BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 June, 2005, 19:10 GMT 00:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختاراں مائی پر پابندی کی تحقیقات

مختاراں مائی
’حکومت زیادتی کے واقعات کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے کی مخالف ہے۔‘
وزیر اعظم شوکت عزیز نے اجتماعی زیادتی کا شکار جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا کی مختاراں مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی تحقیقات کرنے کے لئے ایک کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کے وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مختاراں مائی کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا ہے۔ اس کے بعد مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ ان کے گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

تاہم وزیر اعظم کی مشیر برائے سماجی بہبود نیلوفر بختیار نے پیر کو ایوان بالا سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ مختاراں مائی کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور ان کی حفاظت کے لئے حکومت نے ان کے گھر کے سامنے پولیس چوکی بنائی ہے۔

نیلوفر بختیار نے کہا کہ حکومت مختاراں مائی کے نام سے مظلوم خواتین کے لئے ایک کرائسس سینٹر بھی میر والا میں قائم کر رہی ہے۔

انہوں نے مختاراں مائی کے حوالے سے حکومت پر حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ذاتی طور پر مختاراں مائی کو اپنا سکول قائم کرنے کے لئے پچاس لاکھ روپے دئے تھے۔

وزیر اعظم کی مشیر نے کہا کہ حکومت زیادتی کے واقعات کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے کی مخالف ہے۔ان کے مطابق اس سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکے مختاراں مائی کا کیس عدالت میں ہے لہذا اگر مدعی خود عدالت میں پیش نہیں ہو گا تو یہ کیس کیسے آگے چلے گا۔نیلوفر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے میلے کپڑے چوراہے میں نہیں دھونے چاہئیں اور اپنے زخم بین الاقوامی برادری کو نہیں دکھانے چاہئیں۔

وزیر اعظم کی مشیر کے اس بیان پر سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد رضا ربانی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مختاراں مائی کو عدالت میں پیش کرنا ہی مقصود تھا تو ان کا نام ای سی ایل پر کیوں ڈالا گیا اور اس کے بعد اس بات کی تحقیقات کا حکم کیوں دیا گیا کہ کس نے مختاراں مائی کا نام ای سی ایل پر ڈالا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی نے خود کہا ہے کہ انہیں گھر میں نظر بند رکھا جا رہا ہے اور ان کو ان کے وکیل سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

اس موقع پر امور داخلہ کے وزیر مملکت شہزاد وسیم نے کہا کہ مختاراں مائی کو گھر میں نظر بند نہیں کیا گیا۔انہوں نے انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں پر الزام لگایا کہ وہ مختاراں مائی کی مظلومیت کی قیمت لگا رہی ہیں۔ وزیر مملکت کے مطابق جو عناصر این جی اوز میں بیٹھے ہیں وہ ’جانی واکر اور جان’ کے ساتھ ایک ڈنر کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے این جی اوز کو چیلیں، گدھ اور کووں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مظلومیت کی لاش کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر اس کو کھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھر میں روشنی کے لئے گھر نہیں جلایا جاتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد