 |  ایک نمائش میں رکھا جانے والا قرآن مجید کا نسخہ |
پاکستان میں صوبہ سرحد کے قصبے چراٹ میں پولیس کے مطابق تقریباُ چار سو افراد پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی بےحرمتی کے الزام میں ایک شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ مشتعل ہجوم نےمبینہ بے حرمتی کے الزام میں چالیس سالہ عاشق نبی کو پکڑنے کے لئے اس کا پیچھا کیا اورجب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تواس پرگولی چلا دی گئی۔ عاشق نبی پر الزام تھا کہ اس نے گھر پر بیوی کے ساتھ جھگڑے کے دوران قرآن کی بےحرمتی کی تھی۔ایک مقامی دینی رہنماء نے اس کی گرفتاری کے مطالبے کے لیے جلوس بھی نکالا۔ اس سے قبل پولیس نے عاشق نبی کےگھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں پاکستان میں اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں قرآن مجید یا رسالت کی توہین کے الزام پر لوگ پولیس کی حراست، عدالت کے باہر یا اپنے گھروں میں مارے گئے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا پاکستان میں مذہب کی بے حرمتی کے موجودہ قوانین متوازن ہیں؟ کیا ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے؟ اس قسم کے مبینہ جرائم قابل دست اندازی پولیس ہونا چاہیں؟ عاشق نبی کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ عاشق نبی کی بیوہ، مشتعل ہجوم، پولیس، مقامی دینی رہنماء، بے حرمتی کا قانون، یا کوئی اور؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔
سید احمر سہیل جعفری، بھکر: افسوسناک بات ہے کہ کورٹ تک بات پہنچی ہی نہیں اور فیصلہ کر دیا لوگوں نے۔ حکومت کو چاہیے کہ توہیں رسالت اور قرآن پاک اور اسلام کی بے حرمتی کرنے والے کسی بھی شخص کو سر عام سزا دے اور سخت سے سحت سزا دے جس کے بعد کسی کی ہمت نہ ہو کہ ایسا افسوس ناک واقعہ سامنے آئے۔ہاں البتہ جب گورنمنٹ کا اپنا رد عمل ہی اتنا سست ہے تو ایسے میں تو عوام صحیح کر رہی کہ موقعے پر ہی فیصلہ کر دیتی ہے۔ اے آر قریشی، ٹورانٹو: کیس کوئی بھی ہو قانون کسی کو بھی ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ اگرہر کوئی قانون کو ہاتھ میں لےگا تو قانون کا احترام کون کرےگا۔ شمسہ شمع، کھاریاں: سب سے پہلے انسان کو خود عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی دوسرے کو کہنے سے پہلے خود تو قرآن پر عمل کریں۔ طارق رانا، ملتان: ایک شخص نے قرآن مجید کی گستاخی کر دی تو اسے لوگوں نے مار دیا، اور وہ لاکھوں لوگ جو روز قرآن پر ہاتھ رکھ کرجھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، ان کے لیے اور ہمارے لیے جو قرآن کی عملی بے حرمتی کرتے ہیں کیا سزا ہے۔۔۔ یاسمین خان، امریکہ: یہ حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ لوگ قرآن پر عمل تو کرتے نہیں لیکن قرآن کو بچانے آجاتے ہیں۔ قرآن کا اصل دشمن وہ ہے جو اللہ کے کے کلام پر عمل نہیں کرتا۔ کسی کو دینی غیرت کے نام پر قتل کر دینا بالکل غلط ہے اور ایسی جہالت آپ کو صرف پاکستان میں ملے گی۔ اگر آپ کو کوئی اچھا نہیں لگتا اس پر بے حرمتی کا الزام لگائیں اور مروا دیں۔ ہمیں قرآن اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں۔ محمد مغل، امریکہ: قران کی بے حرمتی پر عوامی قتل تو جائز نہیں ہے لیکن جس طرح قومی پرچم کو جلانے پر قید اور سزائے موت ہے تو یہ رائے لینے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خدا کا کلام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ شہزاد ملک، ابوظہبی: ایک مسلمان کی حیثیت سے قرآن کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا لیکن رد عمل میں انتہا پسندانہ قدم اٹھانا بھی غلط ہے۔ قانون کا ایک سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ایسے واقعہ میں ملزم کی نیت اور اس کے حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔میرا خیال ہے اس بارے میں قانون کو مزید عقلی بنانے کی ضرورت ہے اور اگر کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے تو اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ آصف، برطانیہ: اس قسم کے قانون بالکل ٹھیک ہیں، ایسے شخص کو سر عام پھانسی دینا چاہیے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اللہ کے کلام کی بے حرمتی نہیں۔ موسی سراج، ٹورانٹو: یہ ایک قابل سزا جرم ہونا چاہیے لیکن شرعی قوانین کے تحت جو کہ پاکستان میں کبھی بھی فالو نہیں ہوتے۔ ملزم کو عدالت میں لے جانا چاہیے اور کسی کو اسلام کا ٹھیکیدار بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ خالد گرمانی، کوٹ چھٹہ، پاکستان: بعض اوقات آپ ایسے موقع پر رائے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ جہاں مسلمان بے بس ہوجاتا ہے۔ رہی بات ذمہ داری کی تو جو بوئے گا وہ کاٹے گا۔ توہین مذہب یا رسالت یا قرآن کی توہین کرنے والا خود ہی اس کا ذمہ دار ہے۔ بندہ اگر جرم کرنے سے پہلے سوچ لے تو اچھا ہے۔ اگر لوگ عدالت میں ثابت کر دیتے تو عاشق نبی کے لیے سزا سے بچنا مشکل تھا۔ایسے قونین کا غلط استعمال بہت کم ہوتا ہے لیکن مغرب شور برپا کر دیتا ہے۔ علی فاروق، ٹورانٹو: یہ ایک اور مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ دین کے دعویدار کس حد تک عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ کسی کو مجرم ثابت کر دینا اور وہ بھی بغیر صفائی کا موقعہ دیے، میری نظر میں خود ایک جرم ہے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ پولیسں کو ان مولانا کو چارج کرنا چاہیے جنہوں نےہجوم کو اکسایا۔ اعجاز سلیم، بارسلونا، سپین: مذہب کوئی بھی ہو انسان کو عزت دیتا ہے، اس کی پہچان کراتا ہے۔ عاشق نبی کی ہلاکت کا سبب اس کی کم عقلی تھی۔ عاتک رحمٰن، لندن، برطانیہ: اس طرح کے واقعات ہر دو طرف سے افسوسناک ہیں۔ اسلام میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی البتہ حضرت عمرفاروق کے قاتل کو جب ان کے بیٹے نے خود ہی قتل کر دیا تو ان پر مقدمہ چلا اور انہیں خون بہا دینا پڑا۔ چاند بٹ، جرمنی: سیلف جسٹس یا خود منصفی تو جنگل کا قانون ہے۔ مولوی صاحب کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ قاتلوں کا جلوس لے کر شہر میں دندناتے پھریں۔ پاکستان کا نام پہلے ہی بنیاد پرستوں میں شامل ہوتا ہے اور ایسے واقعات سے یہی واضع ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا کوئی ضابطہ پاکستانیوں کو پسند نہیں۔ کیا ایسا ہی ہوا تھا جیسا مولوی صاحب نے سنا تھا؟ کیا مقتول کا کوئی گواہ تھا؟ کیا مقتول نے اقرار جرم کیا تھا؟ پاکستان کی حکومت کا کنٹرول ختم ہو چکا ہے، یا تو پولیس کو ختم کیا جائے یا یہ ادارہ نئی بنیادوں پر بنایا جائے۔ دنیا چیخ رہی ہے، آخر ہم کب تک بہرے بنے رہیں گے؟ فرزانہ، پاکستان: نہایت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک تعلیم کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے کوئی قانون، اصول یا ریگولیشن نہیں ہیں۔ کسی پر بنا کسی تحقیق کے تشدد اچھی بات نہیں ہے۔جس نے بھی تشدد کیا ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔ اسلام ہمیں تشدد سے منع کرتا ہے اور یہ توایک مسلمان کا خون ہے۔ احمد جمیل ترک، لاہور، پاکستان: لوگوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اگر سارے فیصلے لوگوں نے کرنے ہیں اور خود ہی سزا دینی ہے تو پھر پولیس اور عدالتیں کس لیے ہیں؟ ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ کسی نے کوئی ذاتی بدلہ لیا ہے۔ پولیس تو اقتدار پر قابض لوگوں کی ڈیوٹی سے ہی فارغ نہیں ہوتی اور عدلیہ بھی بااثر لوگوں کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہے۔ لوگوں کو انصاف کہاں سے ملے؟ عمر وڑائچ، پاکستان: میرا خیال ہے کہ توہین رسالت کا قانون رہنا چاہیے تاہم میں اس کے حق میں نہیں کہ لوگ خود ہی سزا دیتے پھریں۔ ہمارے ہاں عدالتیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ لوگوں کو عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیں۔ زاہد مصطفٰے، ملتان: جو قرآن پاک کی بے حرمتی کرے اس کو ایسی ہی سزا دینا چاہیے تا کہ کوئی گستاخ دوبارہ ایسا کرنے کا سوچے بھی نہ۔ نصرامن اللہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پاکستان: عاشق نبی خود ذمہ دار ہے۔ عالیہ، برطانیہ: قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے کو یقیناُ سزا ملنی چاہیے لیکن اسلام یہ ذمہ داری حکومت کو دیتا ہے نہ کہ افراد کو۔ اگر افراد قانون کو ہاتھ میں لیں تو انہیں سزا ملنی چاہیے۔ ایس خان، برطانیہ: عوام کو اکسانے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے خلاف قانون ہونا چاہیے۔ جب بڑے بڑے سیاستدان خود مسئلے پارلیمان میں حل کرنے کی بجائے عوام کی عدالت کا نعرہ لگاتے ہیں تو مسجد کے مولوی صاحب بھی لیڈر بننے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے۔ منور جتوئی، امریکہ: ایک دفعہ حضرت عمر(رض) نے کہا تھا ’اے کعبہ تو میرے لیے مقدس ہے لیکن ایک مسلمان تجھ سے زیادہ مقدس ہے‘۔ قرآن انسانوں کے لیے ہے نہ کہ اس کے برعکس۔ ہمارے ملکوں میں لوگوں کو مذہب کا صحیح علم نہیں ہے، اسی لیے ان کے اعمال دیکھ کر غیر مسلمان بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ احمد رشید، سپین: پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عاشق بنی نے کچھ کیا بھی یا نہیں یا اس کو ناراض بیوی کی سزاملی جو شاید اب اس کی موت پر سب سے زیادہ رو رہی ہوگی۔ ہر چیز کا ایک چانون ہونا چاہیے اور کسی کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انورگنڈاپور، رو مران، فرانس: عاشق نبی کی ہلاکت کا ذمہ دار پورا معاشر ہے۔ کسی بھی حرم کی سزا ملکی قونین کے تحت ہونا چاہیے اور ملکی قوانین انسانی حقوق کے طابع ہونے چاہیے۔ اظفر خان، ٹورانٹو: اس ساری صورت حال کی ذمہ دار ہماری حکومت ہے۔ لوگوں کو عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں اسی لیے انصاف خود ہی کرتے ہیں۔ |