کالا باغ ڈیم کے خلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی پیر کے روز کوٹ ادو کے قریب تونسہ بیراج کی مرمت اور بحالی کے منصوبے پر کام کے آغاز کا افتتاح کرنے گئے تو دریائے سندھ کے کناروں پر رہنے والے مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کالا باغ ڈیم سمیت پانی کے نئے مجوزہ منصوبوں کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ صدیوں سے دریائے سندھ کے کنارے آباد ہیں اور ان کی گزر بسر کا سامان بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے لیکن ڈیم اور بیراج بننے سے نہ صرف ان کے ذرائع آمدنی محدود ہوگئے ہیں بلکے اکثر اوقات انہیں ہجرت پر بھی مجبور کر دیا جاتا ہے۔ مظاہرے کا اہتمام دریا کے ساتھ رہنے والے قبیلوں مور، موہانے، کیہل، لوڑھے اور جھبیل سے تعلق رکھنے والے افراد کی تنظیم ’سندھو بچاؤ طرلہ‘ نے کیا تھا۔ سادہ زندگی گزارنے والے ان قبائل کے لوگ مچھلیاں پکڑنے اور ٹوکریاں بنانے کا کام کرتے ہیں۔ تونسہ بیراج کی مرمت، بحالی اور کسی حد تک توسیع کے منصوبے سے اب تک تقریباً ایک ہزار کے قریب لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔ بے گھر ہونے والے افراد کا کہنا ہے کے ان میں سے بیشتر کو رہائش کے لیئے نہ تو متبادل جگہ دی گئی ہے اور نہ ہی مکان تعمیر کرنے کے لیے معاوضہ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ طے شدہ معاہدے کے مطابق انہیں معاوضے دیئے جائیں اور بے زمین لوگوں کو زمین بھی دی جائے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ دریا سے مچھلیاں پکڑنے کا ٹھیکداری نظام ختم کر کے مقامی لوگوں کو اس کام کے لیئے اجازت نامے جاری کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکداری نظام سے ان کی حیثیت غلاموں کی سی ہوگئی ہے۔ ’ہم سندھو سائیں کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں لیکن حکومت اور سرمایہ کار ہمیں یا تو غلام بنا رہے ہیں یا پھر بے دخل کر کے شہروں میں بھیک مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں‘۔ احتجاجی مظاہرے سے انور مائی، شمیم بی بی، انور بی بی سندھی، اسماعیل مور، منظور مور اور ظفر لنڈ نے خطاب کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے رخ بدلنے سےقدرتی نظام مسلسل تباہی کی طرف جا رہا ہے۔’بڑے منصوبوں کا مقصد صرف سندھ، بلوچستان اور سرائیکی علاقے کے لوگوں کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے‘۔ مظاہرین نے ایک قرارداد کے ذریعے بلوچستان میں ’جاری ملٹری آپریشن‘ کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے وفاق پاکستان کی بنیادیں مزید کمزور ہو جائیں گی۔ تاہم مظاہرین کو وزیر اعلیٰ سے ملنے نہیں دیا گیا۔ تونسہ بیراج کی مرمت اور بحالی کے منصوبے پر دس ارب روپے خرچ کیئے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے جنوبی پنجاب (سرائیکی زبان بولی جانے والا علاقہ) میں کپاس اور دوسری فصلات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سالانہ تین ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ یاد رہےکہ پاکستان میں پیدا ہونے والی اسی فیصد کپاس جنوبی پنجاب سے حاصل ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں کالا باغ ڈیم: ق لیگ اتفاق نہ کر سکی 19 December, 2005 | پاکستان کالاباغ کااعلان،اے این پی کی دھمکی17 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کے خلاف ہڑتال کی کال19 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کی میڈیا مہم مسترد 19 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||