BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 February, 2005, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن میں بلوچوں کا مظاہرہ
بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے مہذب دنیا کو فوجی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے
بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے مہذب دنیا کو فوجی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے
لندن میں بلوچستان ایکشن کمیٹی کے نام سے قائم کی جانے والی ایک تنظیم نے اتوار کو وزیراعظم برطانیہ کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاوئنگ اسٹریٹ کے باہر بلوچستان میں ہونے والی مبینہ فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اس مظاہرے میں بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

بلوچستان ایکشن کمیٹی کے ایک رکن عبدالصمد بلوچ نے بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مہذب اور جمہوری دنیا پاکستان کی فوجی حکومت پر بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات اور سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

عبدالصمد بلوچ نے صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بلوچستان کے بارے میں ان کے حالیہ بیان کو کھلی ’غنڈہ گردی‘ قرار دیا۔ صدر مشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان میں گڑ بڑ کرنے والوں کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ انہیں کس چیز سے مارا گیا۔

عبدالصمد نے کہا کہ اکیسویں صدی میں اپنے شہریوں کو اس طرح کی دھمکی دینا ایک غیر مہذب حرکت نہیں بلکہ کھلی غنڈہ گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر زیادتی ہے۔ عبدالصمد نے استفسار کیا کہ کیا جنرل مشرف بلوچستان کے عوام پر ایٹم بم گرائیں گے۔

بلوچستان ایکش کمیٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ میں رہنے والے تمام بلوچ خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کو کمیٹی کا نام اسی لیے دیا گیا کیونکہ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایکشن کمیٹی کو پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی شامل ہیں کی حمایت حاصل ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے لیکن فوجی ایکشن جیسے غیر مہذب اقدامات کے خلاف حکومت پر بیرونی دباؤ ڈالنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو گن پوائنٹ پر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

مظاہرے میں مقررین نے کہا کہ بلوچستان کو فوج چھانیوں کی نہیں بلکہ سکولوں اور ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کاروائی:
حزب اختلاف کے مطابق موجودہ کاروائی سےفوج کی ساکھ متاثر ہوگی۔
بلوچستان’بلوچ لبریشن آرمی‘
بلوچ لبریشن فرنٹ وجود رکھتی ہے: وزیر اعلیٰ
کوئٹہ دھماکہکوئٹہ بم دھماکہ
دھماکے کی تباہ کاریاں تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد