’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیکن ہاؤس سکول نے جنرل مشرف کی والدہ مسز زریں مشرف کا انٹرویو نصابی کتابوں میں شامل کیا ہے۔ پاکستان میں نجی سکولوں کے سب سے بڑے ادارے بیکن ہاؤس نے چوتھی جماعت کے طلبہ کو پڑھائے جانے والے مضمون معاشرتی علوم میں صدر جنرل پرویز مشرف کی والدہ زریں مشرف کا انٹرویو شامل کیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ برسر اقتدار حکمران خاندان کے کسی فرد کا انٹرویو کسی درسی کتاب میں شائع ہوا ہے۔ معاشرتی علوم کی اس انگریزی کتاب کا نام سوشل سٹڈیز ورک بک ٹو ہے۔اس کے صفحہ نمبر سات پر مسز زریں مشرف کے تعلیمی ریکارڈ کے علاوہ ان کے خاندان کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ دو صفحات پر مشتمل اس باب میں زریں مشرف کی دو تصاویر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب کے صفحہ نمبر اٹھارہ پر دوبارہ زریں مشرف کا ایک اور انٹرویو ہے جس میں انہوں نے تقسیم کے زمانے میں پہنے جانے والے کپڑوں کے متعلق زریں مشرف کے خیالات اور ان کے خاندان کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ واضح رہے کہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے خاندان کی ملکیت ہے اور وہ اور ان کی اہلیہ اس ادارے کی ڈائریکٹر اور مالک ہیں۔ اس باب کے آغاز میں لکھا گیا ہے کہ اس کتب میں صدر پرویز مشرف کی والدہ کا انٹرویو اس لیے شائع کیا گیا ہے تاکہ برصغیر کی تقسیم کے وقت کے حالات کو سمجھا جا سکے۔
تاہم مسز زریں مشرف کے مطابق وہ تقسیم سے تین روز قبل یعنی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو ہی پاکستان آ گئی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت اپنے خاندان بشمول تین بیٹوں، پرویز،جاوید اور نوید کے ہمراہ بے سرو سامانی کے عالم میں پاکستان پہنچی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کہ جب وہ پاکستان پہنچیں تو لوگوں نے زمین کو بوسا دیا۔ ان کے مطابق اس وقت بھارت سے آنے والے لوگوں کے لیے پاکستان میں لوگ کھانے کی دیگیں اور پھولوں کے ہار لے کر ریلوے سٹیشن آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کا دور یاد کر کے اب بھی ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مسز زریں مشرف کے مطابق وہ پاکستان آکر کراچی کے علاقے جیکب لائن کے فوجی بیرک میں ٹھہری تھیں۔اس کے بعد وہ انیس سو انچاس میں اپنے شوہر کے ہمراہ ترکی چلی گئیں اور انیس سو اٹھاون میں واپس آئیں۔ جبکہ دوسرے باب میں وہ لکھتی ہیں کہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں برصغیر کی تقسیم کے وقت لڑکیاں ایک ہی رنگ کی چوڑیاں اور جوتے پہنا کرتی تھیں۔ آج صدر جنرل پرویز مشرف نے بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی تیس سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقد کی گئی کانفرنس میں شرکت کی اور ملک میں تعلیم کے فروغ میں بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی تعریف کی۔ صدر مشرف نے اس موقع پر نجی تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی سرپرستی کریں۔ | اسی بارے میں پرانی حویلی کی یادیں17 March, 2005 | انڈیا ’جنرل پرویز کااسلام قبول نہیں‘29 April, 2004 | پاکستان ’ڈرتا ہوں کہ دھرا جاؤں گا‘07 February, 2004 | Blog ’سودے بازی کرنے والا غدار ہے‘05 February, 2004 | پاکستان ’ترکی مشرف بھائی کا دوسرا گھر ہے‘19 January, 2004 | پاکستان ’میں آپ سے زیادہ چیخ سکتا ہوں‘18 September, 2005 | پاکستان لیڈر کا مفاد ہرسسکی سے بالاتر23 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||