نیشل سیکیورٹی کونسل کا بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چوبیس جون کو بلائے گئے متنازع نیشنل سیکیورٹی کونسل کے پہلے اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے شرکت سے انکار کردیا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل یعنی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ متحدہ مجلس عمل کی جنرل کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جو قاضی حسین احمد کی صدارت میں ہوا۔ مجلس کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ کونسل کے قیام کے بل میں ان کی تجویز کردہ ترامیم حکومت نے تسلیم نہیں کی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ستروہیں آئینی ترمیم پر مکمل طور پر عمل کیا جائے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک باوردی صدر سلامتی کونسل کی صدارت کریں گے اس سے یہ تاثر ملے گا کہ یہ کونسل پارلیمینٹ کے مساوی درجہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ ستروہیں آئینی ترمیم کے مطابق جنرل مشرف کو صدر اور آرمی چیف کے دو عہدوں میں سے ایک ، رواں سال اکتیس دسمبر تک چھوڑنا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما شروع سے کہتے رہے ہیں کہ قومی سلامتی کونسل کے قیام سے فوج کو سیاست میں مستقل اور قانونی کردار دیا گیا ہے جس سے ان کے بقول پارلیمینٹ کی حیثیت ثانوی ہوجائے گی۔ تیرہ رکنی اس کونسل کے سربراہ صدر ہیں جبکہ وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ ، اسپیکر قومی اسمبلی، چاروں وزراء اعلیٰ ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج، بری ، بحری اور فضائیہ کے سربراہان اس کونسل کے اراکین ہیں۔ جمعرات کے روز صدر کی سربراہی میں کونسل کا پہلا اجلاس ہوگا جس میں کونسل کی کارروائی چلانے کے متعلق مرتب کیے گئے قوائد و ضوابط کی منظوری بھی دی جائے گی۔ بدھ کی صبح قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے انہیں شریک ہونے کی گذارش بھی کی تھی۔ یہ کونسل پاکستان میں کسی بھی قسم کے بحران یا قومی اہمیت کے حامل معاملے پر غور اور مشاورت کے بعد رائے دینے کا اہم فورم ہے۔ قومی سلامتی کونسل قائم کرکے فوج کو براہ راست اقتدار میں شریک کرنے کی ماضی کے فوجی حکمرانوں نے بھی کوشش کی تھی لیکن کامیابی صدر مشرف کو متحدہ مجلس عمل کے طفیل ہی نصیب ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||