 | | | صدر مشرف کا کہنا کہ صدر بش کو ان کے فوجی وردی پہننے یانہ پہننے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ |
واشنگٹن پوسٹ کے صحافی نے کہا ہے کہ انہوں صدر مشرف کا عورتوں کے بارے میں بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں بلکہ من و عن شائع کیا ہے۔ صدر مشرف کے اس بیان پر کہ پاکستان میں زنا بالجبر ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے، نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔ صدر مشرف نے بعد میں کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر معانی نہیں مانگیں گے کیونکہ واشنگٹن پوسٹ نے ان کے الفاظ کا غلط مطلب نکالا اور ان کو’misquote‘ کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی خبر کے مصنف گلین کیسلر نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ صدر کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا اور انہوں نے اس بیان کو لفظ بہ لفظ لکھا۔ گلین کیسلر نے مزید کہا کہ صدر مشرف کے عورتوں کے بارے میں بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نہیں چھاپا گیا بلکہ عورتوں کے بارے میں ان کے خیالات کو زیادہ نمایاں نہیں کیاگیا اور مضمون کے درمیان میں جا کر چھاپا تھا۔ گلین کیسلر نے کہا کہ صدر مشرف نے کہا تھا کہ ’ آپ کو پاکستان کے حالات کو سمجھنا چاہیے۔پاکستان میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو ویزہ لینا ہے تو وہ ریپ کرا لے تو وہ لاکھ پتی بن جائے گا اور اس کو کینیڈا کا ویزہ اور شہریت بھی مل جائے گی۔‘ واشنٹگن پوسٹ میں چھپنے والے آرٹیکل کے مصنف نے کہا کہ صدر مشرف نے عورتوں کے بارے میں اپنا بیان مختار مائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دیا تھا۔ صدر مشرف نے مختار مائی کو امریکہ جانے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کچھ ایسی تنظیموں کے زیر اثر ہے جو پاکستان کا نام بدنام کر رہی ہیں۔
|