BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کے مسئلے پر ڈیڈ لاک

سوئی
وفاقی حکومت نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں تعینات کئے گئے فوجی دستے واپس نہیں بلائے جائیں گے تاہم بلوچستان میں فوجی آپریشن کے امکان کو رد کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے سینیٹ میں بلوچستان کے مسئلے پر تین دن کی بحث کو سمیٹتے ہوئے حکومتی موقف بیان کیا اور کہا کہ قومی اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ حکومت کسی کو بھی بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اپنے لوگوں سے جنگ نہیں کرنا چاہتی۔ انھوں نے کہا کہ ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان جل رہا ہے۔

حکومت کے اس اعلان سے بلوچستان کے مسئلے پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے سینیٹ میں حزب اختلاف نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت سےحزب اختلاف خصوصًا بلوچ قوم پرست جماعتیں صرف اسی صورت میں مذاکرات دوبارہ شروع کرسکتی ہیں جب حکومت سوئی سے فوج واپس بلانے کا اعلان کرے اور سوئی میں چھاؤنی کی تعمیر بند کرنے کا اعلان کرے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے اپوزیشن کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے تو اسے بلوچستان کو گیس کی رائلٹی دوسرے صوبوں کے برابر ادا کرنی ہوگی اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ یعنی این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کرنا ہو گا تاکہ بلوچستان کے حقوق کی حق تلفی کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

حزب اختلاف نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صوبوں کو خود مختاری دی جائے اور بلوچستان میں قائم نیم فوجی دستوں کی چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔
تاہم اپوزیشن کے ان مطالبات کو رد کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پچھلے چھ مہینوں میں بلوچستان میں تقریبا ایک ہزار راکٹ حملے اور چوہتر بم حملے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کے کیس میں مبینہ طور پر ملوث آرمی کے کپتان حماد کو فوج نے وقتی طور پر پولیس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کوئٹہ بھیج دیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس کیس میں اعلٰی عدالتی کمیشن کی رپورٹ آنے تک کسی پر الزام لگانا درست نہیں ہے۔

وزیر کا کہنا تھا کہ فوج کے کپتان پر زیادتی کا الزام سوئی کے ناظم نے لگایا جو اب پولیس سے تعاون نہیں کر رہے اور نہ ہی اس کیس میں پولیس کو کوئی ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ مبینہ شر پسند ریلوے، الیکٹرک،گیس اور ٹیلیفون لائنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

جمعہ کے اخبارت
بلوچستان مسلسل دوسرے مسائل سے نمایاں
بلوچستان: پسماندگی اور شکایتوں کا لاواپسماندگی اور وفاق
بلوچ پسماندگی اور شکایات کا لاوا ابل رہا ہے
اے پی سیبندوق نہیں مذاکرات
ملتان کل جماعتی کانفرنس نے مذاکرات پر زور دیا ہے
گیسقبائلی حملے کا اثر
گیس سے دس لاکھ ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے
بلوچستان کاروائی:
حزب اختلاف کے مطابق موجودہ کاروائی سےفوج کی ساکھ متاثر ہوگی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد