ڈیرہ غازی خان کوحساس قرار دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ غازی خان کے ضِلع ناظم سردار جمال لغاری نے زور دیا ہے کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی تخریبی کاروائیوں کے پیشِ نظر ڈیرہ کو حساس علاقہ قرار دے کر یہاں سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے جائیں ۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ اُنہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ قبل ہی اُنہوں نے تحریری طور پر پنجاب حکومت کو ڈیرہ میں متوقع تخریبی کاروائیوں کے خطرے کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسند پنجاب میں بلوچ اکثریت والے اضِلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں ریاست مخالف نظریات کا پرچار کررہے ہیں اور اگر اِن علاقوں میں غُربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اقدامات نہ کیے گۓ تو بلوچستان لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو یہاں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع ملے گا۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی بلوچ اکثریت والی قبائلی پٹی پنجاب میں سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ جمال لغاری کا کہنا تھا کہ ڈیرہ میں ریلوے لائن اور گیس پائپ لائن اُڑانے کے حالیہ واقعات بلوچستان میں جاری تخریبی کاروائیوں کا ہی تسلسل ہیں ۔اُن کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اگر بروقت اقدامات نہ کیے تو تخریب کار علاقے کے بازاروں، بسوں کے اڈوں اور روایتی دیہی میلے ٹھیلوں کی جگہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نےاصولی طور پر اُن کے اِس مؤقف سے اتفاق کیا ہے کہ امن و عامہ کے لیے ڈیرہ کے بلوچ اکثریت والے علاقوں میں بلوچ لیویز اور بارڈر ملٹری پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جائے۔ ڈیرہ کے ضِلع ناظم جو کہ سابق صدرِ پاکستان سردار فاروق احمد لغاری کے صاحبزادے ہیں کا کہنا تھا کہ حکومت کو بلوچستان میں علحیدگی پسندی کے رُحجان کی حوصلہ شِکنی کے لیۓ وہاں کے لوگوں میں پایا جانے والا احساس محرومی ختم کرنا ہوگا اور اِس کے لیے وہاں کے لوگوں کو گوادر، پسنی، مکران، کوہلو اور سوئی کے علاقوں میں پیدا ہونے والے روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کا پورا موقع ملنا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ڈیرہ اور راجن پور پنجاب کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔اُن کا کہنا تھا کہ آزادی کے بعد انیس سو پچاس میں پنجاب سے الحاق کا اُن کے بڑوں کا فیصلہ درست تھا ۔ جمال لغاری نے کہا کہ احساسِ محرومی جغرافیائی سرحدوں کو تبدیل کرنے سے ختم نہیں ہوتا بلکے اس کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنا ہوگی ۔ بلوچستان کی کئی قوم پرست جماعتیں اس بُنیاد پر ڈیرہ اور راجن پور کو بلوچستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں وہاں بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ کافی بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔ جمال لغاری کا کہنا تھا کہ اس طرح تو سندھ میں بھی بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جبکہ بلوچستان میں پشتون کافی تعداد میں رہ رہے ہیں ۔ ڈیرہ غازی خان کے بلوچ قبائل لغاری، مزاری، کھوسہ، دریشک، قیصرانی، بُزدار، لنُڈ اور گورچانی کے تمنداروں اور کھتران قبیلے کے رئیس نے اُنیس سو پچاس میں ایک جرگے کے ذریعے اُس وقت پنجاب کے حق میں فیصلہ دیا تھا جب نوآزاد ملک پاکستان کی حکومت نے اُن سے پوچھا تھا کہ وہ بلوچستان سے الحاق چاہتے ہیں یا پنجاب سے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||