BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 January, 2004, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ترکی مشرف بھائی کا دوسرا گھر ہے‘
مشرف
جنرل مشرف جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک کو اپنی مثالی شخصیت قرار دیتے ہیں۔

ترکی کے صدر احمد نجدت سریز نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو ترکی میں خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیا ن روایتی تعلقات میں مضبوطی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ترکی صدر مشرف کا دوسرا گھر ہے۔ صدر مشرف جوانی میں کچھ عرصہ ترکی میں رہ چکے ہیں۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ موجودہ دورے کے دوران دونوں ممالک کی دلچسپی کے بین الاقوامی اور باہمی امور پر گفتگو ہو گی۔

صدر جنرل پرويز مشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے معاہدوں پر دستخطوں سمیت دیگر امور پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔

اس سے قبل صدر مشرف ترکی اور سوئٹزرلینڈ کے دورے کے پہلےمرحلے پر انقرہ پہنچے تو ترکی کے نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ اور گورنر نے ان کا استقبال کیا۔

دورے میں وہ ترکی کے صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں کے علاوہ ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے۔

اس کے علاوہ ان کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان تین معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن میں سے ایک معاہدہ دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق دونوں ملکوں کے تعاون کے بارے میں بھی ہو گا-

اس دورے کے دوران صدر مشرف ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان اور وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ گل سے بھی ملیں گے۔ وہ ترکی کے صدر کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

صدر پرويز مشرف کا ترکی کا یہ چھوتھا دورہ ہے ۔ پچھلی بار انہوں نے اکتوبر دو ہزار دو میں ترکی کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان اور ترکی میں روایتی طور پر اچھے سفارتی تعلقات اس وقت سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے جب پاکستان، افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت کر رہا تھا، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے وہ جمود ختم ہو گیا ہے اور جون دو ہزار تین میں ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے دو سو ارکان کے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں تجارت کے فروغ کے بارے میں کئی معاہدے کیے گئے تھے۔

ترکی کے دورے کے اختتام پر صدر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ ’ورلڈ اکنامک فورم‘ سے بھی خطاب کریں گے۔ فورم میں اس سال عالمی سکیورٹی کے حوالے خصوصی سے توجہ دی جارہی ہے۔

ڈیوس میں صدر مشرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ بڑے عالمی اداروں کے سربراہوں سے بھی ملیں گے، جن میں مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس بھی شامل ہیں۔

اس دورے میں وزیر خزانہ شوکت عزیز، وزیر تجارت ہمایوں اختر، سرمایہ کاری اور نج کاری کے وزیر عبدل حفیظ شیخ بھی صدر مشرف کے ہمراہ ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد