صدر مشرف معافی مانگیں: بینظیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دورہ امریکہ کے دوران پاکستانی خواتین کے بارے میں دیے گئےان ریمارکس پر پوری قوم خصوصاً خواتین سے معافی مانگیں جس میں انہوں نے پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات کو کمائی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے صدر جنرل پرویز مشرف کے واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے بارے میں کہا کہ اس انٹرویو میں صدر کے ریمارکس بے حسی پر مبنی تھے جس سے پاکستان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔ بےنظیر بھٹو نے دعوی کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ بیان ان کی خواتین کے بارے میں سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ خواتین کے بارے میں کتنی گری ہوئی سوچ رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بیان سے صدر کے اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے جس میں وہ ہمیشہ خواتین کی آزادی اور اعتدال پسندی کی بات کرتے تھے۔ سابق وزیر اعظم کے مطابق یہ دعوے صرف بین الاقوامی برادری کو دھوکا دینے کے لیے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور کینیڈا کے وزیر اعظم نے صدر جنرل مشرف کے بیان پر شدید تنقید کی ہے۔ بینظیر بھٹو کے مطابق پاکستان میں حدود قوانین کی صورت میں پہلے ہی خواتین مخالف قوانین موجود ہیں اور صدر کے اس تازہ بیان کے بعد پاکستان میں خواتین کو انصاف کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر کوئی بھی پاکستانی عورت اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرے گی تو اس پر پیسے کمانے یا بیرون ملک ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگا کر خاموش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر دباؤ ڈالیں کے وہ اس مسئلے پر پاکستانی قوم سے معافی مانگیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||