BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 21:28 GMT 02:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم: آپ کی رائے
کراچی کی ایک سڑک پر پولیس کے جوان
کراچی کی ایک سڑک پر پولیس کے جوان
پاکستان میں گزشتہ سات برسوں کے دوران چھیاسٹھ ہزار قتل، سولہ ہزار خواتین کی عصمت دری اور پچاس ہزار افراد اغوا کرنے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار منگل کے روزسینیٹ میں وفاقی وزیر داخلہ نے پیش کیے۔

سن اٹھانوے سے لے کر دو ہزار چار تک مجموعی طور پر قتل، عصمت دری، اغوا، شاہراہوں پر لوٹ مار، کار چوری، گھروں سے چوری اور بچوں کے ساتھ زیادتی یا اغوا کی کل پانچ لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔

سب سے زیادہ گھروں سے چوری کے مقدمات درج ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر قتل اور تیسرے نمبر پر اغوا کی وارداتیں ہوئیں۔وزارت داخلہ کے مطابق اس عرصہ میں اٹھارہ ہزار سے زیادہ کاریں چھینی گئیں اور پچاس ہزار سے زیادہ اغوا کی وارداتیں ہوئیں۔

ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں جرائم کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ آپ کے خیال میں پاکستان میں جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ان جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔


محمد آصف، کراچی:
جرائم کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔اس کے تمام تر توجہ لوگوں کو دین سے دور کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ جرائم میں اضافہ کی صورت میں ہی نکلنا ہے۔

وقار اعوان، کراچی:
کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان کی پولیس کو ختم کر دیا جائے تو جرائم میں اسیّ فیصد کمی ہوجائے گی۔

رضوان احسان، کراچی:
بے شک حکومت اس کی ذمہ دار ہے لیکن کیا ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟ ہم سب ایک نفسا نفسی کی زندگی گزار رہے ہیں جو صرف ہماری اپنی ذات کے گرد گھوم رہی ہے۔ جب ہم دوسروں کے بارے میں سوچنا شروع کریں گے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

نانا بھائی، کینیڈا:
جو لوگ پولیس اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں وہ بھول رہے ہیں کہ وہ لوگ ہم میں سے ہی ہیں، جاپان سے نہیں آئے۔ جرائم تو صرف ایک علامت ہیں دوسرے بڑے مسائل ً کی۔

نثار اللہ، فارسٹ گیٹ، برطانیہ:
پاکستاب کا واحد مسئلہ صرف اور صرف معاشی ہے اور وہی جرائم کا اصل سبب ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی:
جرم کے بڑھ جانے کی وجہ احساس محرومی ہوتا ہے۔ جب انصاف کا بول بالا نہ ہو، جب طاقتور کمزور پر حاوی ہو، جب عوام کو تعلیم سے دور رکھا جائے، جب ملک پر ڈکٹیٹروں کا راج ہوگا تو ملک میں جرائم بڑھتے رہیں گے۔

امجد فاروق، سرگودھا:
جرم کی سب سے بڑی وجہ نا انصافی ہے۔ اگر جرائم پر قابو پانا ہے تو ملک میں خلافت راشدہ قائم کرنا ہوگی۔

محمد شبیر، ٹورانٹو:
اگر لوگوں کوانصاف ملنا شروع ہو جائے تو کوئی جرم نہیں ہوگا۔اگر قانون کا خوف ہو گا تو جرم نہیں ہوں گے۔

گل انقلابی، دادو، سندھ:
اسّی فیصد واداتوں میں حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔

شرجیل امتیاز، برطانیہ:
پاکستان میں قانون تو ہے لیکن اس پر عمل ہیں۔ جب ہم اللہ کے قانون پر انسان کے بنائے ہوئے قانون کر ترجیح دیں گے تو کیا خاک تبدیلی آئے گی۔یہ سب باتیں اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جاتیں ہیں۔

فہد سعدی، دبئی:
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر جرائم یونیفارم والے کرتے ہیں۔بدعنوان سیاستدان، پولیس اور فوج نے عدالتی نظام کا ستیاناس کر دیا ہے اور وہ بھی مکمل طور پر کرپٹ ہو چکا ہے۔ ویسے تو کئی اسباب ہیں اس صورت حال کے لیکن نا اہلی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور کرپشن اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

محمد احمد مفتی، اونٹاریو، کینیڈا:
میرا خیال ہے پاکستان کو کینسر ہو گیا ہے۔ جرائم ہیشہ افراد معاشرے کی ہر سطح تک پھیل چکے ہیں۔ جس نوجوان کو دو منٹ میں دو ہزار روپے جرائم سے مل جائیں اس کو کوئی معمولی نوکری جرم سے باز نہیں رکھ سکتی۔

یہ وہ ملک ہے جہاں جرم کے خوف سے لوگ اچھی گھڑی بھی نہیں رکھ سکتے، خواتیں سونا نہیں پہن سکتیں، کاروباری حضرات موبائل فون نہیں رکھ سکتے اور جناب صدر ملک ملک دورے کر کے سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان میں جرائم پولیس اور سیاستدانوں کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔ عام آدمی کی اوقات ایک چوہے سے زیادہ نہیں پھر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

مصباح ملک، سعودی عرب:
دکھ کی بات ہے کہ ہماری حکومتیں بہت وعدے کرتی ہیں لیکن پولیس کے نظام کو نہیں بدلتیں۔اگر پولیس اور فوج کا نظام بدل جائے تو ہمارا ملک جنت بن سکتا ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے۔آمین

علی عمران شاہین، لاہور:
جب مجرم کو سزا نہیں ملےگی اور اور قانون نافظ کرنے والے اور انصاف دینے والے ادارے بھی خرید وفروخت کریں گے تو صورت حال ایسی کیوں نہ ہوگی۔ جب تعلیم کے نام پر جہالت پھیلائی جائے اور اسلام کی بجائے مغربی افکار کو پروان چڑھایا جائے تو پھر ایسا کیوں نہ ہو۔کیا سعودی عرب، جہاں شریعت اسلامی قائم ہے جرائم کی صورت حال ایسی ہی ہے؟ یقیناً نہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کے پاس ہر مشکل کا حل ہے۔ غیروں کے در پر بھیک مانگنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے اور ہونا چاہیے جیسا کہ پاکستان میں انگریزی نظام کی شکل میں موجود ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
ان اعداد و شمار سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارے وطن کے لوگ ہیں بہت جیالے جو ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں پل پل صورتحال بدلتی ہے۔

میرے اپنے عزیزوں کے ہاں بچوں کے سامنے گن پوائنٹ پر ڈکیتی ہوئی اور باوجود اطلاع دینے کے پولیس اور رینجرز اس وقت پہنچے جب ڈاکوجا چکے تھے۔ جب عوام کا جان و مال ہی محفوظ نہیں تو کوئی کس پر اعتبار کرے؟

شعیب، بنوں، پاکستان:
چوری ڈاکے وغیرہ ہر جگہ ہوتے ہیں، اور اگر عوام اسے ختم کرنا چاہے تو تب ہی یہ ختم ہو سکتا ہے۔

جینا مشکل
بہت مشکل کر دیا ہے جینا سیاست دانوں نے۔ بس اسی لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
ماجد، دوہا

ماجد، دوھا:
ماں کے پاس بچے کو دینے کو دودھ نہیں۔ باپ گھر کا سارا سامان کہاں سے لائے؟ بیٹا ڈگری لے کر کہاں جائے؟ بہت مشکل کر دیا ہے جینا سیاست دانوں نے۔ بس اسی لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

جہاں زیب سلیم، لاہور:
جب ایک تعلیم یافتہ شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق روزگار نہیں ملےگا تو وہ کیا کرے گا؟ اس کے پاس اپنا پیٹ بھرنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ ہے جرم۔

نویز رسول، امریکہ:
پولیس کچھ بھی نہیں کر رہی۔ اگر پولیس کو ٹھیک کر دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

نجم الحسن کھوسہ، ڈیرہ غازی خان:
ان اعداد و شمار سے تو حکومت کی قلی کھل گئی ہے جو دعوٰی کرتی ہے کہ جرائم پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جوں جوں آبادی بڑھ رہی ہے نہ تو لوگوں کو روزگار مل رہا ہے اور نہ ہی قانون پر عمل ہو رہا ہے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
جرائم کا یہ حال تقریباً تیسری دنیا کے ہر ملک میں ہے جس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور صحیح معاشی پالیسیوں کا نہ ہونا ہے۔ اس کی وجہ سے روزگار کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہر شخص خود کو اور اپنی فیملی کو غیر محفوظ سمجھتا ہے اور وہ خود کو معاشی طور پر محفوظ بنانے کے لیےزیادہ سے زیادہ پیسہ کم سے کم وقت میں کمانا چاہتا ہے جو کہ جرم کی اصل وجہ ہے۔

وصی اللہ وصی، میرپور خاص، پاکستان:
اللہ کا شکر ہے کہ حکومت نے کوئی بات تو سچ بولی جرائم کی اہم وجہ بے روزگاری اور غربت ہے اور جرائم پر قابو پانے کا صحیح حل ان دو چیزوں کو ختم کرنا ہے۔

تنویر احمد، ہڑپہ، پاکستان:
بہت سے لوگ بے روزگار ہیں جب ان کو نوکری نہیں ملتی تو گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے ان کو ناجائز ذریعوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

دوسری وجہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔اگر کسی کو پتا ہو کہ کہ جرم کرنے کی صورت میں اسے سزا ملے گی تو وہ کبھی بھی جرم نہیں کرے گا۔

عمیر حسین، پشاور:
پاکستان جب واقعی اسلامی جمہوریت بن گیا تو جرائم بہت کم ہوجائیں گے۔

فرحان ملک، کراچی:
پاکستان میں جرائم میں اضافہ قرآن اور سنت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ صرف اسلامی نظام سے ہی ان جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

فیصل انعام، دبئی:
بات یہ ہے کہ ان برائیوں کی طرف ابھی تک ہم نے سوچا ہی نہیں۔ ہماری حکومت اور سیاستدانوں نے آزادی کے اٹھاون سال گزر جانے کے بعد بھی عوام کو زندگی کے بنیادی مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ قوم کی ترقی کا خیال نہیں، بس اپنا کھانا پینا چلتا رہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
بی بی سی والو میں لکھ لکھ کر تھک چکا ہوں کہ جب ملک میں بھوک، افلاس، غربت، بے روزگاری، لاقانونیت ہو گی تو پھر جرائم اور بےراہروی میں اضافہ ہوگا۔

عقیل احمد، کراچی:
پاکستان میں امن وامان کی خراب صورتحال کی بڑی وجہ پولیس کا سیاست میں استعمال ہے۔ سیاسی مخالفین کو ڈرانے اور دبانے کا کام پولیس سے لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پولیس اپنے اصل فرض سے ہٹ جاتی ہے۔

دوسری بڑی وجہ پولیس ملازمین کی کم تنخواہیں ہیں۔ بارہ بارہ گھنٹے (اور وی آئی پی حضرات کی آمد ہو تو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے) ڈیوٹی کرنے والا پانچ ہزار روپے میں کیسے گھر چلا سکتا ہے اور اپنی ڈیوٹی سے کیسے انصاف کت سکتا ہے؟

قمر جاوید، فیصل آباد:
سب سے پہلے تو بے روزگاری بڑی لعنت ہے جس کی وجہ سے جرم جنم لیتا ہے اور اگر بے روزگار ہوں گے تو والدین اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے۔ کچھ ہمارے قانون کی وجہ سے بھی لوگ جرم کی دنیا کو اپنا لیتے ہیں اور انصاف بھی نہیں ملتا۔

ساجل احمد، نویڈا،امریکہ:
پاکستان میں کیا پوری دنیا میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وجہ ایک ہے،
بےروزگاری۔ لوگ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں پیسہ ہے تو سکون نہیں اور سکون ہے تو پیسہ نہیں۔اس کا اگر کوئی حل ہے تو کوئی اس پر عمل نہیں کرنا چاہتا۔

امین اللہ شاہ، میانوالی، پاکستان:
کسی زمانے میں غربت کو ام الخبائث کہتے تھے کہ یہی ہر جرم کی ماں ہے لیکن میرے خیال میں اس بد تر صورت حال کی ذمہ داری جہاں حکومت پر آتی ہے وہاں والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جو بچے پیدا تو کرتے ہیں لیکن ان کی تربیت نہیں کرتے۔

جرائم کو بڑھانے میں پولیس کے شعبے کا بھی کردار لاثانی ہے۔ پاکستان میں پولیس کے محکمے کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔

جمعہ خان، راولپنڈی:
جس ملک میں چور۔ چوکیدار، جاہل۔ عالم اور مسیحا۔ لٹیرے کا روپ دھار لے تو اس ملک میں یہی ہو سکتا ہے جو پچھلے سات سالوں میں ہوا ہے۔

محمد طارق، ٹورانٹو:
یہ سب غربت، بھوک اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہماری قیادت کو آپس میں الجھنے سے فرصت ملے تو شاید اس بارے میں بھی سوچا جا سکے۔

جبران حسنین، کراچی:
جرائم میں اضافہ کے سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ہے اور خود پولیس بھی۔ پولیس کا محکمہ ختم کر دیں تو چوریاں اور ڈکیتیاں ختم ہو جائیں گی اور اگر سیاسی پارٹیاں ختم کر دیں توقتل کی وارداتیں ختم ہو جائیں گی۔ مشرف صاحب بس اپنی کرسی محفوظ کر لیں عوام جائیں۔۔

مشرف حسین سید، کراچی:
یہ نہایت خطرناک صورتحال ہے۔ اس سب کے پیچھے ایک ہی سبب لگتا ہے اور وہ ہے ملک میں روزگار کی بگڑتی ہوئی شکل۔جب ہمارے جوانوں کے پاس اپنے بل دینے کے لیے مناسب روزگار نہیں ہوگا تو صاف ظاہر ہے وہ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلیں گے اور یہ جرائم پیشہ لوگ ان کو اپنے غلیظ مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔ اس کا واحد حل حکومت کے پاس ہے اور وہ ہے لوگوں کے لیے روزگار مہیا کرنا۔

66بلوچ، فوج اور مرکز
بلوچوں کے احساسِ محرومی کا ذمہ دار کون؟
66آپ کی رائے
قرآن کی بےحرمتی کے قوانین اور ان کا استعمال
66آپ کی رائے
آپ کی رائے میں کیا موت کی سزا صحیح ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد