تحفظات وزیر اعظم کے گوش گزار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ ایک ملاقات میں کالا باغ ڈیم کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ذخائر کی تعمیر کے بارے میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم شوکت عزیزنے جمعہ کے روز سے کراچی پہنچ کر اتحادی اراکین سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ سندھ حکومت میں شامل ارکان اسمبلی نےوزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اعتراضات اٹھائے۔ صوبائی وزیر آبپاشی نادر اکمل لغاری نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے کالا باغ ڈیم پر اعتراضات کی وجہ سے ہی پارلیمانی اور فنی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا سندھ کی مخالفت کے بعد بھی ڈیم کا فیصلہ کیا جائیگا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کہنا قابل از وقت ہوگا کیونکہ اتفاق رائے کی بات ہو رہی ہے جس میں اپوزیشن کو بھی بٹھایا جائیگا۔ سابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی عرفان گل مگسی نے بتایا کہ حکمران جماعت میں شامل صوبائی ارکان اسمبلی کی اکثریت نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا کہ پہلے پاکستان میں نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی موجودگی کی تعین کے لیے اے این جی عباسی کی سربراہی میں بنائی گئی فنی کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے تاکہ عوام کو اس مسئلہ کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔ عرفان مگسی کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم شوکت عزیز نے کالا باغ ڈیم کا نام نہیں لیا صرف پانی کے نئےذخائرکی بات کی۔ ’ہم نے ان کو بتایا کہ کالا باغ ڈیم کسی صورت میں سندھ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا۔‘ عرفان مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ بتایا کہ وزیر اعظم سے میٹنگ میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر آنے والی خواتین اور کچھ اقلیتی ارکان نے ڈیم کی حمایت کی مگر جو لوگ براہ راست عوام کے مینڈیٹ سے آئے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ اب کالا باغ ڈیم بنانے کا کسی صورت میں اعلان نہیں کیا جائیگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بڑے ڈیم کی ملک کو اشد ضرورت ہے‘۔ | اسی بارے میں کالا باغ ڈیم، رپورٹ جلد آئےگی03 February, 2005 | پاکستان واپڈا: خشک سالی کی وارننگ26 July, 2005 | پاکستان عالمی بنک کے اعلان پر تشویش 20 September, 2005 | پاکستان ’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ 29 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||