مجرم آزاد،مدعی قید ہیں: مختارمائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اجتماعی زیادتی کی شکارہونے والی مختارمائی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے کہ مجرم آزاد ہیں اور مدعی نظر بند۔ اتوار کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مختار مائی نے کہا کہ ان کا کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے انہیں عورتوں پر تشدد کے بارے میں ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لیے ایک پاکستانی تنظیم کی معرفت سے دعوت نامے ملے ہیں۔ اپنی مبینہ نظر بندی کے بارے میں مختارمائی نے کہا کہ بارہ دن قبل جب وہ اپنےگھر پر سو رہی تھی توعلاقے کے ایس ایچ او نے رات ایک بجے آ کرانہیں جگایا اور کہا کہ انہیں خبر ملی ہے کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ بعد مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میرا پاسپورٹ میرے پاس ہے یا نہیں جس سے مجھے لگتا ہے کہ انہیں مجھ سے زیادہ میرے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔ اس دوران پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مختارمائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے، ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے اور ان کو حفاظت کے نام پر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دینے پر حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر مختارمائی کا نام اڑتالیس گھنٹے کے اندر ای سی ایل سے نہ نکالا گیا اور ان کو بدستور گھر میں نظر بند کئے رکھا تو انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن ان کے گاؤں جا کر ان کو آزاد کرائیں گے۔ انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے اتوار کو کئی دیگر تنظیموں کے عہدیداران کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ مختارمائی کا نام پہلے تو ای سی ایل میں ڈالا گیا اور بعد میں ان کی رہائش گاہ پر حفاظت کے نام پر پولیس بٹھا دی گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے لاہور ہائی کورٹ کے طرف سے مختارمائی کے ساتھ زیادتی میں ملوث افراد کی رہائی کے حکم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فیصلہ دوپہر ڈیڑھ بجے دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج عام طور پر ڈیڑھ بجے تک نہیں بیٹھتے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے مختارمائی کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا اور ان کی رہائش گاہ پر پہرہ بٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب چیزیں پہلے سے طے شدہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سے مختارمائی اور ان کے گھر والوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے مطابق مختارمائی کا نام ای سی ایل پر ڈالنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ مختارمائی کو زبردستی ان کے گھر میں محبوس رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس بات کو تسلیم کرلے کہ مختار مائی کو نظر بند کیا گیا ہے تو انسانی حقوق کی تنظیمیں عدالت سے رجوع کریں گی مگر اگر حکومت اس بات پر اپنی پوزیشن واضح نہیں کرتی تو پھر انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن مختارمائی کے گھر جائیں گے اور ان کو گھر سے باہر نکالیں گے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ مختارمائی کو پستول کے زور پر گھر کے اندر رہنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت گینگسٹرز کی ہے جو لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان تنظیموں نے کہا کہ مختارمائی کے کیس کی اپیل پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں تین ماہ سے پڑی ہوئی ہے اور اس کی سماعت نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق مختارمائی کے وکیل چودھری اعتزاز احسن نے پاکستان کے چیف جسٹس کو لاتعداد خط لکھے ہیں کہ اس کیس کی سماعت کی جائے مگر ابھی تک سپریم کورٹ نے اس کیس کو عدالت میں سماعت کے لئے نہیں لگایا۔ ان تنظیموں کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے اس کیس کی سماعت کی تاخیر سے انصاف نہ ملنے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے الزام لگایا کہ انہیں مختارمائی کی جان جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو حکومت اس کی کلی طور پر ذمہ دار ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||