حاجی علی کے مضمون پر ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمد صدیقی، کراچی: یہ سب وہی روایتی اعتراضات ہیں جن کا کئی دفعہ جواب دیا جاچکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں چھاپنے کا مقصد صرف مسلمانوں کو اشتعال دلانا ہے۔ معین الدین، جرمنی: حاجی علی صاحب کے خط کا اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ آزادئ اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک انپڑھ آدمی کی رائے کو ایک علمی کاوش میں شامل کرکے اس کاوش کے مقصد کو نقصان پہنچایا جائے۔ اس معاملے کے صرف دو پہلو ہیں۔ ایک: حضرت محمد (ص) نے اور خلفاء نے اس سزا کا کبھی نہیں سوچا تھا، پھر اب کیوں؟ یہ بدعت ہے۔ سیکنڈ یہ اس طرح کے ملک میں نافذ ہے اور اس کو سپورٹ بھی وہی مولوی کرتے ہیں اور ان لوگوں کی تجویز ہے جن کو اسلام کا صرف پولیٹیکل مطلب آتا ہے اور وہ اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصدر صرف یہ ہے کہ ہم ہر دوسرے کے مذہب کی تضحیک کرلیں لیکن اگر کوئی اس ظلم کی وجہ سے کچھ کہے تو اس کو مار دیا جائے۔اس طرح کی تحریروں کا فائدہ کچھ نہیں۔اب بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔۔ صالح محمد، راولپنڈی: میرا خیال ہے کہ حاجی علی کا مضمون کچھ زیادہ غلط بھی نہیں۔ لیکن وہ کسی تعلیم یافتہ اسکالر سے رجوع کریں تو ان کے کافی سوالات کا جواب انہیں مل بھی جائے گا۔ ایجوکیٹیڈ اسکالرز کی کمی نہیں۔ وجاہت فیروز، ٹورانٹو: میرے جس بھائی نے بھی یہ لکھا ہے اس کو فوری طور پر پہلے توبہ کرلینی ہے۔ مجھے یہی کہنا ہےکہ وہ اپنی تعلیم اسلام کے حوالے سے زیادہ کرو، تمہارے سارے سوالات میں ہی تہمارے جوابات ہیں۔ اللہ تہمیں اپنے حبیب پاک کے صدقے میں معاف کرے۔ امجد علی: میں نے توہین رسالت کے قانون پر بی بی سی کا ڈیبیٹ سنا۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ہمارے یہاں پاکستان میں آج کے دور میں اس طرح کا ایک قانون ہے۔ واضح وجوہات کی وجہ سے مشرف اس میں تبدیلی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ دوسرے مسلم مثال کے طور پر ۔۔۔۔ ان کا قتل کردیں گے۔ میں ایک پاکستانی ہوں اور ایک مسلم بھی اور میں اس طرح کے قانون کے خلاف ہوں۔۔۔۔۔ فہیم، اسلام آباد: بی بی سی کو تو حاجی علی جیسے لوگوں کا مضمون ملا، مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے؟ محمد یوسف اقبال، دوبئی: آزادئ اظہارِ یال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کی تذلیل کریں۔ اور ایک آدمی ایسی بات کرے جس سے کروڑوں لوگوں کو افسوس ہو اس آدمی کو اظہار خیال کرنا نہیں چاہئے۔اس وجہ سے بہت سے لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ مجھے حاجی علی سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔ ایسے انسان اپنے عقیدے کے کچے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو صرف برائیاں نظر آتی ہیں۔ اور مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی سی بھی اس قسم کے مضمون پبلِش کررہی ہے جس سے ہمارے دلوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ان کے سب سوالوں کا جواب میرے پاس ہے۔ مگر اس کو کیا سمجھائیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ان کے ”عقلوں” پر تالے ڈال دیے گئے ہیں۔ ان سے بات کرنا فضول اور ان کو سننا بھی فضول۔ مجھے کم سے کم انفارمیشن ہونی چاہئے کہ اس آدمی کا مشاہدہ کیا ہے، اس کی ایجوکیشن کیا ہے، اس کا شیڈیول کیا ہے،اور یہ آدمی کس قسم کا مسلمان ہے۔ کوئی بھی تیسرا فرد جس کو الف اور ب کا پتہ نہیں ہے اٹھ کر اعتراض کرنا شروع کردے تو اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ سلطان سواتی، کراچی: محسن انسانیت کی توہین کرنے والا پوری انسانیت کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اگر کوئی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ انسانیت کا بھی توہین کرتا ہے۔ ایسا انسان مسلمان بھی نہیں رہتا، مرتد ہوتا ہے۔ اعظم خان، سوات: میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دوسرے اقوام، قبیلے اور مذاہب کے پیروکاروں کی عزت کرنی چاہئے۔ جہاں تک پیغمبر اسلام کا تعلق ہے وہ تاریخ کے سب سے بڑے ریفارمر تھے، تمام انسانوں کے لئے۔ اور وہ دنیا کی ایک بڑی آبادی کے روحانی رہنما بھی ہیں۔ اس لئے اگر کوئی ان کی توہین کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کرڑوں لوگوں کی تذلیل کرتا ہے۔ اس لئے لوگوں کوکچھ کہنے سے قبل سوچنا چاہئے، بالخصوص پاکستان جیسے ملک میں جو اسلامی نظریے پر قائم ہوا تھا اور یہ نظریہ پیغمبر محمد (ص) لیکر آئے تھے۔ ایم پرویز، اسلام آباد: مجھے حاجی علی پر ترس آرہی ہے۔ ندیم خان، سعودی عرب: میں ان صاحب کو صرف یہی مشورہ دوں گا کہ پہلے تو قرآن کوصحیح ٹرانسلیشن کے ساتھ پڑھیں اور پھر ان کے جو کوسچن ہیں وہ کسی صحیح عالم دین سے پوچھیں۔ ان کے سبھی سوالات کا جواب مل جائےگا۔ صاحب نے جو باتیں کی ہیں وہ سراسر قرآن کی منافی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||