پاکستان: توہین رسالت کا قانون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کیلئے مخصوص ہے۔ اس صفحہ پر قارئین کی آراء اور مضامین شائع کیے جاتے ہیں جن سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کے قاری حاجی علی نے کراچی سے توہین رسالت کے قانون کے متعلق ہمیں حسب ذیل مضمون بھیجا ہے۔ قارئین کو اظہار آزادی فراہم کرنے کی کوشش کے تحت ہم یہ مضمون شائع کررہے ہیں۔ آپ بھی اس موضوع یا دیگر کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھیں۔ حاجی علی کا مضمون حسب ذیل ہے:
حضرت محمد کی ذات یا ان کے کسی عمل سے متعلق سوالات کرنےکے جرم میں پھانسی پر لٹکانا قطعی غیر مہذب اور ظالمانہ فعل ہے۔ جب اللہ اور اس کے رسول کواپنے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات پر اعتراض نہیں تو ملا لوگ کیوں کر رسول کی حرمت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں؟ افسوس تو یہ ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے ترقی پسند مسلمان بھی اس قانون کا نشانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ ادھرآپ نے مذہب کے بارے میں کوئی سوال کیا یا اپنی رائے دی، ادھر آپ کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ قائم ہوا۔ فطری طور پر، میرے خیال میں کوئی صحیح الدماغ شخص، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، براہ راست حضرت محمد کے بارے میں گستاخانہ الفاظ استعمال نہیں کرسکتا۔ وہ مذہب یا پیغمبر کے بارے میں صرف سوال اٹھا سکتا ہے، یا اسے کسی خودساختہ مذہبی شق سے اختلاف ہوسکتا ہے اور وہ اس کا اظہار کردیتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ چند فرسودہ مذہبی روایات کو آج کے دور سے ہم آہنگ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اور اس کی اس کوشش کو توہین رسالت کے زمرے میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں اپنے دل کی یہ بات علی الاعلان کہتا ہوں کہ اذان دینے کیلئے اسپیکر استعمال نہ کیا جائے یا اگر کیا جانا انتہائی ضروری ہو، تو پورے شہر میں جگہ جگہ اسپیکر نصب کر کے ایک ہی وقت میں ریکارڈ شدہ اذان نشر کر دی جائے تاکہ جن لوگوں کو بار بار، جگہ جگہ سے بآواز بلند اذان سننے سے تکلیف ہوتی ہے، وہ کسی حد تک اس سے نجات پا سکیں، تو یقینا میری اس کوشش کو توہین رسالت سمجھا جائے گا اور مجھ پر کفر کا فتوی' لگا دیا جائے گا، حالانکہ میں خود کو مسلمان ہی سمجھوں گا۔
آزدئ اظہار خیال -- انٹرنیٹ کا شکریہ جب گلیلیو سے یہ کہا گیا کہ یا تو اپنے الفاظ واپس لے یا پھر پھانسی پانے کیلئے تیار ہوجائے تو اس نے کہا کہ میں آپ لوگوں کے دباؤ کے پیش نظر اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں لیکن یاد رکھو زمین آپ لوگوں کے دباؤ سے آزاد ہے، یہ سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور قیامت تک گھومتی رہے گی۔ بھلا ہو ان پادریوں کا جنہوں نے گلیلیو بیچارے کو ایک موقع تو دیا الفاظ واپس لینے کا، ہمارے پیارے پاکستان میں تومعافی کی قطعی گنجائش نہیں بلکہ یہاں تو اس قسم کے مجرم کو جیل میں قانون کے رکھوالے ہی جان سے مار دیتے ہیں۔ اے اللہ میرا تم سے شکوہ ہےکہ یا تو مجھے پاکستان میں پیدا نہ کرتا یا پھر سوچنے سمجھنے کی اس صلاحیت سے محروم رکھتا جس کا اظہار یہاں پر سوائے موت کے کچھ بھی نہیں۔ کیا میرے یہ سوالات توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں؟
جب حضرت محمد اور ان کے پیروکار اپنا آبائی مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوسکتے ہیں تو ایک مسلمان کیوں اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا؟ دوسرا مذہب اختیار کرنے پر اسے مرتد قرار دے کر اس کے قتل کاحکم کیوں دیا گیاہے؟ کیا اس حکم سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مذہبی تبدیلی کی اجازت دینے سے حضرت کو مسلمانوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ تھا۔ کیا یہ حکم اس امر کا غماز نہیں ہے کہ حضرت نے مذہب کے فروغ کیلئے ’اسلام بذریعہ تبلیغ‘ کے بجائے ’خاندانی یا مورثی اسلام‘ کو ترجیح دی کیونکہ بذریعہ آبادی اسلام پھیلانے کا یہ سب سے آسان اور موثر فارمولہ تھا، جیسے جیسے آبادی بڑھے گی، مسلمان خود بخود بڑھتے چلے جائیں گے، جو تبدیلی چاہے، اسے قتل کر دیا جائے، کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں؟ حضرت محمد نے اپنے خاندان یعنی آل رسول کو زکواۃ کی رقم دینے سے کیوں منع کیا ہے؟ کیا اس سے خاندانی بڑائی اور تکبر کی نشاندہی نہیں ہوتی؟ کیا رسول کا خاندان افضل اور باقی سب کمترین ہیں؟ بحیثیت انسان میں خاندانی افضلیت یا بڑائی تسلیم نہیں کرتا۔ خودحضرت محمد کا قول ہے کہ تم میں افضل وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں، تو پھر یہ قول ان کے اپنے خاندان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
حضرت محمد نے مرد کے مقابلے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں قرار دی، والدین کی جائیداد سے عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دینے کا کیوں حکم دیا؟ کیا عورت مرد کے مقابلے میں کمتر ہے؟ حضرت محمد نے خود نو شادیاں کیں اور باقی مسلمانوں کو چار پر قناعت کرنے کا حکم دیا؟ اس میں کیا مصلحت تھی؟ شریعت محمدی میں مرد اگر تین بار طلاق کا لفظ ادا کرکے ازدواجی بندھن سے فوری آزادی حاصل کرسکتا ہے تو اسی طرح عورت کیوں نہیں کر سکتی؟ حضرت محمد نے حلالہ کے قانون میں عورت کو کسی بے جان چیز یا بھیڑ بکری کی طرح استعمال کیے جانے کا طریقہ کار کیوں وضع کیا ہے؟ طلاق مرد دے اور دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو عورت پہلے کسی دوسرے آدمی کے نکاح میں دی جائے، وہ دوسرا شخص اس عورت کے ساتھ جنسی عمل سے گذرے، پھر اس دوسرے شخص کی مرضی ہو، وہ طلاق دے تو عورت دوبارہ پہلے آدمی سے نکاح کرسکتی ہے؟ یعنی اس پورے معاملے میں استعمال عورت کا ہی ہوا، مرد کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ اس میں کیا رمز پوشیدہ ہے؟ حضرت محمد نے قصاص و دیت کا قانون کیوں وضع کیا؟ مثال کے طور پر اگر میں قتل کر دیا جاتا ہوں، اور میرے اپنی بیوی یا بہن بھائیوں سے اختلافات ہیں تو لازما ان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ میرے بدلے میں زیادہ سے زیادہ خون بہا لے کر میرے قاتل سے صلح کر لیں اور باقی عمر عیش کریں۔ میں تو اپنی جان سے گیا، میرے قاتل کو پیسوں کے عوض یا اس کے بغیر معاف کرنے کا حق کسی اور کو کیوں تفویض کیا گیا؟ کیا اس طرح سزا سے بچ جانے پر قاتل کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟ کیا پیسے کے بل بوتے پر وہ مزید قتال کیلئے اس معاشرے میں آزاد نہیں ہوگا؟
پچھلے دنوں سعودی عرب میں ایک شیخ، ایک پاکستانی کو قتل کرکے سزا سے بچ گیا کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے کافی دینار لے کر قاتل کو معاف کردیا تھا۔ اس قانون کے نتیجے میں صرف وہی قاتل سزا پاتا ہے جس کے پاس قصاص کے نام پر دینے کو کچھ نہ ہو۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں، قیام سے لے کر اب تک، باحیثیت افراد میں سے صرف گنتی کے چند اشخاص کوقتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ملی، وہ بھی اس وجہ سے کہ مقتول کے ورثا قاتل کی نسبت کہیں زیادہ دولت مند تھے۔ لہذا انہوں نے خون بہا کی پیشکش ٹھکرا دی۔ اس قانون کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی باحیثیت شخص کسی کا قتل کر دیتا ہے تو قاتل کے اہل و عیال و رشتہ دار مقتول کے ورثا پر طرح طرح سے دباؤ ڈالتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں، جس پر ورثا قاتل کو معاف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا حضرت محمد نے اس قانون کو وضع کر کے ایک امیر شخص کو براہ راست ’قتل کا لائسنس‘ جاری نہیں کیا؟ اور اسی طرح کے بے شمار سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان کے بارے میں پوچھنا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے؟ جو حضرات ’ہاں‘ کہیں گے، ان سے صرف یہی عرض کر سکتا ہوں کہ حضرت محمد جب ایک رات میں ساتوں آسمانوں کی سیر کرسکتے ہیں، چاند کو دو ٹکڑے کر سکتے ہیں، اتنے بڑے مذہب کے بانی اور خدا کے سب سے قریبی نبی ہیں تو کیا وہ خود مجھے ان سوالات کی پاداش میں مناسب سزا نہیں دے سکتے؟ اگر ہاں! تو اے میرے مسلمان بھائیو! مجھ پراور میری طرح کے دیگر انسان مسلمانوں پر رحم کرو اور حضرت محمد کو موقع دو، کہ وہ خود ہی ہمارے لئے کچھ نہ کچھ مناسب سزا تجویز فرما دینگے۔ یاد رکھو! ایک مسلمان کا خون دوسرے پر حرام ہے اورکسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان کو صرف اس کی سوچ اور عقائد کی بنا پر کافر قرار دیدے۔ یہ تو تھا اسلامی فرمان، اب ایک انسانی فرمان بھی سن لیں کہ ’دنیا کے کسی بھی مذہب سے کہیں زیادہ انسانی جان قیمتی ہے‘۔ وما الینا الی البلاغ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||