ڈیرہ غازی خان، پائپ لائن اڑ گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ غازی خان میں قصبہ کوٹ چھُٹہ کے قریب کراچی سے آنے والی تیل کی پائپ لائن کو جمعہ کو بارُود کے ذریعے اُڑا دیا گیا ہے ۔ ڈیرہ پولیس کے ڈی ایس پی صدر سرکل چوہدری بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم شر پسندوں نے تیل پائپ لائن کی والو اسمبلی کو بظاہر ٹائم بم کے ذریعے تخریب کاری کا نشانہ بنایا جِس سے پائپ لائن کا چار فُٹ کے قریب ٹکڑا علیحدہ ہُوگیا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ متاثرہ پائپ لائن کے ذریعے ضِلع مظفر گڑھ میں محمود کوٹ کے مقام پر قائم پاک عرب ریفائنری کمپنی یعنی پارکو کو خام تیل پہنچایا جاتا ہے ۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ جِس جگہ تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ایک دُشوار گذار علاقہ ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ شر پسند وہاں تک پیدل ہی پہنچے ہو نگے ۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیرہ پولیس نے علاقے میں بڑھتی ہوئی تخریبی کاروائیوں کے پیشِ نظر پارکو حُکام کو اپنی تنصیبات کی نگرانی سخت کرنے کا کہا تھا لیکن دھماکے کے وقت والو اسمبلی کی حفاظت پر مامُور اُن کا چوکیدار بھی موقع سے غائب تھا ۔ پارکو حُکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام جاری ہے اور اِس عمل میں چھ سے آٹھ گھنٹے لگ سکتے ہیں ۔پائپ لائن پھٹنے سےستر ہزار لِٹر کے قریب خام تیل بہہ کر قریبی علاقے میں پھیل گیا ہے ۔ بلوچ لبریشن آرمی نامی ایک تنظیم نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان آزاد بلوچ نےصحافیوں کو بتایا کہ ’ ہم نے پائپ لائن تباہ کی ہے‘۔ ڈیرہ میں گذشتہ دس روز کے دوران تخریب کاری کا یہ چوتھا واقعہ تھا ۔ اِس سے قبل شادن لنُڈ اور کوٹ چُھٹہ کے قریب ریلوے لائن اور تونسہ کے قریب ڈھوڈک سے آنے والی گیس پائپ لائن کو بارُود سے اُڑایا گیا ہے ۔ پولیس ابھی تک اِن وارداتوں میں ملوث افراد کا سراغ نہیں لگا سکی ہے ۔ ڈیرہ کے ضِلع ناظم سردار جمال لغاری پہلے ہی علاقے کو حفاظتی نقطہِ نظر سے حسّاس قرار دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ ڈیرہ میں ہونے والے واقعات بلوچستان میں سرکاری تنصیبات پر جاری حملوں کا ہی تسلسل ہیں ۔ پنجاب کے نیم قبائلی اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور نا صرف بلوچستان کے قریب واقع ہیں بلکہ یہاں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد بھی آباد ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||