BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 January, 2004, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوام کی نظر واجپئی، مشرف پر

عوام کی نظر واجپئی، مشرف پر
عوام کی نظر واجپئی، مشرف پر

اسلام آباد میں سارک کا اجلاس علاقائی تعاون کے فروغ کے لئے ہورہا ہے لیکن یہاں کی سڑکوں پر ایک عام آدمی اس بات سے بالکل بے خبر ہےکہ اس اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ شامل ہونے والے باقی ممالک کی نمائندگی کون کر رہا ہے، اور وہ یہ سب کچھ جانناضروری بھی نہیں سمجھاجاتا۔

اخبارات ہوں، حکومتی میڈیا، پریس کانفرنس یا پاکستان کے عام عوام ہر جگہ صرف یہی سننے کو ملتا ہے کہ واجپئی جنرل مشرف سے مل رہے ہیں یا نہیں۔ شاید اسی لئے ہمارے سادہ لوح لوگ امیدیں لگائے ہوئے ہیں کہ اگر ان کے مسائل کا کوئی مداوا کر سکتا ہے تو وہ ہیں پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپئی۔

عام لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ سارک کا چارٹر دو طرفہ معاملات کو موضوع بحث لانے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سالہ فرید خان کا کہنا ہے: میرے خیال میں تو اسلام آباد میں یہ جو کچھ سارک کے لئے ہو رہا ہے یعنی ’اس کو جو دلہن کی طرح سجایا گیا ہے‘ صرف ہمارے ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانوں کے لئے ہے۔ تاکہ وہ یہاں سے محبت کا پیغام لے کر جائیں۔‘

فرید خان مزید کہتے ہیں: ’اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم ہمارے اس پیار کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔‘

ایم اے سوشیالوجی کی طالبہ شازیہ ارشد کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں تو سارک کا صرف ایک ہی مقصد ہے، کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم واجپئی کی آپس میں ملاقات ہو کیونکہ پچھلے سال بھی وزیراعظم واجپائی کی طرف سے سارک کانفرنس میں شمولیت کی رضامندی ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی تھی۔

وہ کہتی ہیں: ’اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ ان دو بڑے ممالک کے سربراہوں کی آپس میں ملاقات ہوئے بغیر سارک اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گی۔‘

اسلام آباد کے باسی محمد اسلم درانی کا خیال ہے کہ ہم پاکستانی اگر اس خطے میں کسی کو جانتے ہیں تو وہ ہیں ہندوستانی۔ کیونکہ اس خطے میں صرف دو ہی بڑے ممالک ہیں: پاکستان اور بھارت۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اس خطے کے عوام کو اگر کوئی کچھ دے سکتا ہے تو انہی دونوں ممالک کے لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سارک نے ان دونوں لیڈروں کو ملاقات کا موقع فراہم کر دیا ہے، اور ان کی نظر میں اب کامیابی کی کنجی انہیں کے ہاتھوں میں ہے۔

سارک بھلے ہی علاقائی تعاون کی تنظیم ہو، لیکن پاکستان کے عوام کی نظریں اس وقت صرف جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم واجپئی پر ٹکی ہوئی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد