شدت پسند اچھےمگرمسئلہ ساکھ کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہےکہ کچھ شدت پسند تنظیمیں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بہت اچھا کام کر رہی ہیں لیکن اگر ان کانام استنبول، دہلی یا اردن کے بم دھماکوں میں آجائے تو پھر کیا کیا جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ’یہ ایک متضاد سی صورتحال ہے۔ ایک طرف ان کا اتنااچھا کام ہے اور وہ امدادی کارروائی میں ہمارے شانہ بشانہ ہیں لیکن پھر انہی کا نام انتہا پسندی اور دہشت گردی میں آنے لگے تو ہم کیا کریں ۔۔۔۔یہ ہمارے لیے بھی کنفیوژن ہے اس سے ہماری ساکھ اور حیثیت متاثر ہو رہی ہے‘۔ وہ لاہور میں قومی رضاکار تحریک کی یونیورسٹیز چیپڑ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ صدر مشرف نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی ہو رہی ہے، اندرونی طور پر فرقہ واریت ہے اور بیرونی طور پر جو کچھ ہورہا ہے سب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دماغ سے کام لینا چاہیے۔ یہی انسانیت کا طریقہ ہے۔ ہمارا مسئلہ جہالت اور عدم برداشت ہے۔ دوسروں کی بات نہ سننا اور مار پیٹ کرنا ہی جہالت کی نشانی ہے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ مقدس جگہوں کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’مسجد اچھی دعا کے لیے استعمال ہونی چاہیے یا پھر چپ رہیں‘۔ صدر مشرف نےحکومت مخالف جماعتوں کی تنقید کا بھی جواب دیا اور کہا کہ فوج سمیت ہر کسی نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا اور اسی وجہ سے اب تک پانچ لاکھ خیمے متاثرین تک پہنچ چکے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ آئندہ کے لیے ایک خاص تعداد میں خیمے ذخیرہ کر لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونرز کانفرنس کے دوران ملنے والے سافٹ لون کی شرح سود اتنی کم ہے کہ انہیں بالکل مفت سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سکولوں اور ہپستالوں کے تعمیر نو کے لیے ڈھائی سو ارب روپے خرچ کرے گی جبکہ انفرادی سطح پر اسی ارب روپے مکانات کی تعمیر و مرمت کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور تعمیر مکمل ہونے پر مزید پچیس ہزار روپے فی مکان ادائیگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سالوں میں نو متاثرہ اضلاع میں تعمیر نومکمل ہو جائے گی۔ صدر مشرف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کو شفاف رکھنے کے لیے عطیات اور اس کے اخراجات عنقریب ایک کمپیوٹر ویب سائٹ پر شائع کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویب سائٹ پر منصوبے کی تفصیل، عطیات دینے والوں کے نام اور اسی منصوبے کے لیے حکومت کی طرف سے دی جانے والی امدادی رقوم کا اندراج ہوگا۔ صدر مشرف نے کہا کہ مختلف شخصیات اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے امداد کی جو پیشکش کی جارہی ہے اس پر مربوط انداز میں عمل کیا جائے گا اور طے شدہ منصوبے کے مطابق بنیادی ہیلتھ یونٹ، دیہی صحت مراکز، تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے۔ صدرمشرف نے کہا کہ’ بعض انتہا پسند کہتے ہیں کہ نیٹوکو کہہ دو کہ وہ امدادی سامان نہ لا ئے۔ ہم نے کوئی چوڑیاں پہن رکھی ہیں جو کوئی پاکستان پر قبضہ کر لے گا‘۔ صدر مشرف نے کہا کہ ’امدادی کاموں کے لیے امریکہ سے تئیس شنوک ہیلی کاپٹر آئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ نہ لو۔۔۔اگر نہ لو تو پھر امدادی سامان کیسے دور دراز کے علاقوں میں کیسے پہنچایا جائے گا؟‘ صدر مشرف نے لاہور کے ایوان اقبال میں تقریباایک گھنٹہ تک تقریر کی۔ تقریب میں پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور رضاکار، تحریک سے وابستہ طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی۔ | اسی بارے میں اخباروں کے پیارے مشرف 20 September, 2005 | پاکستان مشرف پر حملے کا ملزم گرفتار08 October, 2005 | پاکستان آئندہ دو ہفتے بہت اہم ہیں: مشرف21 October, 2005 | پاکستان بچوں کوصدرمشرف کا طویل انتظار04 November, 2005 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کی ویڈیو04 November, 2005 | پاکستان کراچی دھماکے کا ملزم گرفتار: مشرف 16 November, 2005 | پاکستان صدر مشرف کو صدر بش کا فون17 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||