BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف جلسے میں حمایت کا فقدان

صدر پرویز مشرف
صدر مشرف کالا باغ ڈیم کی عوامی رابطہ مہم کے پہلے جلسے سے خطاب کر رہے ہیں
پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف نے سندھ کے فنی ماہرین اور کاشتکاروں سے کالا باغ ڈیم کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔

سکھر میں کالا باغ ڈیم کی عوامی رابطہ مہم کےسلسلے میں ہونے والے پہلے جلسے سے خطاب کرتے ہوئےصدر مشرف نے کہا کہ وہ کالا باغ ڈیم کی ری ڈیزائنگ اور ڈیم کا نگران سندہ میں سے مقرر کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرانے کی کوشش کی کہ اس ڈیم سے کوئی کینال نہیں نکالی جائےگی۔

تاہم صدر مشرف کالاباغ ڈیم کی حمایت کے لیے عوامی رابطہ مہم کے پہلے جلسے میں ہی ناکام گئے ہوئے ہیں کیونکہ جلسے کے مقررین میں سے کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔

سکھر کے پرانے ائر پورٹ کے علاقے میں سخت انتظامات میں ہونے والے اس جلسے کے شرکاء حکومت کی جانب سے منتخب کیے گئے تھے مگر ان میں سے کسی نے بھی کالاباغ ڈیم کی حمایت نہیں کی۔

جلسے میں پندرہ افراد کو خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کا نام اب ان کے لیے ذہنی تناؤ کا سبب بن گیا ہے جسےکسی صورت میں قبول نہیں کیا جائےگا۔

کالا باغ ڈیم کی عوامی رابطہ مہم کے یہ پہلاجلسہ جمعرات کو سکھر میں منعقد کیا گیا تھا جس میں دس اضلاع کے منتخب نمائندے، ناظم، نائب ناظم، کاشتکار اور اقلیتی رہنما شریک تھے۔

صدر مشرف نےحاضرین جلسہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس منصوبے کے حوالے سے قانونی اور پارلیمانی تحفط فراہم کریں گے اور سپریم کورٹ سے گارنٹی کا فیصلہ دلوایا جائےگا۔

عوامی رابطہ مہم کے جلسے کے شرکاء

انہوں نے کہا کہ ’ہم کالاباغ ڈیم کا نگران سندھ میں سے مقرر کرنے کو تیار ہیں تاکہ وہ اس کی نگرانی کرے۔ یہ ڈیم صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائےگا‘۔

آبی ذخیروں کی تعمیر اور پانی کی موجودگی کے تعین کے لیے بنائی گئی فنی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نو میں سے سات ممبران نے کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیموں کی حمایت کی ہے جبکہ کمیٹی کے سربراہ اے این جی عباسی کے ریمارکس ہیں کہ سب سے پہلے اسکردو ڈیم تعمیر کیا جائے جبکہ سندھ کے دوسرے اراکین نے تجویز دی ہے کہ کالاباغ ڈیم میں سے کینال نہ نکالے جائیں۔

تین صوبوں کے اسمبلیوں میں سے کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد پاس ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سرحد اور بلوچستان اسمبلیوں میں اب صورتحال دوسری ہے جبکہ متحدہ سے وہ رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس کو ایشو بنا رہی ہے۔ صدر پرویز مشرف نے جلسے کے شرکاء سےمخاطب ہو کر کہا ہے کہ ’لگتا ہے میں نے آپ کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے‘۔

اسی بارے میں
کالا باغ ڈیم کے خلاف مظاہرہ
20 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد