پرانی حویلی کی یادیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کی صبح پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی والدہ زرین مشرف، بیٹے بلال مشرف اور بھائی جاوید مشرف نے اس نہر والی حویلی کا دورہ کیا جہاں پاکستانی صدر نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ یہ حویلی پرانی دلی کے دریا گنج علاقے میں واقع ہے۔ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اسی حویلی میں پیدا ہوۓ تھے۔مشرف کی والدہ ایک وہیل چیئر پر جب حویلی پہنچیں تو ان کے ساتھ میڈیا کی زبردست بھیڑ تھی۔ اس موقع پر علاقے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع تھے اور بہت سے لوگ ان کے دیدار کے لیے چھتوں پر کھڑے تھے۔ جنرل مشرف کی والدہ نے اپنے آبائی گھر کا اچھی طرح جائزہ لیا اور آج کل حویلی میں رہنے والوں کے ساتھ بات چیت کی۔تینوں مہمانوں نےتقریبا آدھے گھنٹے کا وقت حویلی میں گزارا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ یہاں سب کچھ بدلا ہوا لگتا ہے۔ سماں بالکل بدل سا گیا ہے۔ مجھے یہاں ارونا آصف علی سے اپنی وہ ملاقات یاد ہے جب میں آخری بار انیس سو بیاسی میں یہاں آئی تھی‘ ۔ اسی دن حویلی کی ایک دس سالہ بچی ایشوریہ کی سالگرہ تھی اور ان مہمانوں نے اس میں بھی شرکت کی۔ محترمہ زریں مشرف نےاس بچی کے ساتھ اسکا کیک کاٹا۔ اگرچہ انکے ساتھ میڈیا کی ذبردست بھیڑ تھی۔ لیکن پاکستانی ہائی کمیشن کی کوشش یہ تھی کہ میڈیا کو ان سے کافی دور رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زیادہ بات چیت سے گریز کیا۔ حویلی میں داخل ہونے کے بعد جنرل مشرف کی والدہ کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا کہ انکی ماضی کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کا کافی وقت پرانی دلی کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ جنرل مشرف کے گھر کے یہ تینوں افراد گزشتہ کل دلی پہنچے تھے۔ منصوبے کے مطابق اب یہ حضرات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جائیں گے۔ اور وہاں وہ وائس چانسلر سے ملاقات کریں گے۔ محترمہ زرین مشرف نے علی گڑھ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق صدر مشرف کی والدہ تاریخی شہر آگرہ بھی جانا چاہتی ہیں۔ پروگرام کے مطابق یہ افراد بیس مارچ کو لکھنؤ جائیں گے۔ محترمہ زرین مشرف نے لکھنؤ کے ایک کالج میں بھی تعلیم حاصل کی تھی اور امکان ہے کہ وہ اپنے پرانے کالج کا دورہ کریں گی۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ یہ مہمان کولکتہ ٹیسٹ میچ بھی دیکھنے جائیں گے لیکن اسکی تفصیل دستیاب نہیں ہے۔ اکیس مارچ کو یہ قافلہ پاکستان واپس روانہ ہوجائیگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||