BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 December, 2005, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحفظات وزیر اعظم کے گوش گزار

کالاباغ ڈیم کے مخالفین
امید ہے کہ اب کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان نہیں کیا جائیگا: عرفان مگسی
سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ ایک ملاقات میں کالا باغ ڈیم کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ذخائر کی تعمیر کے بارے میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم شوکت عزیزنے جمعہ کے روز سے کراچی پہنچ کر اتحادی اراکین سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

سندھ حکومت میں شامل ارکان اسمبلی نےوزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اعتراضات اٹھائے۔

صوبائی وزیر آبپاشی نادر اکمل لغاری نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے کالا باغ ڈیم پر اعتراضات کی وجہ سے ہی پارلیمانی اور فنی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔

جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا سندھ کی مخالفت کے بعد بھی ڈیم کا فیصلہ کیا جائیگا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کہنا قابل از وقت ہوگا کیونکہ اتفاق رائے کی بات ہو رہی ہے جس میں اپوزیشن کو بھی بٹھایا جائیگا۔

سابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی عرفان گل مگسی نے بتایا کہ حکمران جماعت میں شامل صوبائی ارکان اسمبلی کی اکثریت نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا کہ پہلے پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی موجودگی کی تعین کے لیے اے این جی عباسی کی سربراہی میں بنائی گئی فنی کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے تاکہ عوام کو اس مسئلہ کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔

عرفان مگسی کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم شوکت عزیز نے کالا باغ ڈیم کا نام نہیں لیا صرف پانی کے نئےذخائرکی بات کی۔ ’ہم نے ان کو بتایا کہ کالا باغ ڈیم کسی صورت میں سندھ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا۔‘

عرفان مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ بتایا کہ وزیر اعظم سے میٹنگ میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر آنے والی خواتین اور کچھ اقلیتی ارکان نے ڈیم کی حمایت کی مگر جو لوگ براہ راست عوام کے مینڈیٹ سے آئے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی حمایت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اب کالا باغ ڈیم بنانے کا کسی صورت میں اعلان نہیں کیا جائیگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بڑے ڈیم کی ملک کو اشد ضرورت ہے‘۔

اسی بارے میں
واپڈا: خشک سالی کی وارننگ
26 July, 2005 | پاکستان
عالمی بنک کے اعلان پر تشویش
20 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد