’فوجی آپریشن کی تیاری جاری ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں جبکہ سرکاری سطح پر کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بلوچستان میں صورتحال کچھ عرصہ سے کشیدہ ہے۔ بم دھماکوں اور راکٹ باری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواب اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ’ادھر پنجاب کی جانب سے رینجرز اور سندھ کی طرف سے فرنٹیئر کور نے ایک طرح کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ وہ زورآور ہیں۔ جب چاہیں، جس وقت چاہیں کارروائی کر سکتے ہیں‘۔ اکبر بگٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں ایف سی کی نفری پندرہ ہزار تک بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود پیمانے پر تربت، نوشکی اور قلات میں کارروائی شروع بھی کی جا چکی ہے۔ بلوچوں کا دھماکوں میں ملوث ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس والوں کو ان کے ہاتھ میں دیا جائے تو ان سے وہ یہ منوا لیں گے کہ ان میں کوئی بھی حکومتی شخصیت ملوث ہے۔ اسی سلسلے میں بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے بلوچ سردار عطاءاللہ مینگل کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے تمام سیاسی راستے بند کر دیے ہیں۔ اب حکومت بندوق کی نوک سے بات کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں کون کیا کرسکتا ہے اگر کوئی کچھ کرے گا تو اس کے اپنے دانت ٹوٹیں گے‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب مذاکرات کے تمام راستے حکومت نے بند کر دیے ہیں تو بی ایل اے اور بی ایل ایف نامی تنظیمیں ہی اپنا کام کریں گی۔ یہ کون لوگ ہیں انہیں پتہ نہیں ہے لیکن وہ ان کی اخلاقی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیمیں وجود رکھتی ہیں وگرنہ ایک دو کارروائیوں کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہوتا۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن کی اطلاعات پر فرنٹیئر کور کے حکام کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی فوجی کارروائی کی تیاریاں نہیں ہو رہیں۔ حکام نے کہا کہ گزشتہ دنوں نوشکی اور قلات کے علاقوں میں ایف سی کے اہلکاروں نے سکیورٹی کے حوالے سے ایک سروے کیا ہے جس کا کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ کچھ علاقوں میں تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا تھا کہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی ملازمین کی تنظیم کے بیس عہدیدار کراچی کے ہوٹل سے غائب ہیں۔ ان کے مطابق گمشدہ ملازمین میں بلوچ بگٹی اور دیگر علاقوں کے لوگ شامل ہیں۔ ادھر قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم نے کالاباغ ڈیم کے معاملے پر صدر پرویز مشرف سے بات کرنے سےانکار کردیا ہے۔ پونم کا اجلاس ہفتے کے روز کراچی میں ہوا جس میں سردار عطااللہ مینگل، محمود اچکزئی، ممتاز بھٹو، قادر مگسی، افضل خان اور عبدالمجید کانجو سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ پونم کے سربراہ عطااللہ مینگل نے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے ایشو پر صدر مشرف سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈیم کس صورت میں نہیں بنے گا۔ اس پر اور کوئی بات ہم نے کریں گے نہ ہی سنیں گے‘۔ پونم سندھ کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ اب ایشو یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیسے روکی جائے جس پر بات ہو رہی ہے۔ سرائیکی رہنما عبدالمجید کانجو کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم سرائیکی علاقے کی زمین کی لوٹ مار کے لئے بنایا جا رہا ہے جسےقبول نہیں کیا جا سکتا۔ | اسی بارے میں ’نئے آپریشن کی تیاری ہورہی ہے‘18 November, 2005 | پاکستان بگٹی کے پوتے پر دھماکے کا الزام10 December, 2005 | پاکستان بلوچستان آپریشن، سات افراد گرفتار08 December, 2005 | پاکستان بم دھماکے: 5 ملزمان گرفتار07 December, 2005 | پاکستان بلوچ پارٹی کے قیام کے لیے مذاکرات25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||