نیشل سکیورٹی کونسل کا اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں بدھ کو منعقد ہونے والے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل رحمان اور سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے شرکت نہیں کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں حزب اختلاف کے ارکان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کی منظوری سے وجود میں آیا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کونسل نے عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے اور ملک میں بے روز گاری اور غربت کے خاتمے کے لیے درمیانی مدت کے ترقیاتی منصوبے (میڈیم ٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک) پر غور کیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر اعظم شوکت عزیزاور مسلح افواج کے سربراہان سمیت کونسل کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق صدر نے اس اجلاس میں وزیر اعظم شوکت عزیز کو متوازن، عوام دوست اور تاجر دوست بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر صدر نے امید ظاہر کی کہ حکومت شرح افراط زر کو دو سال میں پانچ فی صد تک لے آئے گی۔ صدر کے مطابق فی کس آمدنی پانچ سال میں پانچ سو ڈالر سے بڑھ کر سات سو چھتیس ڈالر ہو گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں غربت میں کمی ہو رہی ہے۔ صدر نے ملک کی شرح نمو آٹھ فی صد سے تجاوز کر جانے کے لیے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔ صدر نے اجلاس کو ان کی بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ان کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات بہت ہی اچھی رہی۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نے معیشت کے بارے میں ممبران کو ایک تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد اجلاس میں شرح افراط زر اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے بارے میں بحث کی گئ۔ سرکاری بیان کے مطابق قومی سلامتی کونسل میں دیہی ترقی اور شہری ترقی کے بارے میں وضع کئے گئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر نکات جن میں امن و امان اور بلدیاتی انتخابات شامل ہیں زیر بحث لائے گئے یا نہیں اس کا سرکاری بیان میں ذکر نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||