کالاباغ کااعلان،اے این پی کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی ایک بڑی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے حکومت کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے اعلان کی صورت میں بطور احتجاج سینٹ اور سرحد اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دھمکی اے این پی کے مرکزی صدر اور رکن سینیٹ اسفندیار ولی نے پشاور میں ہفتے کے روز ایک اخباری کانفرنس میں دی۔ کانفرنس کا اہتمام جماعت کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدیداروں کے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔ اسفندیار ولی نے اس موقع پر دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس متنازعہ منصوبے پر صدر پرویز مشرف ’زبردستی اتفاق رائے‘ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسے حالات میں جب منتخب ایوانوں کی رائے کا خیال ایک وردی پہنے صدر نہ رکھے تو ایسی اسمبلیوں میں بیٹھنا درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ رنجیت سنگھ کی طرز کی حکمرانی کرنا چاہتے ہیں تو اسمبلیوں کا کیا فائدہ؟‘۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر نے پنجاب سے اپیل کی کہ وہ بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس منصوبے کی مخالفت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کی موت یقینی ہے تو وہ صدر پرویز مشرف کو اس کے طریقہ کار کا تعین کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ اے این پی نے انتیس دسمبر کو جہانگیرہ، نوشہرہ کے مقام پر کالا باغ ڈیم مخالف ریلی منعقد کرنے کے علاوہ کراچی میں اس سلسلے میں بائیس دسمبر کے احتجاج میں بھر شریک ہونے کا اعلان کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی پہلے دن سے اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر صدر پرویز مشرف کی جانب سے اس منصوبہ پر جلد کام شروع کرنے کے اشاروں کے بعد اس جماعت نے متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں کالاباغ ڈیم سے وفاق ٹوٹ جائے گا: کھر17 December, 2005 | پاکستان ’غیرذمہ دارانہ بیان سےگریز کریں‘17 December, 2005 | پاکستان مخالفت روکنے کا سیاسی ڈیم16 December, 2005 | پاکستان کالا باغ: حکومت، اپوزیشن ایک 15 December, 2005 | پاکستان مشرف پر صوبوں کو لڑانے کا الزام13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||