عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 |  بلوچستان میں سوئی کے مقام پر کیے گئے سکیورٹی انتظامات |
بلوچستان کے شہر نوشکی میں ایک دھماکے سے ریل کی پٹڑی کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کوہلو کے علاقے میں تین راکٹ داغے گئے ہیں۔ کوئٹہ سے کوئی ایک سو کلو میٹر دور نوشکی کے قریب ریل کی پٹڑی کے پاس دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے سے چار فٹ پٹڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس ریلوے لائن سے مہینے میں دو بار ایران کی سرحد تک جانے والی پسنجر ٹرین گزرتی ہے۔ جبکہ گاہے گاہے مال گاڑیاں چلتی رہتی ہیں۔ یاد رہے کہ ریلوے حکام نے گزشتہ روز یہاں کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے صوبائی انتظامیہ کے افسران سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جس کے بعد کوئٹہ سبی لائن پر پولیس کمانڈوز اور لیویز کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جنھیں تمام جدید اسلحہ دیا گیا ہے اور ایف سی نے سات نئی چوکیاں قائم کی ہیں۔ ادھر کوہلو میں لیویز چیک پوسٹ کے قریب تین راکٹ گرے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ راکٹ نا معلوم افراد نے نا معلوم مقام سے داغے تھے ۔ اس کے علاوہ صوبے میں جاری ان دھماکوں اور راکٹ باری کے واقعات کے حوالے سے تیس سے زیادہ افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اور جمھوری وطن پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ ان کے بے گناہ کارکنوں اور حامیوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔ اس بارے میں جماعت کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے بتایا کہ سوئی میں حالت انتہائی کشیدہ ہے جہاں فوجی اور نیم فوجی دستے کے اہلکار گشت کر رہے ہیں اور مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ مشترکہ پارلیمان کمیٹی غیر موثر رہی ہیں اور اب انھوں نے جماعت کے فیصلے کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رکنیت سے استعفے دے دیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ سوئی میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے |