BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 September, 2005, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طاقت سے خاتمہ کریں گے: مشرف

جنرل مشرف
جمعیتِ علمائے اسلام کے دو ارکان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردوں کو طاقت کے زور پر ختم کیا جائےگا اور کالعدم جماعتوں کے اراکین کو منظم ہونے نہیں دیا جائے گا۔

جمعرات کے روز قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے تک مسلسل اور پائیدار اقدامات جاری رہیں گے۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن اور وزیراعلیٰ سرحد جو بلحاظِ عہدہ رکن ہیں شریک نہیں ہوئے۔

صدر نے اس موقع پر کہا کہ انتہاپسندی دہشت گردی کا بنیاد فراہم کرتی ہے جس کے لیے انہوں نے مختصر اور طویل المدت اقدامات اٹھانے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسند اور انتہاپسند تنظیموں پر پابندی عائد کرنا اور انہیں دیگر ناموں سے منظم نہ ہونے دینا، عبادت گاہوں سے منافرت پھیلانے کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال کو روکنا اور نفرت آمیز مواد کو ضبط کرنا قلیل المیعاد اقدامات ہیں۔

جبکہ طویل المدت کے اقدامات کے تحت مدارس میں اصلاحات، نصاب کی تبدیلی اور اس معاملے پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کی ضرورت ہے۔
صدر نے کہا کہ ان حکومتی اقدامات پر سختی سے عمل کرانے کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ مانیٹرنگ کی بھی ضرورت ہے۔

صدر اور وزیراعظم نے زور دیا کہ کسی پر اپنی رائے مسلط کرنے کو روکنے اور برداشت کا مادہ پیدا کرنے سمیت وسیع پیمانے پر متعارف کردہ اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔

خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کرنے والے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر اور وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا اور ہدایت کی کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ضروری فنڈز مہیا کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ اجلاس کو نفرت آمیز مواد ضبط کرنے، مساجد سے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی جیسے حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس پر صدر اور وزیراعظم نے اطمینان ظاہر کیا۔

متنازعہ قومی سلامتی کونسل کا قیام صدر جنرل پرویز مشرف کی متعارف کردہ آئینی اصلاحات کے نتیجے میں ہوا تھا اور یہ ادارہ ملک میں حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان مشاورت کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اس ادارے کو مسترد کرچکی ہیں اور ان کہنا ہے کہ اس سے فوج براہ راست اقتدار میں شریک ہوجاتی ہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

سرکاری طور پر اجلاس کے متعلق تو صرف شدت پسندی اور انتہا پسندی کے بارے میں بتایا گیا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اسرائیلی وزراء خارجہ کی ملاقات، آئندہ ہفتے نیو یارک میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مجوزہ میٹنگ اور افغانستان سے ملنے والی سرحد پر مزید فوج کی تعیناتی سمیت دیگر قومی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بعد حکمران مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں میں پیدا ہونے والے اختلافات کے بارے میں بھی وزیراعظم نے صدر کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد