BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 December, 2005, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: کوہلو میں’فوجی آپریشن‘

فوجی آپریشن
بلوچستان میں فوجی جوان ایک کارروائی کے دوران (فائل فوٹو)
بلوچستان کے شہر کوہلو میں جاری آپریشن کے حوالے سے مختلف مقامات پر بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نقصانات کے بارے میں متضاد اعدادوشمار بتائے جا رہے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جارہیں ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ پیر کوکوئٹہ پہنچے ہیں جہاں انہوں نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز آفتاب شیرپاؤ نے کسی فوجی آپریشن کی تردید کی تھی جبکہ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا تھا کہ راکٹ باری اور بم دھماکوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔

ادھر کوہلو سے اطلاعات کے مطابق فورسز نے تلی جندران کاہان اور پیر محمود شاہ کے علاقوں پر بمباری کی ہے۔

ہلاکتوں اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔ کوہلو سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ چالیس کے لگ بھگ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر حبیب جالب نے بتایا ہے کہ کوہلو کے ایک علاقے میں بمباری کے بعد سے پچاس افراد غائب ہیں اب یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ لوگ ہلاک ہیں یہ کہیں فرار ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ پیر کوکوئٹہ پہنچے ہیں

کوہلو سوئی اور سبی ہسپتالوں میں کوئی زخمی یا لاش ابھی تک نہیں لائی گئی جبکہ ادھر بارکھان کے ہسپتال سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

کوہلو کے سابق ناظم نصیب اللہ نے بتایا ہے کہ نا معلوم افراد نے پیرکو علی الصبح چھ راکٹ داغے ہیں لیکن اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ راکٹ ایف سی کیمپ کے قریب گرے ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مختلف سمتوں سے حرکت شروع کی ہے۔ فضائی حملوں کے علاوہ فورسز ڈیرہ بگٹی سبی اور کوہلو کے اطراف سے کاہان کے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق بھمبھور کے علاقے میں فورسز اور قبائل کے مابین جھڑپ ہوئی ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو ئی ہیں جہاں کم سے کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ڈیرہ بگٹی اور دیگر قریبی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے نواب اکبر بگٹی نے گزشتہ دنوں کئی مرتبہ کہا ہے کہ حکومت ایک اور فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
مشرف دورہ: پھر راکٹ داغے گئے
14 December, 2005 | پاکستان
کوہلو میں کشیدگی برقرار
18 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد