہدری بھی تھیں۔ صدر کے خطاب پر انہوں نے کہا کہ ’میں شدید غصے میں ہوں، صدر صاحب غنڈوں کی طرح باتیں کر رہے ہیں‘۔

اس دوران ہوٹل کے باہر خواتین کے حقوق کی تنظیم ’انا‘ کا مظاہرہ جاری رہا۔ انا نے مختار مائی کو امریکہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن پاکستان کی حکومت نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔

انا کی ترجمان آمنہ بٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی خواتین زیادتی کا شکار ہوتی ہیں اور ان میں سے اکثر خواتین مختار مائی کو ہیرو سمجھتی ہیں اور ان سے ملنا چاہتی ہیں۔

صدر مشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے مختار مائی کو ملک سے باہر جانے سے اس لیئے روکا تھا کہ انہیں پتہ چلا تھا کہ کچھ لوگ ان کے ذریعے ’خود ان کے اور پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کرنا چاہتے ہیں‘۔

امریکہ میں رہنے والی پاکستانی نژاد خواتین کے لیے اس تقریب میں شروع ہی میں اس وقت بدمزگی ہو گئی جب درجنوں خواتین کو ہال کے اندر نہیں جانے دیا گیا۔

یہ تمام خواتین دعوت ناموں پر آئی تھیں اور ان میں سے کچھ تو دوسری ریاستوں سے خصوصاً اس تقریب کے لیے نیو یارک آئی تھیں۔ مگر منتظمین نے ہال کی گنجائش سے کہیں زیادہ لوگوں کو دعوت دے رکھی تھی۔

یاد رہے کہ یہ دعوت نامے پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔

66’شدید دکھ پہنچا‘
صدر کے بیان پرمختاراں مائی رنجیدہ
66عورت پر تشدد
پاکستان میں عورت پر تشدد کے واقعات
66غیرت کے نام پر
چھ سال میں چار ہزار افراد سے زائد ہلاک
66جرگے کے فیصلے
’قتل بھائی نے کیا اور تاوان میں بہن دے دی‘
66خواتین کا عالمی دن
پورے پاکستان میں عورتوں کے دن پر تقریبات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد