BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مخالفت روکنے کا سیاسی ڈیم

کالا باغ ڈیم
اس ڈیم سےحزب اختلاف کا اتحاد پارہ پارہ کیا جاتا ہے
کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے فوجی آمروں نے ہمیشہ سیاسی مخالفت کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر بند باندھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

دراصل سیاستدانوں کے برعکس، فوجی آمر اپنے پیشرؤوں کے مفید تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم اگر جنرل ضیاءالحق کے لیے کئی بار مفید ثابت ہوا تو یہ جنرل مشرف کے کام کیوں نہ آئے۔

کم و بیش تین عشرے پرانے اس منصوبے یا درحقیقت تنازعے کی مثال حکمرانوں کے ہاتھوں میں موجود اس کوڑے کی سی ہوگئی ہے کہ جس سے حزب اختلاف کا اتحاد پارہ پارہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے باالعموم اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اگر ایک طرف ملک کی سول سوسائٹی نے غیرمعمولی جذبے اور حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے زلزلے کے متاثرین کی مدد کی تو دوسری طرف کئی عشروں سے ’ سیلاب ہو یا زلزلہ، جانیں بچاتے ہیں، ہر مشکل گھڑی میں اپنے ملک کے کام آتے ہیں’ کے نغمے گانے والی فوج کی کارکردگی نرم سے نرم الفاظ میں انتہائی ناقص رہی۔

کالاباغ ڈیم پر جنرل مشرف کے اصرار کے پس پشت محرک یہ تباہ کن زلزلہ اور اس کے دوررس اثرات ہی محسوس ہوتے ہیں۔

صدر مشرف بھی دوسرے فوجی آمروں کی طرح اس ایشو سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں

زلزلے کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جس آفت ناگہانی سے نمٹنے میں ملک میں اقتدار کے تمام ذرائع اور دوسرے اہم ترین وسائل پر بزور قابض اور انتہائی منظم فوج کامیاب نہیں ہوسکتی، اسی کا مقابلہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے بار بار گزارے گئے غیرمنظم عوام فوج سے زیادہ جذبے اور تیزی کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

یقیناً یہ صورتحال ہر اس شخص اور ادارے کے لیے پریشان کن ہوگی جو عوامی بیداری کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

زلزلے کے فوری بعد کا منظرنامہ یہ تھا کہ جب ملک کے کمانڈو صدر اور فوج کسی بھی بناء پر زلزلے کے متاثرین کی مدد کرتے کہیں نظر نہیں آرہے تھے، اسی وقت وہ تمام حلقے جن کو جنرل مشرف مستقل گزشتہ کئی برسوں سے راندۂ درگاہ، انتہا پسند اور ملک کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے تھے، امداد کے کام میں سب سے آگے تھے۔

 جنرل مشرف کے ان عالمی سرپرستوں کی جانب سے امداد اور قرضوں کے آڈٹ کا مطالبہ اور اندرون ملک حزب اختلاف کا اسی بات پر اصرار لازمی طور پر جنرل مشرف کی شخصی ساکھ کے لیے ایک دھچکہ ہے۔

اور آج زلزلے کے نو دس ہفتے بعد بھی اس منظرنامے میں کوئی بنیادی تبدیلی تو نہیں آئی لیکن اتنا فرق ضرور پڑا کہ حزب اختلاف اور ملک کی برائے نام بااختیار منتخب شوکت عزیز انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم ہونے کی امید پیدا ہوئی۔

دوسری جانب وہ حزب اختلاف جو زلزلے سے پہلے منقسم تھی، اس میں نہ صرف یہ کہ باہمی فاصلے کم ہوئے بلکہ اشتراک عمل کے کئی مناظر بھی دکھائی دینے لگے۔

ایک اہم عنصر یہ بھی ہے کہ اگر حزب اختلاف نے بیرون ملک سے ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد اور قرضوں کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمان کے کردار کی بات کی تو دوسری جانب اسی مطالبے کی بازگشت عالمی امدادی کانفرنس میں اقوام متحدہ اور یورپی اتحاد کی جانب سے بھی سننے کو ملی۔

جنرل مشرف کے ان عالمی سرپرستوں کی جانب سے امداد اور قرضوں کے آڈٹ کا مطالبہ اور اندرون ملک حزب اختلاف کا اسی بات پر اصرار لازمی طور پر جنرل مشرف کی شخصی ساکھ کے لیے ایک دھچکہ ہے۔

زلًزلے کے بعد کالاباغ ڈیم کی بات چھیڑنا صاف طور پر موضوع تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش لگتی ہے

اور ان دونوں عوامل کو اگر زلزلے سے پیدا ہونے والی عوامی بیداری اور یکجہتی کی لہر سے ملا کر دیکھا جائے تو صورتحال ملک پر مضبوط فوجی گرفت کے لیے صاف صاف خطرے کی گھنٹی ہے۔

ان حالات میں ایک ایسے ملک میں جہاں پچھتر ہزار لوگ چند ہفتوں پہلے ہی ایک تباہ کن زلزلے کی نذر ہوچکے ہوں اور مزید ہزارہا افراد کی شدید موسم کے ہاتھوں ہلاکت کا حقیقی خطرہ ہو، لاکھوں بے گھر ہوں اور ان میں امدادی کاروائیوں اور تعمیرِنو کے حوالے سے تشویش اور اشتعال بڑھ رہا ہو، وہاں اچانک کالاباغ ڈیم کی بات چھیڑنا صاف طور پر موضوع تبدیل کرنے کی دانستہ کوشش لگتی ہے۔

کالاباغ ڈیم کا تنازعہ اس وقت چھیڑنے کا نتیجہ یہ ہے کہ پنجاب اور وہاں کی سیاسی قوتیں باقی ملک کے خلاف صف آراء ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ اور خود جنرل مشرف کے بیانات ان پر جلتی پر تیل کام کام کرتے محسوس ہورہے ہیں۔

حزب اختلاف کے ایک اتحاد اے آرڈی میں دونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور نواز مسلم لیگ کا موقف اس معاملے پر ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے اس سے انحراف نہیں کریں گی۔

دوسرے اتحاد مجلس عمل میں بھی اس تنازعے پر گومگو کا عالم طاری ہے۔ ایک طرف قاضی حسین احمد ڈیم کے دبے دبے الفاظ میں حامی لگ رہے ہیں تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن فرد واحد (دوسرے الفاظ میں جنرل مشرف) کے خلاف کسی تحریک کی علانیہ مخالفت کررہے ہیں۔

 حزب اختلاف کے ایک اتحاد اے آرڈی میں دونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور نواز مسلم لیگ کا موقف کالا باغ کےمعاملے پر ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے اس سے انحراف نہیں کریں گی۔

رہ گئے عوام تو ہر صوبے میں کالاباغ ڈیم پر بھڑکائے ہوئے جذبات میں یقیناً انہیں نہ تو زلزلے کے بعد فوج کی ناقص کارکردگی یاد آئے گی نہ ہی قرضوں اور امداد کے اربوں ڈالر کا حساب یاد رہے گا کہ جس کا خرچ صرف فوج کے دو جرنیلوں کے ہاتھ میں ہوگا جو پارلیمنٹ کو نہیں بلکہ صرف فوج کے سربراہ کو ہی جواب دہ ہیں۔
اسی بارے میں
کالا باغ ایک سازش: قوم پرست
14 September, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد