’مختاراں کو نظر بند نہیں کیا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ مختاراں مائی کو گھر میں نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کی ہے۔ یہ بیان انہوں نے سنیچر کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس وقت دیا جب حزب اختلاف کے رہنما رضا ربانی نے مختاراں مائی کو نظر بند کرنے اور ان کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کرنے پر احتجاج کیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔ وزیر نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کا نام ملک سے باہر جانے پر پابندی والی فہرست میں شامل ہونے کی تصدیق کی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر وہ ملک سے باہر چلی گئیں تو مقدمہ سرد مہری کا شکار ہوجائے گا۔ وزیر نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مختاراں مائی کی مکمل حفاظت کی جائے اور ان کے ساتھ مبینہ زیادتی کے ملزمان کو سخت سزا دلائی جاسکے۔ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے پروگرام میں شرکت کے لیے مختاراں مائی کو ملک سے باہر جانا تھا اور حکومت نے بدنامی کے ڈر کی وجہ سے ان کا نام ’ای سی ایل‘ میں شامل کیا۔ حزب اختلاف کے رہنما نے حکومتی اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ مختاراں مائی پہلے ہی زیادتی کا شکار ہیں اور اب حکومت انہیں حراساں کر رہی ہے۔ شہزاد وسیم نے کہا کہ حکومت کو کئی حلقوں سے یہ درخواست ملی کہ مختاراں مائی کو تحفظ فراہم کیا جائے اور جب حکومت نے ایسا کیا ہے تو حزب مخالف والے اس پر تنقید کر رہے ہیں اور اسے دوسرا رنگ دے رہے ہیں۔ ادھر سنیچر کے روز جب وزیراعظم شوکت عزیز سے پریس کانفرنس کے دوران مختاراں مائی کا نام ’ای سی ایل‘ میں شامل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائی کا نام متعلقہ فہرست میں شامل کرنے کی منظوری وزیراعظم سے نہیں لی گئی۔ مختاراں مائی کی حراست کے خلاف انسانی حقوق کے کمیشن کی چئر پرسن عاصمہ جہانگیر نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اتوار کی شام ایک پریس کانفرنس بلالی ہے۔ واضح رہے کہ تین برس قبل صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقع ایک قصبہ میر والی میں مقامی پنچایت کے حکم پر مختاراں مائی کی مبینہ طور پر سرعام اجتماعی طور پر عزت لوٹی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ملزمان کو سزائے موت سنادی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے ملزمان کو بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے اس وقت مختارمائی کی مکمل قانونی مدد کا اعلان کیا اور سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا تھا۔ عدالت اعظمیٰ کے اس حکم کے بعد چند دن قبل لاہور ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا جس پر مختاراں مائی نے سخت مایوسی ظاہر کی تھی۔ ایسی صورتحال میں مختاراں مائی پر اپنے قصبے کے چھوٹے سے گھر پر پولیس پہرا بٹھادیا گیا اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں حراساں کر رہی ہے۔ مختاراں مائی کو اپنے وکلا سے ملاقات کے لیے باہر جانے بھی نہیں دیا جاتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||