’جنرل پرویز کااسلام قبول نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک کالعدم مسلح تنظیم کے سابق سربراہ حافظ سعید نے جنرل پرویز مشرف پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کو کشمیر کے مسائل کا واحد حل قرار دیا ہے۔ حافظ سعید کی مسلح تنظیم لشکر طیبہ پر پاکستان میں دو برس پہلے پابندی عائد کردی گئی تھی اور اب ان کی نئی تنظیم جماعت دعویٰ بھی ایک واچ لسٹ پر ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں تقریباً ایک ہزار کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے صدر جنرل پرویز مشرف پر کشمیر میں جاری مسلح جدوجہد کو نقصان پہچانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم پر عائد پابندیوں کے باوجود بقول ان کے اسلامی جنگجو کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ایک سال کی روپوشی کے بعد پہلی مرتبہ عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے جنرل مشرف کی طرف سے اسلامی شدت پسندوں کو انتہا پسند قرار دینے پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کا جدید اسلام کا تصور زیادہ تر مسلمانوں کو قبول نہیں۔ حافظ سعید کے بقول کشمیر کو ہندوستان سے آزاد کروانے کا واحد راستہ جہاد ہے۔ حافظ سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ کلچرل اور سفری تعلقات کی بحالی سے کشمیر میں جاری علیحدگی پسند تحریک متاثر ہو رہی ہے لیکن ان کے بقول اس کے باوجود مسلح جنگجو اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گے۔ ہندوستان کے حکام کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر کشمیر میں کئی بڑی پرتشدد کاروائیوں کا الزام عائد کرتی ہے جس میں سن دو ہزار ایک میں دہلی میں پارلیمینٹ پر حملہ بھی شامل ہے۔ اس حملے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں بہت زیادہ کشیدگی آگئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||