BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 June, 2004, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: توہین رسالت کا قانون
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کیلئے مخصوص ہے۔ اس صفحہ پر قارئین کی آراء اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں جن سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کے قاری حاجی علی نے کراچی سے توہین رسالت کے قانون کے متعلق ہمیں حسب ذیل مضمون بھیجا ہے۔ قارئین کو اظہار آزادی فراہم کرنے کی کوشش کے تحت ہم یہ مضمون شائع کررہے ہیں۔ آپ بھی اس موضوع یا دیگر کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھیں۔ حاجی علی کا مضمون حسب ذیل ہے:


توہین رسالت کے ملزم انور کینیتھ
توہین رسالت کے ملزم انور کینیتھ
توہین رسالت کا قانون تمام پاکستانیوں کے سروں پر لٹکتی ایسی تلوار کی مانند ہے جو کبھی بھی کہیں بھی کسی کے سر پر گر سکتی ہے۔ اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہیئے۔ آزادی اظہار رائے ہر انسان کا حق ہے اور اس حق کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے کسی بھی زندہ یا مردہ انسان کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث کی جاسکتی ہے۔اگر ایک شخص کو حضرت محمد سرتاپا خوبیوں کا مجموعہ نظر آتے ہیں اور وہ ان خوبیوں کا کھلے عام پرچار کر سکتا ہے توایک دوسرے شخص کو ان مبینہ خوبیوں سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے۔ اسے اظہار اختلاف رائے کا حق حاصل ہونا چاہیئے۔

حضرت محمد کی ذات یا ان کے کسی عمل سے متعلق سوالات کرنےکے جرم میں پھانسی پر لٹکانا قطعی غیر مہذب اور ظالمانہ فعل ہے۔ جب اللہ اور اس کے رسول کواپنے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات پر اعتراض نہیں تو ملا لوگ کیوں کر رسول کی حرمت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں؟ افسوس تو یہ ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے ترقی پسند مسلمان بھی اس قانون کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ ادھرآپ نے مذہب کے بارے میں کوئی سوال کیا یا اپنی رائے دی، ادھر آپ کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ قائم ہوا۔ فطری طور پر، میرے خیال میں کوئی صحیح الدماغ شخص، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، براہ راست حضرت محمد کے بارے میں گستاخانہ الفاظ استعمال نہیں کرسکتا۔ وہ مذہب یا پیغمبر کے بارے میں صرف سوال اٹھا سکتا ہے، یا اسے کسی خودساختہ مذہبی شق سے اختلاف ہوسکتا ہے اور وہ اس کا اظہار کردیتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ چند فرسودہ مذہبی روایات کو آج کے دور سے ہم آہنگ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اور اس کی اس کوشش کو توہین رسالت کے زمرے میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر میں اپنے دل کی یہ بات علی الاعلان کہتا ہوں کہ اذان دینے کیلئے اسپیکر استعمال نہ کیا جائے یا اگر کیا جانا انتہائی ضروری ہو، تو پورے شہر میں جگہ جگہ اسپیکر نصب کر کے ایک ہی وقت میں ریکارڈ شدہ اذان نشر کر دی جائے تاکہ جن لوگوں کو بار بار، جگہ جگہ سے بآواز بلند اذان سننے سے تکلیف ہوتی ہے، وہ کسی حد تک اس سے نجات پا سکیں، تو یقینا میری اس کوشش کو توہین رسالت سمجھا جائے گا اور مجھ پر کفر کا فتوی' لگا دیا جائے گا، حالانکہ میں خود کو مسلمان ہی سمجھوں گا۔

گلیلیو صحیح نہ تھا؟
 گلیلیو نامی سائنسدان جس نے سب سے پہلے اس حقیقت کو افشاکیا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، اسے مذہبی جنونیوں نے اس جرم میں پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا کہ اس حقیقت کے افشا سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے اور بقول ان کے، گلیلیو نے قانون قدرت میں دخل اندازی کی کوشش کی تھی۔

آزدئ اظہار خیال -- انٹرنیٹ کا شکریہ
انٹرنیٹ کا شکریہ جس نے ہم جیسوں کو اظہار رائے کا موقع فراہم کیا، وگرنہ تو جو سوال میں ذیل میں پوچھنے جا رہا ہوں، میرے دل ہی میں رہ جاتے۔ ہر ظلم، آمریت اور جبر کا ایک دن خاتمہ ہونا ہی ہے۔ اس میں دیر سویر ہوسکتی ہے لیکن مستقل یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ مولانا لوگوں کی اجارہ داری اور مذہبی جنونیوں کا جنون اب ان کے کسی کام نہیں آسکتا۔ انٹرنیٹ پرجو سوالات پوچھنے جا رہا ہوں، یہ قیامت تک اس پر رہیں گے اور انشااللہ میرے بہت سے سیدھے سادے، مولویوں اور مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں برین واش کیے گئے بھائیوں کو مذہب کے ان خودساختہ ٹھیکیداروں کے ٹرانس سے نکلنے میں مدد دیں گے۔ گلیلیو نامی سائنسدان جس نے سب سے پہلے اس حقیقت کو افشاکیا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، اسے مذہبی جنونیوں نے اس جرم میں پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا کہ اس حقیقت کے افشا سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے اور بقول ان کے، گلیلیو نے قانون قدرت میں دخل اندازی کی کوشش کی تھی۔

جب گلیلیو سے یہ کہا گیا کہ یا تو اپنے الفاظ واپس لے یا پھر پھانسی پانے کیلئے تیار ہوجائے تو اس نے کہا کہ میں آپ لوگوں کے دبا‌ؤ کے پیش نظر اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں لیکن یاد رکھو زمین آپ لوگوں کے دبا‌ؤ سے آزاد ہے، یہ سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور قیامت تک گھومتی رہے گی۔ بھلا ہو ان پادریوں کا جنہوں نے گلیلیو بیچارے کو ایک موقع تو دیا الفاظ واپس لینے کا، ہمارے پیارے پاکستان میں تومعافی کی قطعی گنجائش نہیں بلکہ یہاں تو اس قسم کے مجرم کو جیل میں قانون کے رکھوالے ہی جان سے مار دیتے ہیں۔ اے اللہ میرا تم سے شکوہ ہےکہ یا تو مجھے پاکستان میں پیدا نہ کرتا یا پھر سوچنے سمجھنے کی اس صلاحیت سے محروم رکھتا جس کا اظہار یہاں پر سوائے موت کے کچھ بھی نہیں۔ کیا میرے یہ سوالات توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں؟


لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کی ضرورت صدیوں رہی اور اس مقصد کیلئے اللہ تعالی' نے مختلف ادوار میں پیغمبر بھیجے۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار پیغمبر بھیجنے کے بعد حضرت محمد پر ہی نبوت ختم کر دی گئی؟ کیا بعد میں آنے والی صدیوں میں لوگوں کو ہدایت و رہنمائی کی ضرورت نہیں تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حضرت محمد نے رہتی دنیا تک اپنی اہمیت برقرار رکھنے کیلئے خود ہی آخری نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو؟

تبدیلئ مذہب کی اجازت؟
 جب حضرت محمد اور ان کے پیروکار اپنا آبائی مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوسکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا؟ دوسرا مذہب اختیار کرنے پر اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کاحکم کیوں دیا گیاہے؟

جب حضرت محمد اور ان کے پیروکار اپنا آبائی مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوسکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا؟ دوسرا مذہب اختیار کرنے پر اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کاحکم کیوں دیا گیاہے؟ کیا اس حکم سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مذہبی تبدیلی کی اجازت دینے سے حضرت کو مسلمانوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ تھا۔ کیا یہ حکم اس امر کا غماز نہیں ہے کہ حضرت نے مذہب کے فروغ کیلئے ’اسلام بذریعہ تبلیغ‘ کے بجائے ’خاندانی یا مورثی اسلام‘ کو ترجیح دی کیونکہ بذریعہ آبادی اسلام پھیلانے کا یہ سب سے آسان اور موثر فارمولہ تھا، جیسے جیسے آبادی بڑھے گی، مسلمان خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے، جو تبدیلی چاہے، اسے قتل کر دیا جائے، کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں؟

حضرت محمد نے اپنے خاندان یعنی آل رسول کو زکواۃ کی رقم دینے سے کیوں منع کیا ہے؟ کیا اس سے خاندانی بڑائی اور تکبر کی نشاندہی نہیں ہوتی؟ کیا رسول کا خاندان افضل اور باقی سب کمترین ہیں؟ بحیثیت انسان میں خاندانی افضلیت یا بڑائی تسلیم نہیں کرتا۔ خودحضرت محمد کا قول ہے کہ تم میں افضل وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں، تو پھر یہ قول ان کے اپنے خاندان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
حضرت محمد نے جہاد کا حکم کیوں دیا؟ جہاد کو اسلام کا پانچواں ضروری رکن کیوں قرار دیا؟ مال غنیمت کے طور پر دشمن کی عورتیں مسلمانوں کیلئے کیوں حلال قرار دیں؟ کیا عورتیں انسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں جنہیں مال غنیمت کے طور پر بانٹا جائے اور استعمال کیا جائے؟ مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کو جہاد قرار دے کر اسے اسلام کا پانچواں بنیادی رکن بنانے کی سزا ماضی کے لاکھوں کروڑوں معصوم انسان بے شمار جنگوں کے نتیجے میں اپنی جان مال سے محروم ہو کر بھگت چکے ہیں، اورعراق افغانستان جنگ کی شکل میں آج بھی بھگت رہے ہیں۔ آخر اس ’جہاد‘ کو بذریعہ اجتہاد ’جارحیت‘ کے بجائے ’دفاع‘ کیلئے کیوں استعمال نہیں کیا جاتا؟

عورت کی گواہی آدھی کیوں؟
 مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی گئی، والدین کی جائیداد سے عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دینے کا کیوں حکم دیا؟ کیا عورت مرد کے مقابلے میں کمتر ہے؟

حضرت محمد نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی، والدین کی جائیداد سے عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دینے کا کیوں حکم دیا؟ کیا عورت مرد کے مقابلے میں کمتر ہے؟ حضرت محمد نے خود نو شادیاں کیں اور باقی مسلمانوں کو چار پر قناعت کرنے کا حکم دیا؟ اس میں کیا مصلحت تھی؟ شریعت محمدی میں مرد اگر تین بار طلاق کا لفظ ادا کرکے ازدواجی بندھن سے فوری آزادی حاصل کرسکتا ہے تو اسی طرح عورت کیوں نہیں کر سکتی؟

حضرت محمد نے حلالہ کے قانون میں عورت کو کسی بے جان چیز یا بھیڑ بکری کی طرح استعمال کیے جانے کا طریقہ کار کیوں وضع کیا ہے؟ طلاق مرد دے اور دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو عورت پہلے کسی دوسرے آدمی کے نکاح میں دی جائے، وہ دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ جنسی عمل سے گذرے، پھر اس دوسرے شخص کی مرضی ہو، وہ طلاق دے تو عورت دوبارہ پہلے آدمی سے نکاح کرسکتی ہے؟ یعنی اس پورے معاملے میں استعمال عورت کا ہی ہوا، مرد کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ اس میں کیا رمز پوشیدہ ہے؟

حضرت محمد نے قصاص و دیت کا قانون کیوں وضع کیا؟ مثال کے طور پر اگر میں قتل کر دیا جاتا ہوں، اور میرے اپنی بیوی یا بہن بھائیوں سے اختلافات ہیں تو لازما ان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ میرے بدلے میں زیادہ سے زیادہ خون بہا لے کر میرے قاتل سے صلح کر لیں اور باقی عمر عیش کریں۔ میں تو اپنی جان سے گیا، میرے قاتل کو پیسوں کے عوض یا اس کے بغیر معاف کرنے کا حق کسی اور کو کیوں تفویض کیا گیا؟ کیا اس طرح سزا سے بچ جانے پر قاتل کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ کیا پیسے کے بل بوتے پر وہ مزید قتال کیلئے اس معاشرے میں آزاد نہیں ہوگا؟

ایسا کیوں؟
 پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شیخ، ایک پاکستانی کو قتل کرکے سزا سے بچ گیا کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل کو معاف کردیا تھا۔ اس قانون کے نتیجے میں صرف وہی قاتل سزا پاتا ہے جس کے پاس قصاص کے نام پر دینے کو کچھ نہ ہو۔

پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شیخ، ایک پاکستانی کو قتل کرکے سزا سے بچ گیا کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل کو معاف کردیا تھا۔ اس قانون کے نتیجے میں صرف وہی قاتل سزا پاتا ہے جس کے پاس قصاص کے نام پر دینے کو کچھ نہ ہو۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں، قیام سے لے کر اب تک، باحیثیت افراد میں سے صرف گنتی کے چند اشخاص کوقتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ملی، وہ بھی اس وجہ سے کہ مقتول کے ورثا قاتل کی نسبت کہیں زیادہ دولت مند تھے۔ لہذا انہوں نے خون بہا کی پیشکش ٹھکرا دی۔ اس قانون کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی باحیثیت شخص کسی کا قتل کر دیتا ہے تو قاتل کے اہل و عیال و رشتہ دار مقتول کے ورثا پر طرح طرح سے دبا‌ؤ ڈالتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں، جس پر ورثا قاتل کو معاف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا حضرت محمد نے اس قانون کو وضع کر کے ایک امیر شخص کو براہ راست ’قتل کا لائسنس‘ جاری نہیں کیا؟

اور اسی طرح کے بے شمار سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان کے بارے میں پوچھنا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟ جو حضرات ’ہاں‘ کہیں گے، ان سے صرف یہی عرض کر سکتا ہوں کہ حضرت محمد جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کرسکتے ہیں، چاند کو دو ٹکڑے کر سکتے ہیں، اتنے بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے قریبی نبی ہیں تو کیا وہ خود مجھے ان سوالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟ اگر ہاں! تو اے میرے مسلمان بھائیو! مجھ پراور میری طرح کے دیگر انسان مسلمانوں پر رحم کرو اور حضرت محمد کو موقع دو، کہ وہ خود ہی ہمارے لئے کچھ نہ کچھ مناسب سزا تجویز فرما دینگے۔

یاد رکھو! ایک مسلمان کا خون دوسرے پر حرام ہے اورکسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان کو صرف اس کی سوچ اور عقائد کی بنا پر کافر قرار دیدے۔ یہ تو تھا اسلامی فرمان، اب ایک انسانی فرمان بھی سن لیں کہ ’دنیا کے کسی بھی مذہب سے کہیں زیادہ انسانی جان قیمتی ہے‘۔ وما الینا الی البلاغ ۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد