بینظیر سوئزرلینڈ پہنچ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سوئزرلینڈ میں ایک تحقیقاتی مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنے خلاف چلنے والے منی لانڈرنگ کے الزامات کے بارے میں کیس میں پیش ہونے کے لیے جینیوا پہنچ گئی ہیں۔ اس کیس کی سنوائی انیس ستمبر کو ہو گی۔ بینظیر بھٹو کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ بینظیر بھٹو اپنے وکیل فاروق نائیک کے ہمراہ سوئس میجسٹریٹ کے سامنے اپنے خلاف حکومت پاکستان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گی۔ سابق وزیراعظم کے شوہر آصف زرداری ان کے ہمراہ سوئزرلینڈ نہیں گئے ہیں۔ اس سے قبل اگست سن دو ہزار تین میں سوئزرلینڈ میں ایک تحقیقاتی مجسٹریٹ نے سابق وزیر اعظم اور ان کے شوہر کے خلاف کالے دھن کو سفید کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چھ ماہ کی معطل سزا اور پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ بعد میں اس وقت معطل کر دیا گیا تھاجب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر نے سوئزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے پاس اپیل کی تھی جس پر اٹارنی جنرل نے ان تحقیقات کو از سر نو کروانے کاحکم دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں پاکستان کی حکومت نے سوئس حکومت سے بینظیر بھٹو کے خلاف حکومتی معاہدوں میں کمیشن کھانے اور اس رقم کو سوئس بینکوں میں بے نام اکاؤنٹوں میں رکھنے کے بارے میں تحقیقات کی درخواست کی تھی۔ پاکستان کے مطابق تفتیش کے دوران سوئس حکام کو سات ایسے بینک کھاتے ملے جن میں تقریباً تیرہ ملین ڈالر کی رقم جمع کرائی گئی تھی اور جن تک بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کی پہنچ تھی۔ ان اکاؤنٹس کے نام نہیں ہوتے صرف نمبر ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||