’ کالاباغ ڈیم وفاق توڑ دےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے سابق گورنر اور وزیراعلی غلام مصطفے کھر نے کہا ہے کہ صدرجنرل پرویز مشرف نے کالاباغ ڈیم بنانے کی ایک صحیح بات غلط وقت اور غلط طریقہ سے کی ہے جسے اگر اس وقت طاقت کے زور پر بنایا گیا تو وفاق ٹوٹ جائے گا۔ کھر نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے کی چابی بے نظیر بھٹو اور ولی خان کے پاس ہے اور اب جنرل مشرف فیصلہ کرلیں کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ کھر نے کہا کہ اس وقت اس ڈیم کے معاملہ پر صوبوں کا اختلاف رائے اتنا شدید ہے کہ یہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پاکستان کے وفاق کے لیے تیسرا بڑا بحران ہے۔ مصطفے کھر نے کہا کہ پنجاب کے عوام کالاباغ ڈیم کی تعمیر وفاق کے لیے چاہتے ہیں لیکن وفاق کو داؤ پر لگاکر اسے نہیں بنانا چاہتے۔ مصطفے کھر نے کہا کہ وہ بے نظیر درو حکومت میں وفاقی وزیر پانی و بجلی کے طور پر اس ڈیم کے حق میں بات کرتے رہے ہیں اور وہ چھوٹے صوبوں کی حکومتوں اور حزب اختلاف کو اس پر راضی کرنے کے قریب لاچکے تھے لیکن اس وقت بے نظیر بھٹو کی حکومت ٹوٹ گئی اور یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مناسب وقت پر ولی خان اس بارے میں قوم کو بتاسکتے ہیں کہ اس وقت بات ڈیم بننے کے کتنے قریب پہنچ چکی تھی لیکن اس وقت ان سے یہ بات پوچھنے سے معاملہ مزید الجھ سکتا ہے۔ کھر نے کہا کہ نماز پڑھنے کا بھی وقت مقرر ہے اور دن کے بارہ بجے نماز ادا کرنے کی پابندی ہے لیکن فوجی آمروں کو صحیح وقت کا احساس نہیں ہوتا اور جنرل پرویز مشرف نے کالاباغ ڈیم کا اعلان دن کے بارہ بجے کیا ہے۔ کھر نے کہاکہ اس وقت جنرل مشرف کے پاس کوئی سیاسی حمایت نہیں اور ملک سے زیادہ وہ خود بحران کا شکار ہیں اور ان کے پاس کوئی آسان راستہ باقی نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کابینہ، گورنر اور ایک طریقہ سے اسمبلیاں بھی جنرل مشرف کی نامزد کردہ ہیں لیکن اس معاملہ پر انہیں کوئی سہارا دینے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں کسی نے جنرل مشرف کے شانے پر ہاتھ نہیں رکھا۔ کھر نے کہا کہ سندھ کے وزیراعلی اور وفاقی وزیر بجلی و پانی نے بھی کھلے عام جنرل مشرف کے کالا باغ ڈیم ایشو کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی سندھ کا دورہ کرکے آئے ہیں جہاں ایک شخص بھی اس معاملہ پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ مصطفے کھر نے کہا کہ جنرل مشرف نے ایک غلط وقت پر اس معاملہ کو اس طرح اٹھایا ہے جیسے جب عبدالولی خان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں حیدرآباد جیل میں تھے تو انہیں بھٹو نے پولیس آفیسر سعید خان کے ہاتھ پیغام بھجوایا تھا کہ وہ بھٹو کے بیٹے کے لیے اپنی بیٹی کا رشتہ دیں جس پر ولی خان نے سعید خان کو جوتا اٹھا کر ڈانٹ کر بھگادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالاباغ ڈیم بنانے کا فیصلہ بھی ہوجائے تو جب تک صوبوں کا اتفاق رائے نہ ہو دنیا کا کوئی ادارہ اس کی تعمیر کےلیے پیسے فراہم نہیں کرے گا۔ کھر نے جنرل مشرف کو مشور دیا کہ وہ کالاباغ ڈیم پر مزید زور نہ دیں اور اس معاملہ کو یہیں چھوڑ دیں۔ کھر نے کہا کہ بعد میں کوئی ایسی حکومت آسکتی ہے جو صوبوں کے درمیان پیار محبت پیدا کرکے اس ڈیم کو تعمیر کرسکتی ہے کیونکہ پانچ دس سال بعد ملک میں پانی کی قلت شدید ہوجائےگی اور صوبے پانی کی تقسیم پر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف اس وقت کالاباغ ڈیم کے بجائے قومی مصالحت کا کام شروع کریں۔ کھر نے کہا کہ تمام سیاسی رہنماؤں پر سے نیب کے مقدمات ختم کرکے انہیں ملک واپس آنے کا باعزت موقع دیں اور ان سے مذاکرات شروع کریں۔ کھر نے کہا کہ وہ قومی مصالحت کے لیے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور یہ پریس کانفرنس اس کا حصہ ہے۔ | اسی بارے میں مشرف پر صوبوں کو لڑانے کا الزام13 December, 2005 | پاکستان مشترکہ حزب اختلاف کا اعلامیہ01 November, 2003 | پاکستان تحفظات وزیر اعظم کے گوش گزار03 December, 2005 | پاکستان کالا باغ ایک سازش: قوم پرست14 September, 2003 | پاکستان ڈیم تو بنیں گے: مشرف02 March, 2005 | پاکستان عالمی بنک کے اعلان پر تشویش 20 September, 2005 | پاکستان کالا باغ: حکومت، اپوزیشن ایک 15 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||