ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 |  وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف ریمارکس پر شدید احتجاج کی وجہ سے حکومت بجٹ پاس نہیں کرسکی |
سندھ اسمبلی میں پیر کو اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف ریمارکس پر شدید احتجاج کیا۔ جس وجہ سے حکومت بجٹ پاس نہیں کرا سکی اور اسپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔
اسمبلی کا اجلاس مقرر وقت ساڑھے نو بجے کے بجائے پونے گیارے بجے شروع ہوا۔ قائدِ حزب اختلاف نثار کھوڑو نے اور ان کے ساتھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ہماری قائد بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف دیے گئے ریمارکس کو کارروائی سے حذف کیا جائے۔
ارباب غلام رحیم نے سنیچر کو اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور بینظیر اور آصف پر کرپشن اور ڈیل کے الزامات عائد کیے تھے۔ اپوزیشن کے مطالبے کی حزب اقتدار کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی اور دونوں جانب کی ارکان سیٹوں پر کھڑے ہوکر شور مچاتے رہے ایوان آدھ گھنٹے تک شور سے گونجتا رہا۔اسپیکر بار بار وارننگ دیتے رہے مگر کسی نے ان کی نہیں سنی۔ جس کے بعد انہوں نے اجلاس منگل تک ملتوی کردیا۔ قائد حزب اقتدار نثار کھوڑونے بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارباب غلام رحیم کے ہماری قائد بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف ریمارکس غیر پارلیمانی اورغیر اخلاقی ہیں۔ ہمارے مطالبہ ہے کہ ان ریمارکس کو کارروائی سے حذف کیا جائے کیونکہ اس سے قبل پرویز مشرف کے خلاف ریمارکس بھی اسی ایواں سے حذف کیے گئے تھے۔ نثار کھوڑونے الزام عائد کیا کہ اصل معاملات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ارباب غیر اہم معاملات پیدا کر رہے ہیں۔ وہ اپوزیشن کے بغیر بجٹ پاس کروانا چاہ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ سردار احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایوان میں ہنگامے آرائی کر کے دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ ایواں کی کارروائی نے چلے۔ سردار احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو معلوم ہے کہ ان کی کٹ موشن منظور نہیں ہونگیں اس لیے وہ شور کر رہے ہیں۔ سردار احمد نے بتایا کہ ہم کوشش کرینگے کہ بدھ کو بجٹ پاس کروایا جائے۔ |