BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 December, 2005, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر مشرف اعلان کرتے کرتے رہ گئے‘

مشرف
صدر مشرف تین دفعہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرنے والے تھے۔
گزشتہ تین دہائیوں سے متنازعہ بنے ہوئے کالا باغ ڈیم کا ذکر ان دنوں ایک بار پھر زور شور سے جاری ہے اور رواں سال میں کم از کم تین ایسے مواقع آئے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کرتے کرتے رہ گئے۔

حکمران جماعت کے ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ پہلی بار اگست کے آخر اور ستمبر کی ابتدا کے ایام میں صدر نے کالا باغ ڈیم کا اعلان کرنے کا تہیہ کرلیا تھا لیکن اس وقت انہیں حکمران جماعت کے رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ بلدیاتی انتخابات ہونے دیں۔

ان کے مطابق بلدیاتی انتخابات سے قبل ڈیم کے اعلان سے حکومتی جماعت تمام تر ’کوششوں‘ کے باوجود بھی وسیع پیمانے پر کامیابی حاصل نہیں کر پاتی لہذا صدر مملکت مان گئے۔

دوسری بار زلزلے اور تیسری بار وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم اور ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے ڈیم مخالف بیانات سے کالا باغ ڈیم کا اعلان ہوتے ہوتے رہ گیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ضلع میانوالی میں واقع کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ کے اوپر بننے والے اس متنازعہ ڈیم کا نام بھی علاقے سے منسوب کیا گیا ہے۔

اس ڈیم کے بارے میں پاکستان کے چار میں سے تین صوبے مخالفت کر رہے ہیں اور صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں سے متفقہ طور پر کم از کم دو دو بار مختلف اوقات میں قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں۔

ایسی صورتحال کے باوجود جب کوئی بھی کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے اتفاق رائے قائم کرنے کی بات کرتا ہے تو ان تینوں صوبوں کی بیشتر سیاسی جماعتیں یہ کہتی ہیں اس ڈیم کے بارے میں پہلے سے تین صوبوں میں اتفاق رائے ہے کہ یہ ڈیم ان کے مفادات کے منافی ہے اس لیے اب کس بات کی اتفاق رائے؟

اس ڈیم کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ڈیم ’فالٹ لائن‘ اور ’سالٹ رینج،‘میں واقع ہے۔ جبکہ ڈیم کے حامیوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔

کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے صوبہ سرحد کے سیاسی رہنما کہتے ہیں کہ ان کے صوبے کا بڑا شہر نوشہرہ ڈوبے گا اور مردان ویلی سیم اور تھور کا شکار ہوجائے گی۔ لیکن کچھ ماہرین اس تاثر کو رد کرتے ہیں۔

صوبہ سندھ اور بلوچستان والے چونکہ دریائے سندھ کے آخری چھیڑے پر واقع ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ جس طرح ماضی میں کیے گئے معاہدوں اور کرائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پانی کے بعض ایسے منصوبے بنائے گئے ہیں جس سے انہیں نقصان اور صوبہ پنجاب کو فائدہ پہنچا ہے۔ لہذا اس طرح کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بھی ان کے مفادات کے منافی ہے اور انہیں بہ وقت ضرورت پانی نہیں مل پائےگا۔

جنرل پرویز مشرف اکثر کہتے ہیں کہ وہ آئینی گارنٹی دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰٰ نے کہا تھا کہ کس آئین کی گارنٹی جس کو بارہا تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔

البتہ وزیراعلیٰ نے تیسرے فریق کی گارنٹی قبول کرنے کی بات بھی کی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ عالمی بینک یا کوئی بڑا ملک اس بات کی گارنٹی دے کہ کالا باغ ڈیم سے سندھ کو نقصان نہیں ہوگا۔

صدر جنرل پرویز شرف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کے باسی ہیں اور سندھ کو کبھی نقصان ہونے نہیں دیں گے اور کالا باغ ڈیم سندھ کے فائدے میں ہے۔

صدر مشرف کہتے ہیں
 صدر جنرل پرویز مشرف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ سندھ کے باسی ہیں اور سندھ کو کبھی نقصان ہونے نہیں دیں گے اور کالا باغ ڈیم سندھ کے فائدے میں ہے۔

ڈیم مخالف فریق یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ سندھ کے سیاستدان، دانشور، ماہرین نیز ہر شعبے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم ان کے مفادات کے خلاف ہے تو صدر کیسے کہتے ہیں کہ ڈیم سندھ کے حق میں ہے؟۔

کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی پر انیس سو تراسی میں کام شروع ہوا اور اس دن سے یہ ڈیم متنازعہ بنا ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف وزیراعظم بنے اور انیس سو اکانوے میں یعنی پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تو ان دنوں آئینی ادارے قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں شریک اس وقت کے صوبہ سندھ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے مطابق وزیر اعظم کے زیر صدارت اس اجلاس میں پنجاب کے وزیراعلی مرحوم غلام حیدر وائیں نے کہا تھا کہ اگر کالا باغ ڈیم کے نام پر اعتراض ہے تو اس کا نام ’جام ڈیم‘ رکھ لیتے ہیں جس پر سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ وائیں کے بنا جام بیکار ہے اور اس کا نام جام وائیں ہونا چاہیے۔

اس مذاق میں کہی گئی بات کی بنا پر اجلاس کے بعد جب بجٹ میں کالا باغ ڈیم کے لیے رقم مختص کی گئی تو جام صادق علی نے وزیراعظم نواز شریف کو اس پر احتجاجی خط لکھا تھا کہ ایسا نہ کریں۔

دوسری بار جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے انیس سو چورانوے میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ ساتھ کالا باغ ڈیم بنانے کا بھی اعلان کیا جس پر سخت احتجاج کے بعد انہیں وہ اعلان واپس لینا پڑا۔

کالا باغ ڈیم کے متعلق ایک بار سندھ کے ایک سیاستدان رسول بخش پلیجو نے کہا تھا کہ اگر کالا باغ ڈیم کا نام ’مدینہ ڈیم‘ بھی رکھیں تو انہیں قبول نہیں ہوگا۔

چند روز قبل ایک خاتون صحافی عاصمہ نے مجھ سے پوچھا کہ کالا باغ ڈیم کی سندھ مخالفت کیوں کرتا ہے۔ ابھی میں نے بولا ہی نہیں کہ ایک سینیئر صحافی نصرت جاوید نے ان سے سوال کیا کہ بھارت کے شروع کردہ بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر پاکستان کو اعتراض کیوں ہے؟ خاتون صحافی کا جواب تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی روک دے گا۔

جس پر اس صحافی نے انہیں کہا کہ بس سمجھ لیں کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے میں پنجاب ہندوستان ہے اور سندھ پاکستان۔

اسی بارے میں
مخالفت روکنے کا سیاسی ڈیم
16 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد