BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 June, 2004, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہینِ رسالت کا قانون: آپ کی رائے اور سوالات
توہینِ رسالت کا قانون
توہینِ رسالت کا قانون
پاکستان میں توہینِ رسالت کا قانون ایک متنازعہ قانون رہا ہے۔مذہبی اقلیتیں اور انسانی حقوق کے کارکن اس قانون کو تنگ نظر مذہبی لابی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار قرار دیتے ہیں جس کے تحت اختلاف رکھنے والے کسی بھی شخص کو کہیں بھی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں متحدہ مجلسِ عمل اس قانون کی کھلی حامی ہے۔

جب صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں توہینِ رسالت کے قانون پر نظرثانی کی بات کی تو متحدہ مجلسِ عمل سمیت ملک کے اسلامی حلقوں نے اس کی اتنی شدید مخالفت کی کہ جنرل مشرف جیسے بظاہر طاقتور حکمران کو بھی یہ معاملہ پسِ پشت ڈالنا پڑا۔

اتوار تیرہ جون کو سیربین کے ٹاکنگ پوائنٹ میں بحث کا یہی موضوع ہوگا۔ ڈاکٹر یونس شیخ اور راحیل قاضی ہمارے پروگرام کے مہمان ہوں گے۔

ڈاکٹر یونس شیخ کو پاکستان میں توہینِ رسالت کے قانون کے تحت سزا سنائی گئی تھی تاہم وہ بعد میں بے گناہ قرار پائے اور آج کل وہ یورپ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

راحیل قاضی متحدہ مجلسِ عمل کی رکن اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی صاحب زادی اور جماعت کے پالیسی ساز سیل کی اہم رکن ہیں۔

توہینِ رسالت کے قانون کے متعلق آپ کیا سوچتے ہیں؟



یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

مصطفیٰ محمد، لاہور: جنرل ضیاء کے دور میں قائم ہونے والے بہت سے مسائل میں سے یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ کئی غیراسلامی قانون اسلام کے نام پر لاگو کیے گئے۔ اسلام امن کا مذہب ہے۔ پیغمبر اسلام نے خود اپنے دشمنوں کو معاف کردیا اور ان کے لئے دعائیں دیں۔

نعمان انقلابی، اسلام آباد: میں سمجھتا ہوں کہ یہ قانون سو فیصد صحیح ہے لیکن اس میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر پہلے تحقیقات کی جانی چاہئیں کہ توہین رسالت کا مرتکب ہے یا نہیں؟

شریف مسیح، لاہور: دو سو پچانوے سی پاکستان میں اقلیتیوں کے لئے خطرناک ہے۔ ایک بار ایک مولوی صاحب نے یہ قانون میرے اوپر نافذ کرنا چاہا لیکن میرے مسلم دوستوں نے مجھے بچالیا ورنہ مجھے موت کی سزا دیدی جاتی۔

دوسرے پیغمبروں کے حق میں بھی
 یہ قانون پیغمبر محمد کا ہی دفاع نہیں کرتا ہے بلکہ دوسرے مذاہب کے بانیوں کے حق میں بھی ہے۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اس قانون کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ اس کا مطلب ہے کہ وہ مسلم آبادی والے علاقوں میں فکرمند نہیں ہیں۔
خلیل الرحمان، میرپور خاص، پاکستان

خلیل الرحمان، میرپور خاص، پاکستان: یہ قانون پیغمبر محمد کا ہی دفاع نہیں کرتا ہے بلکہ دوسرے مذاہب کے بانیوں کے حق میں بھی ہے۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اس قانون کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ اس کا مطلب ہے کہ وہ مسلم آبادی والے علاقوں میں فکرمند نہیں ہیں۔

سعید کھٹک، نوشہرہ: میری محترمہ راحیل قاضی سے یہ سوال ہے کہ وہ ہمیں وہ حدیث وضاحت سے سمجھا دیں جس میں توہین رسالت والے کو واجب القتل قرار دیا گیا ہے اور بخاری شریف کا صفحہ نمبر بھی بتادیں اور راوی کا نام بھی۔

عنایت علی خان، دوبئی: حکومت بنیادی مسائل پر توجہ دے جیسے بےروزگاری اور ترقی وغیرہ۔

مرتضیٰ بھوجانی، کراچی: میرا خیال ہے کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور یہاں کے لوگ رسول سے محبت کرتے ہیں۔ لہذا اس قانون میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ حکمرانوں کا فرض ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بے گناہ کو اس قانون کے تحت سزا نہ ہو۔

عفت سعید چودھری، ساہیوال، پاکستان: کیا انسان کے بنائے ہوئے قانون کو دوبارہ انسان ہی ملکر اس میں کچھ اصلاح نہیں کرسکتے؟ اگر کرسکتے ہیں تو پھر پارلیمنٹ ملک اس کا کوئی حل کیوں نہیں نکالتا؟ ہم لوگ کب تک نن-ایشوز کی سیاست کریں گے؟

محمد اکمل، دوبئی: میری رائےتو کیا سب مسلمانوں کی رائے یہی ہے کہ ہم پیدا ہی نبی پاک کے صدقے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ پاک نے کہا ہے کہ اگر میں پیغمر محمد کو پیدا نہ کرتا تو میں دنیا کی کوئی چیز اور کوئی مخلوق پیدا نہ کرتا اور نبی پاک کی بڑائی میں اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ایمان والو نبی کی آواز سے اونچی آواز مت نکالو کہیں تہمارے اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ تو اے میرے محترم پروگرام انچارج مسلم تو کیا غیرمسلم بھی ہمارے نبی پاک کی ریسپیکٹ کرتے ہیں اور اگر کوئی بدبخت نعوذباللہ ایسی گستاخی کرے تو اسے مکمل تحقیق کے بعد فوری سزا دینی چاہئے۔

محمد عثمان علی قادری، گجرات، پاکستان: توہین رسالت کا قانون اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ یہ قانون اس لئے بنا کہ کوئی شخص رسول اللہ کی شان میں گستاخی نہ کرے اور مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔

جہانگیر احمد، دوبئی: میرا سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسال حضرت محمد کے زمانے میں ہوئی تو اس کی کیا سزا ملی؟ اور اس کا کیا حال نکالا گیا تھا؟

فرحان، کینیڈا: اسلام کے ماننے والوں نے اسلام کو ایک مشکل مذہب بنادیا ہے جس میں محبت اور معاف کردینے کی فطرت نہیں رہی۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کا حق صرف اللہ کو ہے۔

یاسر ممتاز، رینالہ خرد: صرف موت کی سزا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس کی تو سزا یہ ملنی چاہئے کہ دوسروں کے لئے نمونہ بنے۔

شبیر نعمانی، جیک آباد: ڈاکٹر یونس سے پوچھنا ہے کہ اگر کوئی بدبخت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرے تو کیا اسے معاشرہ برداشت کرےگا؟

آپ کو کس نے حق دیا؟
 اسلام تو امن کا مذہب ہے، ہمیں کس نے اختیار دیا ہے کہ کسی کو مسلم یا غیرمسلم قرار دیں؟
سلمان اختر، مانچسٹر

سلمان اختر، مانچسٹر: میرے خیال میں دوسو پچانوے سی توہین رسالت کا قانون پاکستان کی اقلیتوں کے سرپر لٹکتی ہوئی ایک ننگی تلوار ہے جس کو ملا کسی کے بھی خلاف استعمال کرکے سزا دلوا سکتے ہیں۔ اسلام تو امن کا مذہب ہے، ہمیں کس نے اختیار دیا ہے کہ کسی کو مسلم یا غیرمسلم قرار دیں؟

جاوید اقبال، جرمنی: مسلمان ہونے کے ناطے کسی کی اجازت نہیں کہ پیغمبر کے بارے میں بات کرے، ہمارے نبی دنیا کی تمام قوموں کے لئے ماڈل تھے۔

ارسلان قریشی، سعودی عرب: کافی لوگ اس قانون کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ پہلے اس طرح کے واقعے کی تحقیق کرنی چاہئے کہ ملزم توہین رسالت کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں، پھر اس کو سزا دینی چاہئے۔ میرے خیال سے یہ قانون بالکل ٹھیک ہے۔

خالد چودھری، دوبئی: توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کردینا چاہئے۔

ححسیب حسین، کراچی: سوال تو یہ ہے کہ کوئی توہین رسالت کرے ہی کیوں؟ نبی اکرم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟ بلکہ سب سے بڑے محسن انسانیت ہمارے نبی تھے۔ اگر کوئی توہین رسالت کا مرتکب ہے اور ساتھ ساتھ مسلم ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے تو وہ سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے۔ اور میرے خیال میں یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مشرف صاحب بحث کریں۔

عبدالمومن خواجہ، اوسلو: اس قانون کو فوری طور طر ختم کرنا چاہئے۔

بشیر احمد ناظمی، ڈنمارک: بنیادی طور پر قانون صحیح ہے۔ مگر اس کے طریقہ کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ کوئی اس کا غلط استعمال نہ کرسکے جیسا کہ اب تک کئی مرتبہ ہوا ہے۔

محمد لطیف، کویت: یہ قانون بالکل ٹھیک ہے اور اسے نافذ العمل ہی رہنا چاہئے۔ البتہ سزا دینے سے پہلے مکمل تحقیق ہونی چاہئے اور کوئی مسلمان اسے اپنے ذاتی مفاد میں استعمال نہیں کرے۔

غفار پنڈرانی، لڑکانہ سندھ: توہین رسالت کا قانون ایک سیاہ قانون ہے جو انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قانون کا جڑ سے خاتمہ ہونا لازمی ہے ورنہ ملا اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے۔

کاشف علی جادوں، پشاور: یہ کافی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جو لوگ اس میں ملوث ہیں انہیں حکومت کو چاہئے کہ سخت سزا دے۔ لیکن حالات الٹے ہیں، حکومت خود ہی قانون بدلنا چاہتی ہے۔

کفایت اللہ خان یوسفزئی، پشاور: توہین رسالت کے سلسلے میں کوئی بھی قانونی تبدیلی یا ترمیم پاکستان کے کسی بھی مسلمان کے لئے کسی صورت میں قابل و قبول نہیں ہے، یہ ہردل پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔

قانون کا غلط استعمال
 پاکستان میں توہین رسالت دراصلہ مولوی کی توہین ہے۔ وہ شخص جو مولوی کو اچھا نہیں لگتا چبھتے ہوئے سوالات کرتا ہے۔ اسے گستاخئ رسول قرار دیکر مار دینے کی کوشش ہوتی ہے۔
پرویز مخدومی، گجرانوالہ

پرویز مخدومی، گجرانوالہ: پاکستان میں توہین رسالت دراصلہ مولوی کی توہین ہے۔ وہ شخص جو مولوی کو اچھا نہیں لگتا چبھتے ہوئے سوالات کرتا ہے۔ اسے گستاخئ رسول قرار دیکر مار دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ ہمارے گجرانوالہ میں ایک جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حافظ تھا جس کو لوگوں نے توہین رسالت کا الزام لگاکر ماردیا۔

عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: مغرب میں بسنے والے پاکستانیوں کو نہیں معلوم کہ اسی طرح کے قوانین مغربی ملکوں میں ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی توہین کے خلاف قوانی ہیں۔

شہزاد یونس، کویت: یہ قانون رہنا چاہئے، نبی اکرم کے دور میں ایک ایک یہودی اور ایک مسلمان کے درمیان کوئی تنازعہ ہوگیا اور آپ نے فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔ وہ مسلم حضرت عمر کے پاس اپنا مقدمہ لے گیا کہ دیکھیں میں مسلمان ہوں اور نبی اکرم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے۔ تو حضرت عمر نے اپنی تلوار سے اس مسلم کا سرقلم کردیا۔۔۔۔

طارق شاہ، لاہور: یہ قانون قرآن پر مبنی ہے، پہلیز صدر صاحب اسے نہ چھیڑیں۔

مزمل مفتی، پاکستان: کیا مشرف صاحب کو اگر کوئی گالی دے تو اسے چھوڑ دیں گے؟ اسی طرح کوئی توہین رسالت کے قانون کو غیرضروری کیوں کہتا ہے؟

سراج الحق، چشمہ، میانوالی: توہیں رسالت ایک حساس مسئلہ ہے۔ کسی کو کوئی ایسی بات اور عمل کرنے کے اجازت نہیں ہونی چاہئے جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ اگر مسلمان بھی کسی دوسرے مذہب کے خلاف کوئی بات کریں تو ان کو بھی سزا ملنی چاہیے۔

حامد احمد چوہدری، جرمنی: کوئی بھی انسان ، چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، حضرت محمد کی بے حرمتی نہیں کر سکتاِ۔ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ پاگل تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اسے قتل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی ایک بھی مثال موجود نہیں کہ حضور کی زندگی میں کسی کو توہین رسالت پر قتل کی سزا دی گئی ہو۔

منیر حسین، اسلام آباد: نبی پاک نے اپنی زندگی میں کسی کو توہین رسالت پر سزا نہیں دی لیکن نبی پاک کے متعلق کچھ پروٹوکول اللہ نے بنا دیا ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ لہذا نبی پاک کی توہین ایک قابل سزا جرم ہے۔ اگر کوئی اسکا غلط استعمال کرے تو یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔

عتیق الرحمن ملغانی، چشمہ، پاکستان: جو بھی توہین رسالت کا مرتکب ہو، وہ واجب قتل ہے۔ جو اس کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں ہے۔

حساس مسئلہ
 توہیں رسالت ایک حساس مسئلہ ہے۔ کسی کو کوئی ایسی بات اور عمل کرنے کے اجازت نہیں ہونی چاہئے جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ اگر مسلمان بھی کسی دوسرے مذہب کے خلاف کوئی بات کریں تو ان کو بھی سزا ملنی چاہیے۔
سراج الحق، چشمہ، میانوالی

محمود اختر، متحدہ عرب امارات: اس قانون کو اب تک پاکستان میں وڈیروں اور چوہدریوں نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا ہے۔ یعنی طاقتوروں نے قرآن اور سنت کے نام پر اپنی دشمنی نکالنے کے لئے کمزوروں پر ظلم کیا ہے۔

ناصر خان، کینیڈا: توہین رسالت کا قانون اور اس کی سزا بالکل ٹھیک ہے کیونکہ علماء کا بھی یہی کہنا ہے۔ اگر کوئی توہین رسالت کرے تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔

خالد سیف اللہ، بلجیم: توہین رسالت کا قانون انتہائی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے اور اس کا انصاف سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ملا ؤں نے اس کو اپنی دکانداری اور روزگار کو جاری رکھنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ اس کو فوراً ختم کر دینا چاہیے۔

سلطان، اٹلی: توہین رسالت کے مرتکب کو دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ اگر کوی نبی پاک کے خلاف اپنے دل میں بھی بغض لے آئے تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔

رفیع عامر، امریکہ: اگر کوی عیسائی ملک یہ قانون بنا دے کہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا ماننے سے انکار کرنے والے کی سزا موت ہو گی تو ایسی صورت میں پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے حمایتیوں کا کیا ردعمل ہوگا۔

شہزاد احمد، پاکستان: اس جرم کے لئے موت کی سزا بہت کم ہے۔ توہین رسالت کی سزا کو مزید مثالی بنانا چاہیے۔

ندیم فاروقی، پاکستان: توہین رسالت کے قانون میں کوئی خرابی نہیں، اصل مسئلہ اس کا غلط استعمال ہے۔ اگر اس قانون کے غلط استعمال پر قابو پا لیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

رضوان الحق، فرانس: پاکستان میں توہین رسالت کا قانون معاشرے میں شدت پسندی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس قانون کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور اس کے لئے ایف آئی آر درج کرنے سے قبل اچھی طرح تحقیق ہونی چاہیے۔

لیاقت علی، امریکہ: یہ قانون ملاؤں کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ دراصل اس قانون کے ذرعے یہ لوگ اپنی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔

اقلیتوں کے مفاد میں نہیں
 یہ قانون صرف اقلیتوں کے خلاف ہے اور نبی پاک سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ملاؤں نے اس قانون کو معصوم لوگوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے جس پر وہ اللہ کہ سامنے جواب دہ ہوں گے۔
نعمان سیگل، امریکہ

نعمان سیگل، امریکہ: یہ قانون صرف اقلیتوں کے خلاف ہے اور نبی پاک سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ملاؤں نے اس قانون کو معصوم لوگوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے جس پر وہ اللہ کہ سامنے جواب دہ ہوں گے۔

محمد عباس، شارجہ: توہین رسالت کی سزا موت سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے۔ گستاخ رسول واجب قتل ہے چاہے وہ کسی بھی رسول کے خلاف گستاخی کرے۔ اس قانون میں با لکل تبدیلی نہیں ہونی چاہیے ورنہ معاشرے متیں فساد مچ جائے گا۔

طارق بٹ، کراچی: میری خیال میں یہ قانون غیر منصفانہ ہے اور اسے فوراً منسوخ کر دینا چاہیے۔ جب نبی پاک نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنی توہین پر سزا نہیں دی تو ہم اسلام کی روح کے خلاف قوانین بنانے والے کون ہوتے ہیں۔

محمد امین، امریکہ: میرے خیال میں اس قانون میں شدت پسندی کا کوئی پہلو نہیں۔ اس کو نافذ کرنے سے پہلے قانون کے ماہرین نے ہر پہلو سے اس کا جائزہ لیا تھا اور تمام فقہوں کا اس پر اتفاق ہے۔

افتخار راجپوت، لاہور: توہین رسالت کا قانون توٹھیک ہے لیکن اس سے کسی بے قصور کو نہیں مرنا چاہیے۔

تنویر عالم، دہلی، بھارت: اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم شریعت کی روح کے خلاف ہو گی۔

کاشف، کینیڈا: کیا حضور کی حیات میں یہ قانون تھا؟ مکہ کے لوگ تو حضور پر پتھر پھینکا کرتے تھے اور جواب میں حضور کا کیاردعمل تھا۔ اسلام پیار اور محبت سے پھیلا ہے اور ایسے قوانین کے ذریعے نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد