جنرل مشرف سے معافی کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیموں نےجنسی تشدید کو’کمائی کا ذریعہ‘ قرار دینے پر جنرل مشرف سےاستعفیٰ کامطالبہ کیا ہے۔ کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ایک مظاہرے میں مشتعل خواتین نے نفرت کے اظہار کے لیے اپنے دوپٹے نظر آتش کیے۔ خواتین نعرے لگا رہی تھیں’ جنرل مشرف شرم کرو،پاکستان کی ہر عورت سے معافی مانگو۔‘ مظاہرہ میں شہر کے علاوہ دیہی خواتین کی بھی ایک بڑی تعدا موجود تھی جس میں انہوں نے سیاہ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر جنرل مشرف کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے تحریر تھے۔ ایک پلی کارڈ پر کون بنے گا کروڑ پتی تحریر تھا۔
مظاہرے میں بدین کی ایک خاتون کو بھی پیش کیا گیا۔جس کے بارے میں وومین ایکشن فورم کی رہنماء انیس ہارون نے بتایا کے ان کی سات سالہ بیٹی کو ریپ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عورت خود باہر جانا چاہتی تھی یا اس کی بیٹی۔ مظاہرے کے دوران شیماکرمانی اور ان کے گروپ کی جانب سے ایک اسٹیج تھیٹر پیش کیا گیا جس میں سپر پاور امریکہ اور اس کے ساتھی جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم جنرل مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور اسے پاکستانی عورتوں اور حقوق نسوان کے عملبردار تنظیموں کے خلاف سربراہ مملکت کی جانب سے خواتین پر تشدد کی حوصلے افزائی سمجھتے ہیں۔جنرل مشرف کی سوچ نے پاکستانی عورتوں کے تشخص پر ایک سوالیہ نشان لگایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے پاکستان کی عورتوں پر کی جانے والی زیادتیوں کا مقابلہ مغرب سے کیا ہے۔ جہاں پر سستا اور فوری انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں کے جاگیردارانہ نظام میں عورتوں کے لیے انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صدر مشرف اپنے الفاظ واپس لیں اور خواتین کا احترام کریں۔ صدر مشرف نے اس انٹرویو کے دوران مختاراں مائی سے متعلقہ ایک سوال پر میں کہا تھا کہ ’ آپ کو پاکستان کے حالات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزہ لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں‘۔ پشاور میں احتجاجی بیان جاری کرنے والی تنظیموں میں شرکت گاہ، عورت فاونڈیشن، ایچ آر ایم ڈی سی، ایس پی او، ایچ آر سی پی، سنگی، خوئندو کور اور نور ایجوکیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔
ان تنظیموں کا موقف تھا کہ صدر نے یہ غیرمعمولی بیان حکومتی نااہلی کو چھپانے کی غرض سے دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی عوام خصوصاْ عورتوں کی سنگین توہین ہے۔ انہوں نے حکومت پر جنسی ذیادتی کا شکار ہونے والی عورتوں کی بجائے ایسی حرکت کرنے والوں کو کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ اتحاد کا موقف تھا کہ صدر کا یہ بیان منہ بولتا ثبوت ہے اس ناکامی کا جو صدر پرویز مشرف کی حکومت کو غیرسرکاری تنظیموں کو ایسے واقعات چھپانے پر مجبور کرنے میں دیکھنی پڑ رہی ہے۔ آٹھ رکنی اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ دیگر غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر اس بیان کے خلاف احتجاج اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک طویل مدت کے منصوبے کی تیاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ پشاور میں احتجاجی بیان جاری کرنے والی تنظیموں میں شرکت گاہ، عورت فاونڈیشن، ایچ آر ایم ڈی سی، ایس پی او، ایچ آر سی پی، سنگی، خوئندو کور اور نور ایجوکیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔ آٹھ رکنی اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ دیگر غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر اس بیان کے خلاف احتجاج اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ایک طویل مدت کے منصوبے کی تیاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||