واپڈا: خشک سالی کی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بجلی کے سرکاری ادارے واپڈا کے چیئرمین طارق حمید نے کہا ہے کہ ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہورہی ہے اور اسے پانچ سال بعد خشک سالی کا سامنا ہوگا۔ وہ منگل کے روز لاہور میں اپنے ادارے کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کررہے تھے۔ واپڈا کے چیئرمین نے کہا کہ خشک سالی سے بچنے کے لیے ملک کو کالا باغ کے ساتھ ساتھ بھاشا، داسو، اکھوڑی اور بنجی جیسے دوسرے ڈیموں کی بھی ضرورت ہے اور بجلی کی دستیابی بڑھانے اور اس کے نرخ کم رکھنے کے لیے پانی سے بجلی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ ملک کو کالا باغ ڈیم کی ضرورت ہے اور اگر بڑے ڈیم نہ بنے تو ملک سال دو ہزار دس تک خشک سالی کا شکار ہوجائے گا کیونکہ ملک میں آبادی کے بڑھنے کی شرح کے مقابلہ میں پانی کی فی کس دستیابی بہت کم رہ جائے گی۔ واپڈا کے چیئرمین نے کہا کہ نثار میمن نے اپنی رپورٹ تو پیش کردی ہے اور اب ٹیکنیکل کمیٹی کے سربراہ اے جی این عباسی کی رپورٹ بھی دو تین ہفتے تک صدر مشرف کو پیش کردی جائے گی جس کے بعد وہ بڑے ڈیم بنانے کے بارے میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔
واپڈا کے چیئرمین نے کہا کہ پنجاب حکومت کے فراہم کیے گئے میٹروں سے واپڈا دیہات میں ٹیوب ویلوں کو رات کے وقت سستی بجلی مہیا کرے گا لیکن وہ زیادہ ٹیوب ویلوں کے حق میں نہیں کیونکہ ان کے استعمال سے زیر زمین پانی کا معیار خراب ہورہا ہے اور جنوبی پنجاب میں مٹی میں نمکیات کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بجلی کی فراہمی میں ہونے والے لائن لاسز ساڑھے چوبیس فیصد ہیں اور اس کی شرح صنعتی علاقوں میں کم اور رہائشی علاقوں میں زیادہ ہے۔ واپڈا کے چیئرمین نے کہا کہ اس سال تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے واپڈا کو بائیس ارب روپے کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑا اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واپڈا نے کل ایک کروڑ چودہ لاکھ پینسٹھ ہزار کنکشن دیے ہوئے ہیں اور اسے سال دو ہزار چار اور پانچ میں بجلی سے دو سو چھیالیس ارب روپے کی آمدن ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||