کالاباغ ڈیم اور جنرل پرویز مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالاباغ ڈیم کی تعمیر اور بلوچستان میں قوم پرستوں کے خلاف کاروائی صدر جنرل مشرف کی حکومت کے چھیڑے ہوئے دو تازہ معاملات ہیں جو میڈیا پر بھی غالب ہیں اور سیاستدان بھی انہی پر ردعمل کی سیاست میں مصروف ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ ایک متنازعہ معاملہ پر کوئی موقف اختیار کرتے ہیں، چند مہینے اس پر ان کی خوب مخالفت ہوتی ہے اور آخر میں وہ اس پر اپنا موقف چھوڑے بغیر اس پر خاموشی اختیار لیتے ہیں۔ قوم اور سرگرم سیاسی حلقے مصروف رہتے ہیں اور ان کی حکومت چلتی رہتی ہے۔ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو کتے کوگود میں لیے ہوئے ان کی ایک تصویر میڈیا میں جاری کی گئی۔ ظاہر ہے سخت گیر مسلمانوں میں کتے کو نجس جانور تصور کیا جاتا ہے اس لیے اس کی مخالفت ہونا تھی۔ چیف ایگزیکٹو جنرل مشرف نے اس کے بعد اپنا ایسا امیج دوبارہ پیش نہیں کیا لیکن مغربی ملکوں اور ملک کے لبرل حلقوں کو یہ پیغام دے دیا کہ وہ جنرل ضیاءالحق کے برعکس ایک لبرل فوجی حکمران ہیں۔ جن حلقوں کو ملاؤں سے الرجی رہی ہے وہ ان سے توقعات وابستہ کرسکتے تھے۔ ابتدائی دنوں میں ہی جنرل مشرف نے جدید سیکولر ترکی کے بانی اتاترک کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل قرار دیا۔ مذہبی جماعتوں اور پنجاب کے قدامت پسند میڈیا نے ان کے اس بیان کی زبردست مخالفت کی۔ کچھ عرصہ بعد جنرل مشرف نے اس بات کا تذکرہ بھی چھوڑ دیا۔ اپنے دور اقتدار کے شروع میں انہوں نے توہین رسالت کے قوانین تبدیل یا ختم کرنے کی بات بھی کی جنہیں اقلیتیں اپنے خلاف امتیازی قوانین سمجھتی ہیں لیکن جب مذہبی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی تو حکومت چند ماہ بعد خاموش ہوگئی۔ صدر جنرل مشرف نے سنہ دو ہزار چار میں قوم سے ٹیلی ویژن پر یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ سترہویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بدلہ میں اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس سے بھی یہ وعدہ کیا۔ متحدہ مجلس عمل، سرکاری مسلم لیگ اور اس کے اتحادیوں کے تعاون سے سترہویں آئینی ترمیم تو پارلیمینٹ سے منظور ہوگئی لیکن صدر جنرل مشرف نے وعدہ کے مطابق فوجی وردی نہیں اتاری۔ اس سال یعنی سنہ دو ہزار پانچ کے شروع میں ہر طرف مشرف کی وردی کا معاملہ زیربحث تھا۔ ان کے خلاف ایک سیاسی فضا بن رہی تھی اور حزب مخالف کی جماعتیں اکٹھی ہورہی تھیں۔ ایسے میں حکومت نے اعلان کردیا کہ نئے کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکال دیا گیا ہے اور اس پر سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے الفاظ ختم کردیے گئے ہیں۔ اس اعلان پر متحدہ مجلس عمل وردی چھوڑ کر مذہب کے خانہ کی بحالی کے لیے مظاہرے اور ہڑتالیں کرنے لگی۔ تین چار مہینے حکومت اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ اسی دوران میں حکومت نے آغا خان تعلیمی بورڈ سے اسکولوں کو الحاق کی اجازت بھی دے دی۔ مذہبی جماعتوں نے اس اقدام کی بھی مخالفت کی اور ان سے وابستہ تعلیمی تنظیمیں جلسے جلوس کرنے میں لگ گئیں۔ یہ کام بھی تین چار ماہ تک چلتا رہا۔
اسی دوران میں لاہور میں ملک کی پہلی عالمی میراتھن ریس کرانے کا اعلان کیا گیا جس میں مردوں اور عورتوں نے ساتھ ساتھ شرکت کی۔ متحدہ مجلس عمل اس کی مخالفت میں بھی پیش پیش تھی۔ یوں اس سال کے کے شروع میں حکومت نے تین ایسے معاملات چھیڑے جن پر متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہونا واضح تھا۔ یوں حزب مخالف کا بتنا ہوا اتحاد اختلاف میں تبدیل ہوگیا۔ ان تینوں معاملات پر مشرف حکومت نے اپنا موقف نرم کرلیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کردیا۔ آغا خان بورڈ سے الحاق کا اختیار صرف نجی تعلیمی اداروں تک محدود کردیا اور لاہور میں میراتھن ریس کے بعد دوسرے شہروں میں اس ریس کو اسٹیڈیم تک محدود کردیا گیا۔ اس کے بعد حکومتی وزرا جیسے وزیراطلاعات شیخ رشید نے پیپلز پارٹی اور اس کی سربراہ بے نظیر بھٹو اور حکومت کے درمیان جاری پس پردہ مذاکرات کا شوشہ چھوڑ دیا اور دعوے کیے کہ کسی وقت بھی ان کے درمیان ڈیل ہوسکتی ہے۔ آصف علی زرداری طویل قید کے بعد رہا کردیے گئے۔ چار پانچ ماہ بعد ڈیل کی یہ باتیں بھی دم توڑ گئیں اور مقامی انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ آٹھ اکتوبر کو مقامی حکومتوں کے متنازعہ انتخابات مکمل ہوتے ہی دس اکتوبر کا زلزلہ آگیا۔ زلزلہ میں ہزارہ اور کشمیر کے تباہ شدہ علاقوں میں بچاؤ اور ریلیف کے کاموں میں حکومت کے سست ردعمل پر تنقید ہوئی۔ حزب مخالف نے حکومتی کوششوں میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔ ان حالات میں صدر جنرل مشرف نے کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کردیا جس پر صوبوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ لوگ پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت چھوڑ کر اس پر متوجہ ہوگئے۔ جہاں ہر طرف زلزلہ زلزلہ تھا، اب ڈیم ڈیم ہورہا ہے۔ کالاباغ ڈیم کا معاملہ ایسا ہے جس پر پنجاب ایک طرف اور سندھ اور سرحد دوسری طرف ہیں۔ سیاسی جماعتیں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرکے کالاباغ کے حامی جنرل مشرف کے خلاف پنجاب میں عوامی مہم نہیں چلاسکتیں۔ اور اگر اس کی حمایت کریں تو چھوٹے صوبوں میں انہیں اپنی مقبولیت کو داؤ پر لگانا پڑے گا۔ کالاباغ ڈیم بننا شروع ہوگیا تو صدر مشرف کی نگرانی میں چلنے والی مسلم لیگ پنجاب میں یہ نعرہ لگا سکے گی کہ اس نے طویل عرصہ سے کھٹائی میں پڑے ایک منصوبہ پر کام شروع کرکے پنجاب اور ملک کی بڑی خدمت کی ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم نہ بننا شروع ہوا تب بھی سرکاری مسلم لیگ پنجاب کے عوام سے کہہ سکے گی کہ جو پارٹیاں ان سے ووٹ مانگ رہی ہیں انہوں نے ان کے مفاد کے برعکس کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیا، ہم تو پوری کوشش کی۔ متنازعہ معاملات جن پر ملک میں سخت اختلاف رائے پایا جاتا ہے انہیں گاہے بگاہے چھیڑ کر صدر جنرل مشرف اپنے پانچ چھ مہینے آرام سے گزار لیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملہ کو اٹھانے کا مقصد بھی یہی ہے یا اس بار جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں وہ اس معاملہ کو بہانہ بنا کر کچھ سیاسی اتحادیوں کو فارغ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا‘20 December, 2005 | پاکستان ’آئینی ضمانت کے سوا سب منظور‘23 December, 2005 | پاکستان کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی22 December, 2005 | پاکستان ’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘22 December, 2005 | پاکستان ڈیم: مشرف جلسے میں حمایت کا فقدان22 December, 2005 | پاکستان ’پہلے اختلافات ختم کرائیں گے‘21 December, 2005 | پاکستان ’ کالاباغ تو بنے گا، آگے کی بات کریں‘21 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||