واپڈا تنصیبات کو اڑانے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں واپڈا کی تنصیبات کو بم سے اڑانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس مقصد کے لیۓ رکھا گیا بارود مکمل طور پر پھٹ نہ پانے سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ حملےکا نشانہ بنائے جانے والی ایک سو بتیس کے وی کی پاور سپلائی لائن کی مدد سے بلوچستان کے اضلاع بارکھان، لورالائی اور کوہلو کو بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بارڈر ملٹری پولیس کے ایک افسر عتیق خان نے بتایا کہ مبینہ شر پسندوں نے تھانہ کھر کے مقام ننگر کھنڈر سر کے قریب واپڈا کے ایک بڑے کھمبے کے نیچے چار بم نصب کر رکھے تھے جن میں سے صرف ایک بم پھٹ سکا جس سے کھمبے کا کچھ حصہ متاثر ہوا۔ تاہم اس سے بجلی کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ باقی تین بموں کو بعد میں بم ڈسپوزل سکواڈ کےعملے نے ناکارہ بنا دیا۔ واقعہ میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں اس سے قبل ریل کی پٹڑیوں اور تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کو بھی تخریبی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن میں سے بعض واقعات کی ذمہ داری مبینہ طور پر زیر زمین کام کرنے والی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ ڈیرہ کے ضلع ناظم جمال خان لغاری بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ بلوچ اکثریت والے ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں پسماندگی اور غربت کے باعث بلوچ علیحدگی پسند اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||