BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘

کراچی میں ڈیم کے خلاف تینوں صوبوں کے مظاہرین
پاکستان کے تین صوبوں کے قوم پرستوں نے صدر مشرف کو کہا ہے کہ وہ پاکستان یا کالاباغ ڈیم دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لیں دونوں ایک ساتھ رہ نہیں سکتے۔

کالاباغ ڈیم کے خلاف کراچی میں بدھ کے روز قوم پرست جماعتوں اور اے آرڈی ۔ ایم ایم اے نے مشترکہ احتجاجی مارچ کیا۔

مارچ کے اختتام پر منعقد جلسے عام کو پی پی پی کے صوبائی رہنما سید قائم علی شاہ، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی، بی این پی کے سردار اختر مینگل، عبدالحئی بلوچ، عوامی تحریک کے رسول بخش پلیجو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈاکٹر قادر مگسی، سندھ نیشنل فرنٹ کے ممتاز علی بھٹو، جے یو آئی کے خالد محمود سومرو، ایاز لطیف پلیجو، رضا ربانی، یوسف مستی خان اور اکرم شاہ نے خطاب کیا۔

لیکن پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ اور سندھ میں حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارا نے کالاباغ ڈیم کے منصوبے کی حمایت کردی ہے۔ وہ پہلے سندھی رہمنا ہیں جنہوں نے اس ڈیم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

کراچی میں ایک ریلی کے دوران اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ انیس سو اکہتر کو مشرقی اور مغربی پاکستان کو لڑایا گیا اور آج پنجاب کو تین صوبوں سے لڑایا جارہا ہے۔ ’اس کا انجام بھی وہی نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ مشرف پشتونوں کو ڈبو کر اور سندھیوں کو پیاسا مارنا چاہتے ہیں۔ ’اگر مرنے کی بات ہے تو اپنی موت کا راستہ ہم خود چنیں گے۔ پہلے چھوٹے صوبوں کے حقوق کی بات کی جاتی تھی مگر اب ان صوبوں کے بقا کی لڑائی ہے۔‘

اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ ’دو راستے ہیں یا تو ہم مشرف کے پاؤں پکڑ لیں یا ان کا گریبان۔ میں تو باچہ خان کا پوتا ہوں پیر نہیں پکڑونگا بلکہ گریبان پکڑونگا پھر چاہئے میرا بازو توڑدیا جائے۔‘

سندھ نیشنل فرنٹ کے رہنما ممتاز بھٹو نے کہا کہ ’پاکستان بننے کے بعد ہم سے ہماری زمینیں، کاروبار چھینی گئیں اب پانی چھینا جارہا ہے۔ مگر ہمیں متحد ہوکر اسلام آباد کا قلعہ گرانا پڑےگا۔ پاکستان اسلئے نہیں بنایا گیا تھا کہ اس پر اسلام آباد کی ڈکٹیٹر شپ ہو۔ مرکز صوبوں کا استحصال کرے۔‘

سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ’ہم آپس میں نہیں لڑیں گے ہم جرنیلوں سے لڑینگے۔ اپنی جان دینگے مگر کالاباغ ڈیم نہیں بننے دینگے۔‘ انہوں نے کہا کہ اب کالاباغ ڈیم کے خلاف کوئٹہ، پشاور اور لاہور میں مارچ اور احتجاج ہونگے۔ پورے ملک کے عوام اس کو رد کرینگے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پنجاب اور پنجاب کی فوج نے سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کی غیرت کو پکارا ہے۔ کالاباغ ڈیم دراصل پنجاب ڈیم ہے۔ اپنے مفادات کے لئے حکمران چھوٹے صوبوں کے بلی دیتے رہے ہیں۔

عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اٹھارہویں یا انیسویں صدی نہیں بلکہ اکیسویں صدی ہے۔ یہ عوام کی صدی ہے جس میں اس کے خلاف فیصلے نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’مشرف کہتے ہیں کہ میں آئینی گارنٹی دیتا ہوں، عدلیہ کی گارنٹی دیتا ہوں، کس گارنٹی کی بات کرتے ہیں۔ وہ آئین جس کے انہوں نے ٹکڑے کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے، عدلیہ کو انہوں نے دبا رکھا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہاں چھوٹی قوموں کو بند وارڈ کیا گیا ہے یہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں بلکہ امریکہ کا پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جس دن کالاباغ ڈیم کا اعلان کیا گیا اس دن ہم استعفیٰ دیکر روڈوں پر یہ جنگ لڑینگے۔‘

ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ ’مشرف فوج کے زور پر پوری دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مگر کالا باغ ڈیم موت کا دوسرا نام ہے جسے کسی صورت میں قبول نہیں کرینگے۔‘

دریں اثناء، آج سکھر میں ڈیم کے حق میں جنرل مشرف کی عوامی رابطہ مہم ایک طرح سے ناکام ہوگئی کیوں کہ جلسے کے کسی بھی مقرر نے ان کے حق میں کوئی بات نہیں کی۔

جلسے میں پندرہ افراد کو خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کا نام اب ان کے لیے ذہنی تناؤ کا سبب بن گیا ہے جسےکسی صورت میں قبول نہیں کیا جائےگا۔

اسی بارے میں
کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی
22 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد