BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 June, 2005, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختاراں مائی کیس:آپ کی رائے
مختاراں مائی کو حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے امریکہ آنے کی دعوت ملی ہے
مختاراں مائی کو حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے امریکہ آنے کی دعوت ملی ہے
پاکستان کی حکومت نے مختاراں مائی کو ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ انہیں حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے امریکہ آنے کی دعوت ملی ہوئی ہے۔ پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کا نام ملک سے باہر جانے پر پابندی والی فہرست میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا ہے کہ مختاراں مائی کو گھر میں نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کی ہے۔ وزیر نے مختاراں مائی پر ملک سے باہر جانے کی پابندی کی وجہ یہ بتائی کہ اگر وہ ملک سے باہر چلی گئیں تو مقدمہ سرد مہری کا شکار ہوجائے گا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا مختاراں مائی کو امریکہ یا کسی دوسرے ملک جانے کی اجازت ہونی چاہئے؟ مختاراں مائی کیا کریں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
یہ مسئلہ صرف اور صرف زیادہ ڈالرز اکھٹے کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور یہاں کی نام نہاد این جی اوز نے اسے اشو بنایا ہے۔

ثنا خان، پاکستان:
واہ! کیا نظام ہے ہمارے ملک کا کہ ملظموں کو رہا کر دیا اور ایگزِٹ کنٹرول لِسٹ پر نام آگیا مختار مائی کا۔ حکومت کہتی ہے مختار مائی کو سیفٹی کی وجہ سے حراست میں رکھا جارہا ہے، تو جن لوگوس کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ ہے ان کو پکڑو ناں۔

سیف منّا، ملتان، پاکستان:
گورمینٹ نے جو فیصلہ کیا ہے مختار مائی کے بارے میں وہ سو فیصد صحیح ہے کیونکہ این جی اوز نے اسے ایک اشو بنا لیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ میں حکومت کے فیصلے سے متفق ہوں۔

ایم علی قریشی، پاکستان:
مختار مائی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینی چاہیئے تاکہ پوری دنیا کو پتا چلے کہ پاکستان میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔

مسعود رحمان، امریکہ:
مجھے اس بات کا بہت پہلے سے خدشہ تھا کہ حکومت مختار مائی کے کیس میں گڑبڑ ضرور کرے گی۔ آپ تو ملک سے باہر جانے کی باتیں کر رہے ہیں، حکومت نے تو گھر سے باہر جانے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ مختار مائی کو جیل بھیج دیں۔ کم از کم ان کی جان تو محفوظ رہے گی اور حکومت کا نام بھی روشن ہو جائے گا۔

میاں حسنین، کینیڈا:
مختار مائی کو امریکہ جانا چاہیئے۔ انہیں انصاف ملنا چاہیئے۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ انہیں امریکہ جا کر انصاف ملے گا تو انہیں امریکہ جانا چاہیئے۔

حسن بلوچ، ٹورانٹو، کینیڈا:
حکومتِ پاکستان جو کچھ کر رہی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عورت کے ساتھ ہونے والے ظلم کو ہمیشہ چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی اپنے گھر والے انصاف لینے سے روکتے ہیں اور کبھی گورمینٹ ڈرا دھمکا کر روکتی ہے، یا ملک سے باہر بھیج دیتی ہے۔ جنگل کا راج ہے، جنگل میں ایسا تو ہوگا۔ مختار مائی کو کہیں بھی جانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔آخر ان کا گناہ کیا ہے؟ جہاں تک ملک کی بدنامی کا سوال ہے، تو وہ کون سی نئی بات ہے؟ مختار مائی کے باہر جانے سے دنیا کو پاکستان کے بارے میں ایسا کیا پتا چل جائے گا جو اب تک چھپا ہوا ہے؟

عرفان عنایت، سیالکوٹ، پاکستان:
پتا نہیں اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر ظالم کی مدد کی جاتی ہے اور ہر مظلوم کو دبایا جا رہا ہے۔ ظالم دھندھناتے پھر رہے ہیں اور بےچارے مظلوم خوف و حراس کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب معصوم لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا جاتا ہے تب ملک کی بدنامی نہیں ہوتی، اور ایک مظلوم عورت کے ملک سے باہر چلے جانے سے ملک کی بدنامی ہے؟ خدا ہی ہے جو حکمرانوں کو عقل دے۔

مصطفیٰ کرم خیل، پاکستان:
پاکستان کے سبھی لوگ مختار مائی سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اگر وہ باہر چلی گئیں تو یہ بات پاکستان کے حق میں نہیں ہوگی کیونکہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی این جی او پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہی رہتی ہیں۔ ایسے کتنے ہی واقعات امریکہ میں بھی ہوتے ہیں مگر وہ ان کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ اگر مختار مائی ملک سے باہر چلی گئیں تو وہ ایک ایسے شخص کی نمائندگی کریں گی جس کے ساتھ پاکستان میں زیادتی ہوئی۔ کیا صرف ایک ایسے کیس کے لیے ملک کو بدنام کرنا صحیح ہے؟

مظہر عثمان، کلفٹن، پاکستان:
حکومت کیوں نہیں چاہتی کہ مختار مائی باہر جائے؟ اس لیے کہ وہ شرمندہ ہے، کیونکہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ ہوا اور اب اسے ڈر ہے کہ مختار مائی کو بین الاقوامی سطح پر ایکسپوجر ملے گا۔ میرے خیال میں اب حکومت کو حقائق کا سامنا کرنا چاہیئے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
ہرگز نہیں! کیوں؟ امریکہ کے پاس کوئی خاص چیز ہے جو وہاں جانے کے لیے بےتاب ہیں؟

عبدالحنان چودھری، فیصل آباد،پاکستان:
میں حکومت کے موقف سے پوری طرح متفق ہوں۔ مختار مائی کو امریکہ جانے کی اجاز ت بالکل نہیں ہونی چاہیئے، کیونکہ اگر وہ امریکہ چلی گئیں تو یہ پاکستان اور اسلام کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اگر ان کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے تو ملزموں کو بڑی سخت سزا ملنی چاہیئے۔ نہ جانے ہر دن کتنے اسی طرح کے واقعات پاکستان اور دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن صرف مختار مائی کے واقعہ کی ہی پبلسیٹی کی جا رہی ہے، باقی کی کیوں نہیں؟

عزیز رضوی، پاکستان:
حسب معمول پاکستانی حکومت بالکل منفی کام کر رہی ہے۔ اس سے مزید خون بہے گا۔ اس سب کی وجہ ہمارے قانونی نظام کی کمزوری ہے۔

قلب عباس قاضمی، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں مختار مائی کو شادی کر کے اپنے سسرال جانا چاہیئے ناکہ بیرون ملک۔ یہ تمام این جی اوز ان کے ساتھ ہوئی زیادتی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس سے مختار مائی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔

سعدیہ شمس، لاہور، پاکستان:
ہماری ہمدردی مختار مائی کے ساتھ ہے لیکن حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔ ہم صرف ایک مختار مائی کے لیے پوری حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ باقی رہی امریکہ کی بات، تو کبھی بھی ان کو اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

سلیم جان، کینیڈا:
میں حکومت کے موقف سے متفق ہوں۔ مختار مائی کو ’اپنا‘ کی دعوت پر امریکہ جانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیئے اور اگر ہو سکے تو انہیں میڈیا سے بھی دور رکھنا چاہیئے۔ این جی اوز کو تو اپنی شہرت بڑھانے کے لیے کسی بھی اشو کی تلاش رہتی ہے۔ اور اب جبکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں وہ مختار مائی کو امریکہ لے کر دنیا کے سامنے ایک غیر حقیقی خاکہ کھینچنا چاہتے ہیں۔

پرویز اختر، اومان:
پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔ دوسرا میں پاکستانی صدر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خود اس معاملہ پر توجہ دیں۔ ہمارے ملک کی بد نامی ہو رہی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارے ملک میں ’لا اینڈ آرڈر‘ نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور سب ملزم چھوٹ گئے ہیں۔

محمد اسلام شامنڈ، ملیشیا:
مائی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا لیکن وہ جو کچھ کر رہی ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اپنا فائدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کریم خان، کینیڈا:
مختار کو کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ باہر جا کر پاکستان اور اپنے آپ کو اور بھی بدنام کر دیں گی۔ معلوم نہیں لوگ شہرت کے لیے کیا کچھ کر لیتے ہیں۔

طاہر اقبال چودھری، جاپان:
مختار مائی کو باہر نہیں جانا چاہیئے کیونکہ اسلام مخالف لوگ ہر وقت پاکستان کے حلاف نئے اشوز کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سب سے پہلے اسلام، پھر پاکستان اور بعد میں اپنی ذات۔ مشرف صاحب کو ذاتی طور پر یہ معاملہ نمٹانا چاہیئے۔

عمران، فیصل آباد، پاکستان:
میرے خیال میں حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے بالکل صحیح ہے، کیونکہ مختار مائی اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔

شاہد لقمان، سعودی عرب:
یہ سب سیاست ہے اور پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں جو انصاف فراہم کرے۔

مدثر حسین، پاکستان:
مختار مائی کو امریکہ یا دوسرے ملکوں میں جانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر بھی اس کو پناہ ملنی چاہیئے۔ ویسے مختار مائی کو ملک چھوڑنا نہیں چاہیئے۔ اس کو ملک میں رہ کر ظلموں سے لڑنا چاہیئے۔

ساجد آفریدی، دبئی:
سب سے پہلے یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے پوری قوم کا سر جھُک گیا ہے۔ مختار مائی ایک مظلوم ہے۔۔۔جس کے ساتھ انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا۔۔حکومت انصاف کرنے کی بجائے مختار مائی ہی کو حراساں کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہیئے تھا کہ مجرموں کو ایسی سزا دیتی کہ باقی لوگ اس سے سبق لیتے، تاکہ دوبارہ کوئی اس طرح ساری قوم کا سر نہ جھُکا سکے۔۔۔جی ہاں مختار مائی کو باہر جانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

عرفان سہیل ملک، چکوال، پاکستان:
میرے خیال میں مائی کو باہر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے کیونکہ یہ ہمارے لیے بدنامی کا باعث ہےلیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومت نے ان کے لیے کیا کیا؟ ان کو اب تک انصاف کیوں نہیں ملا؟ اگر ہماری حکومت ایک عام شہری کو اس کا حق اور انصاف نہیں دے سکتی تو میرے خیال میں مائی کو باہر جانے کی اجازت دے دینی چاہیئے، کیونکہ مجرم اور ثبوت ہونے کے باؤجود ان کو انصاف نہیں مل رہا تو ان کے لیے اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی؟

خالد ملک، چکوال، پاکستان:
میرے خیال میں مختار مائی کو جو باہر سے تنظیموں نے جو تحفظ دلانے کی آفر کی ہے تو میرے خیال میں ان کو باہر جانے کی اجازت دے دینی چاہیئے کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ ان کو پاکستان میں انصاف مل سکے گا کیونکہ یہاں سب کے ضمیر سوئے ہوئے ہیں۔ آج نہ جانے کتنے ماہ ہو گئے، ان کو انصاف نہیں مل سکا۔۔۔

شاہ نواز شاہنی، راولپنڈی، پاکستان:
ایک بار کیس ختم ہو جائے پھر وہ جہاں چاہیں جا سکتی ہیں۔ ان کے بغیر کیس کیسے چلے گا؟ پچھلے کورٹ نے ملزمان کو چھوڑ دیا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس کیس کی بنیاد جھوٹ پر ہو۔

خالد عباسی، کراچی، پاکستان:
مختار مائی کو انصاف صرف پاکستان میں ہی مل سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی عدلیہ کچھ کر دکھائے۔ اس سے پہلے بھی کچھ مظلوم خواتین کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے جو کہ بہت ہی غلط ہے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
ایک ایسا کیس جس کو ساری دنیا کا میڈیا فولو کر رہا ہے، جب اس کا یہ حال ہو سکتا ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوتا ہوگا جن پر لوکل میڈیا تک کی نظر بھی نہیں پڑتی ہے۔ پاکستان کو اپنا جوڈِشری سیسٹم ٹھیک کرنا پڑے گا جو کہ مشکل نظر آتا ہے۔

راجہ یونس، سعودی عرب:
مختار مائی پر ہونے والا ظلم کوئی نیا نہیں ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں یہ عام سی بات ہے اور اگر کوئی ہائی لائٹ ہو گیا تو نیوز پیپرز اور میڈیا میں آ جاتا ہے ورنہ ہزاروں خواتین صرف عزت کے ڈر سے اپنے پر ہونے والے ظلم کا اظہار نہیں کرتی ہیں۔ مختار مائی ایک مظلوم عورت ہے اور اس کے ساتھ انصاف ہونا چاہیئے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر اور عدالت کسی ڈر کے بغیر انصاف کرے۔ جو سوسائیٹی یا ملک انصاف قائم نہیں کر سکتے وہ خود بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ مختار مائی کو اگر کوئی سپونسر کرتا ہے تو ان کو ضرور کسی بھی ملک جانے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔ ملزموں کو دوبارہ گرفتار کرکے سزا دینی چاہیئے۔

66آپ کی رائے
پاکستان میں بڑھتے ہوئےجرائم
66آپ کی رائے
مسلم ممالک میں خواتین کا کردار کیا ہے؟
66آپ کی رائے
مختاراں ریپ کیس، ملزمان کی رہائی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد