BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 07:04 GMT 12:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی کارروائی‘ کےخلاف مظاہرے

بلوچستان
مظاہرین نے کوہلو میں فوجی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی
کوہلو میں جاری کارروائی کے خلاف کوئٹہ، گوادر، تربت اور پسنی میں خواتین اور بلوچ قوم پرست جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

بدھ کو کوئٹہ میں ہونے والے اس مظاہرے میں حکمران مسلم لیگ اور متحدہ مجلس عمل کے علاوہ زیادہ تر بڑی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور ہزارہ برادی سے تعلق رکھنے والے قائدین نے کوہلو میں فوجی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب جمہوری وطن پارٹی کے آغا شاہد بگٹی نیشنل پارٹی کے کچکول علی ایڈووکیٹ اور حق طوار سے تعلق رکھنے والے مقررین نے کہا کہ صدر مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ باری کو محض جواز بنایا گیا ورنہ جب صدر مشرف پر راولپنڈی میں حملہ کیا گیا تھا تو اس وقت پنجاب میں فوجی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی پہلی مرتبہ فوجی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ انیس سو اڑتالیس کے بعد صدر ایوب کے دور میں اور بعد میں ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔

شہد بگٹی نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر اسلام آباد بلوچستان کے لوگوں کا خون بہانے کا منصوبہ لایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ہمیں اسلام آباد کی طاقت کا علم ہے اور اسلام آباد کو بلوچوں کے جذبے اور حوصلے کا پتہ ہے اس لیے یہ کوئی پرانی بات نہیں ہے‘۔

حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچوں نے اپنے علاقے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر صدر پرویز مشرف پر حملے کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے تو اس سے پہلے جو چار فوجی آپریشن کیے گئے ہیں اس وقت کن صدور پر حملے کیے گئے تھے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رؤف لالہ پیپلز پارٹی کے سعداللہ شاہ عوامی نیشنل پارٹی کے امین اللہ کاکڑ بی ایس او کے آصف اور دیگر مقررین نے کہا
کہ مہمان کبھی ٹینکوں اور اسلحے کے ساتھ نہیں آتے۔

یاد رہے کہ حکمران مسلم لیگ اور مجلس عمل کے وزراء نے صدر مشرف کے دورے کے دوران راکٹ باری کے حوالے سے کہا تھا کہ مہمان سے ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔

اسی بارے میں
کوہلو میں کشیدگی برقرار
18 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد