صدر جنرل پرویز مشرف کا دورہ کابل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف ہفتے کوافغانستان کے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان کے نومنتخب صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اور انہیں رئیس جمہور منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ جنرل مشرف کے اس دورے کا باضابطہ پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کوئی طے شدہ دورہ نہیں تھا بلکہ صدر پاکستان، افغانستان کے نو منتخب صدر حامد کرزئی کو ان کے انتخاب پر بذات خود جاکر مبارکباد دینا چاہتے تھے۔ صدر مشرف کابل سے سیدھے ارگ یعنی صدارتی محل پہنچے جہاں انہوں نے کچھ دیر تک صدر حامد کرزئی سے تنہائی میں ملاقات کی۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوگئے۔ اجلاس کے بعد صدر جنرل مشرف نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ان کے لیے باعث فخر ہے کہ وہ پہلے صدر ہیں جو افغانستان میں الیکشن کے بعد یہاں کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے دیرینہ روابط کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کی منزل ایک ہے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ جہاں پاکستان، افغانستان کو سمندر کے ذریعے دنیا تک رسائی دیتا ہے وہاں افغانستان بھی پاکستان کو وسطی ایشیا کی جمہوریہ ریاستوں تک راہداری فراہم کرتا ہے۔ جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں دوسری باتوں کے علاوہ کوئٹہ، قندھار ریل لائن، طورخم جلال آباد روڈ اور افغان طلباء کے لیے وظائف کا ذکر بھی کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ’افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی افغانستان کی کامیابی ہے۔ میں ابھی اپنے بھائی سے کہہ رہا تھا کہ ہمیں افغانستان اور پاکستان کے لیے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے ہمیں زیادہ قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے۔ اور ہم نے پاکستان میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔‘ صدر حامد کرزئی نے اپنی تقریر میں کہا: ’یہ آج میرے لیے اور افغان قوم کے لیے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ ہمارے پڑوسی اور برادر ملک کے صدر، جنرل مشرف یہاں آئے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے لوگ اور حکومت افغانستان کی حامی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں ترقی اور تعمیر کا عمل جاری رہے۔‘ صدر جنرل مشرف کا یہ دورہ ان کوششوں کا حصہ ہے جو پاکستان گزشتہ تین سالوں سے کر رہا ہے تاکہ افغانستان کے بعض حلقوں میں پاکستان کے بارے میں موجود منفی تاثر کو زائل کیا جا سکے۔ ماضی میں افغانستان کے سرکاری حلقوں کی جانب سے اس طرح کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود طالبان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہا۔ تاہم جب سے پاکستانی فوج کے جنوبی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کے بعد اس طرح کے الزامات میں کمی آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||