BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 November, 2005, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکے کا ملزم گرفتار: مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف
القاعدہ کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کراچی میں منگل کو ہونے والے بم دھماکے میں ملوث اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے پی آئی ڈی سی کے سامنے کھڑی کار میں بم نصب کیا تھا۔ اس بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔

تاہم صدر نے کہا کہ حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ اس شخص کا تعلق کس گروہ یا جماعت سے ہے اور اس بم دھماکے کے پیچھے کیا محرکات تھے۔

راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی دہشت گردوی کے خلاف جنگ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک القاعدہ اور طالبان کے خلاف کاروائیوں کا تعلق ہے تو اس میں کوئی بڑی یا نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

صدر نے اپنی پریس کانفرنس میں زیادہ تر ملک میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے بارے میں انیس نومبر کو بلائی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس کانفرنس سے پانچ اعشاریہ دو بلین کے عطیات اور نرم شرائط پر قرضے حاصل ہو سکیں گے جو اس وقت ان متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے چاہئے ہوں گے۔

صدر نے اس پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس ماہ کے آخر تک زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو گھر بنانے اور ہلاک اور زخمیوں کے لواحقین کو بیس ارب روپے فراہم کر دیئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو نقد رقم کی اشد ضرورت ہے جس کے تحت حکومت نے ان علاقوں میں بیس ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں اور خواتین جن کے وارث ابھی تک نہیں ملے ہیں ان کے لئے ایک بڑا سینٹر آشیانہ کے نام سے بنایا جا رہا ہے جس میں ان لوگوں کو کچھ عرصہ رکھ کر ان کے علاقوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے چار لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں جن کو دوبارہ بنانے کے لئے ایک حکمت عملی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت ان گھروں کو دوبارہ اس طرح تعمیر کیا جائے گا کہ یہ گھر مستقبل میں زلزلے اور سردی سے بچے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے تخمینے کے مطابق اس تعمیر نو کے لیے پانچ اعشاریہ دو بلین ڈالر درکار ہوں گے۔

صدر نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سکول اور ہسپتالوں کو علاقے میں ضرورت کے مطابق تعمیر کیا جائے گا۔ جبکہ گھروں کی تعمیر میں گھر کے مالک کو حکومت کی طرف سے رقم کے علاوہ تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت تعمیر نو کی مد میں ملنے والی بین الاقوامی امداد اور تعمیر نو کے تخمینے میں جو بھی کمی ہو گی اس کو پورا کرے گی۔ اس سوال پر کہ کیا پاکستان کی معیشت اس تعمیر نو کے بوجھ کو برداشت کر سکتی ہے یا یہ بوجھ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا باعث بنے گا تو صدر نے کہا کہ ملک میں کسی قسم کے عدم استحکام کا خدشہ نہیں ہے۔

صدر نے کہا کہ ایف سولہ طیاروں کی خریداری کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔صدر نے بتایا کہ پاکستان بیاسی ایف سولہ طیارے حاصل کرنے کے لئے بات چیت کر رہا تھا جس میں سے پچپن جدید ترین ایف سولہ طیارے اور دو استعمال شدہ طیارے امریکہ سے جبکہ پچیس استعمال شدہ ایف سولہ طیارے دوسرے ممالک سے حاصل کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کی مد میں پاکستان کو ابھی تک صرف تین سو ملین ڈالر کی بین الاقوامی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے جو ان کے مطابق بہت ہی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی سانحوں کے موقع پر کسی بھی ملک نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی نہیں کی جبکہ پاکستان کو تو بیرونی خطرے کا سامنا بھی ہے۔

اسی بارے میں
دیکھو بچو ہاتھی آیا
30 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد