اخباروں کے پیارے مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اخبارات نےصدر جنرل پرویز مشرف کے نیو یارک میں امریکی یہودی کانگریس سے خطاب کی خاصی تعریف کی ہے اور یہودیوں کے ایک بڑے فورم پر فلسطینی ریاست کے قیام اور دہشت گردی کی جڑیں تلاش کرنے کی بات کرنے کو سراہا ہے۔ تمام بڑے اردو اور انگریزی اخباروں نے صدرمشرف کے خطاب کی کسی بات پر تنقید نہیں کی صرف نوائے وقت نے ان کی کچھ باتوں سے اختلاف کیا ہے۔ رونامہ ڈان منگل کے اپنے اداریے میں کہتا ہے کہ مناسب یہ ہے کہ اسرائیل اور دنیا کے یہودیوں کے درمیان تمیز کی جائے۔ اخبار کہتا ہےکہ دنیا کے تمام یہودی اسرائیل کے قیام کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی وہ تمام لوگ جو اسرائیل کے حامی ہیں اس کی فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کو اچھا سمجھتے ہیں۔
اخبار کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کا امریکہ کی یہودی برادری سے خطاب ایک دلیرانہ قدم تھا اور اس کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ صدر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین گفتگو ہونی چاہیے۔ اخبار کہتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کا نہ حل ہونا مسلم دنیا میں بےچینی اور عسکریت کا بڑا منبع ہے۔ دی نیوز کےمنگل کے اداریے کے مطابق صدر مشرف نے نیو یارک میں اپنے تاریخی خطاب میں تین اہم باتیں کیں۔ ایک تو انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی یقینی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کو یقینی نہیں بنایا جاتا، دوسرے دنیا کو دہشت گردی کی گہری وجوہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے
اخبار کہتا ہے کہ صدر مشرف وہ پہلے مسلمان رہنما ہیں جنہوں نے امیریکی جیوش کانگریس سے خطاب کیا اور یہ تین نکات اس تنظیم کے سامنے پیش کیے۔ دی نیوز کی رائے ہے کہ پاکستان اور کچھ دوسرے مسلمان ملکوں نے اسرائیل کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں اور اب یہ جیوش کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے جواب میں اسرائیل اور سخت گیر ایرئیل شیرون پر زور دے کہ وہ اپنی پالیس پر نطر ثانی کریں۔ روزنامہ جنگ نے صدر مشرف کے خطاب کو جراتمندانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر نے پورے عالم اسلام کا معاملہ حقیقت پسندانہ انداز میں یہودی برادری کی نمائندہ تنظیم کے سامنے رکھا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر یہودی برادری کی طرف سے کیاجواب ملتا ہے۔ ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں صدر مشرف کے خطاب کے متن اور اسٹائل کو سراہا ہے۔
اخبار کہتا ہے کہ صدر مشرف کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انہوں نے یہودی رہنماؤں کے فورم پر کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیا کہ اسرائیل اور فلسطین کی سلامتی ایک دوسرے سے مشروط ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ صدر مشرف نے انے خطاب میں پاکستان کے روایتی موقف کو دہرایا کہ پاکستان اسرائیل کواس وقت تسلیم کرے گا جب فلسطینیوں کو اپنا وطن ملے گا اور غیر قانونی بستیوں، مہاجرین کی واپسی اور یروشلم کا فیصلہ ہوجائے لیکن فرق یہ ہے اور اخبار کے مطابق یہ اہم فرق ہے کہ صدر مشرف خود کو ایسی پوزیشن میں لے کر آئے کہ وہ یہ باتیں ایک یہودی فورم پر کہہ سکیں۔ دی نیشن نے پیر کو اس موضوع پر اپنے اداریے میں کہا کہ صدر مشرف کا خطاب بڑی امیدوں بھرا تھا جو ہر شخص چاہے گا کہ پوری ہوجائیں تاکہ دنیا میں امن اور ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔
تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ یہ بات ماننا مشکل ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان رابطوں سے ہم فلسطین کے مسئلے کے حل میں کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اخبار کا موقف ہے کہ بھارت اور اسرائیل کو جو طاقت کا تکبر ہے وہ انہیں آسانی سے ان معاملات پر پیچھے ہٹنے نہیں دے گا۔ نوائے وقت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ صدر مشرف نے لگی لپٹی رکھے بغیر وہ باتیں کہی ہیں جو ایک نیوکلئیر مسلم قیادت کے سربراہ کو کہنی چاہیں۔ تاہم اخبار کا خیال ہے کہ صدرمشرف نے اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات اوراسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے جو باتیں کہیں وہ کافی حد تک قبل از وقت اور صرف پاکستان ہی نہیں عرب و مسلم عوام کے جذبات و احساسات سے بھی متصادم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||