کالا باغ ڈیم: ق لیگ اتفاق نہ کر سکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں آبی ذخائر کی تعمیر پر اتفاق ہوا لیکن متنازعہ کالا باغ ڈیم کی باضابطہ حمایت کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ پیر کو مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز، پارٹی صدر چودھری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں زراعت کی ترقی کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔ جب ان سے کالا باغ ڈیم کے بارے میں پوچھا گیا تو سید مشاہد حسین نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے ساتھیوں اور حزب مخالف سے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مشاورت کرکے اتفاق رائے قائم کی جائے گی لیکن چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اللہ رحم کرے گا۔ بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا نام بیشک پیلا یا نیلا ڈیم رکھیں لیکن ملک کے مستقبل کے لیے اس کی تعمیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مسلم لیگ صدر مملکت کی پالیسیوں کی تائید کرتی ہے اور اس ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے خدشات دور کریں گے۔ اجلاس سے قبل کہا جارہا تھا کہ مسلم لیگ کے اس اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی حمایت میں قرار داد منظور کی جائے گی لیکن اجلاس کے بعد ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز، وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم، سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی، حامد ناصر چٹھ، منظور احمد وٹو، خورشید محمود قصوری، شیخ رشید احمد اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے بتایا کہ آبی ذخائر سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی بات ہوئی اور ساڑھے تین گھنٹے کی بحث کے دوران تینتیس اراکین نے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ سندھ کی صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ سندھ کو کالا باغ ڈیم پر تحفظات ہیں اور انہیں وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سندھ کے تحفظات دور کیے بنا کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی حمایت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ان دنوں ملک بھر میں کالا باغ ڈیم کے بارے میں بحث جاری ہے اور حکومت اتفاق رائے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی بیشتر اور حکومت میں شامل متحدہ قومی موومنٹ اور صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ، اتفاق رائے کے بنا اس ڈیم کی تعمیر کو وفاق پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہیں۔ دریں اثناء مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اپنے سپریم کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ تمام صوبوں کی رضامندی حاصل کیے بنا کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تین صوبائی اسمبلیاں کالا باغ ڈیم کے خلاف قرار دادیں منظور کرچکی ہیں اور ان کی رائے کا احترام کیا جائے۔ |
اسی بارے میں ’صدر مشرف اعلان کرتے کرتے رہ گئے‘18 December, 2005 | پاکستان عالمی بنک کے اعلان پر تشویش 20 September, 2005 | پاکستان ’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ 29 October, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||