BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 December, 2005, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکے: 5 ملزمان گرفتار

سنیئرسپرنٹنٹڈنٹ پولیس چودھری شفقات احمد بھدر
سنیئرسپرنٹنٹڈنٹ پولیس لائنز میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے
پنجاب پولیس نے پاکستان میں ہونے والے مختلف بم دھماکوں کے الزام میں پانچ افراد کو حراست میں لیکر ان سے دو من دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر برآمد کرلیے ہیں۔

لاہور کے سنیئرسپرنٹنٹڈنٹ پولیس چودھری شفقات احمد نے کہا کہ ان ملزمان کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی سے ہے اور یہ تنظیم پورے پاکستان میں اہم جگہوں پر بم دھماکے کرنا چاہتی ہے۔

وہ بدھ کو پولیس لائنز میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

پریس کانفرنس میں ملزمان کو پیش نہیں کیا گیا تاہم ان سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد الیکٹرک ڈیٹونیٹر، سیفٹی فیوز اور اور پارہ گیس کی نمائش کی گئی۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے کہا کہ بائیس ستمبر کو مینار پاکستان اور اچھرہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں نو افراد ہلاک اور سینتس افراد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پنجاب پولیس نے واردات میں میں استعمال ہونے والی دونوں سائیکلوں کی باقیات سے تفتیش کا آغاز کیا اور صادق آباد سے سائیکل کے مالک اصغر کو گرفتار کیا۔

محمد اصغر بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی میں بڑھئی کا کام کر تا تھا اس نے پولیس کو بتایاکہ اس نے دونوں سائیکلیں اپنے دو ایسے دوستوں کو دی تھیں جو ڈیرہ بگٹی میں رہائش پذیر تھے۔

ملزمان سے برآمد ہونے والا سامان

پنجاب پولیس کی ایک ٹیم بلوچستان پہنچ گئی۔ایس ایس پی نے کہا کہ یہ ٹیم اگرچہ ملزموں کو گرفتار نہ کر سکی لیکن اہم سراغ مل گئے اور انہی کی بنیاد پر انہوں نے ایک زخمی ملزم جام مقبول بلوچ کو اس کے ساتھی الیاس رانا کے ہمراہ گرفتار کر لیا۔

ایس ایس پی کے بقول دونوں ملزمان نے پولیس کے روبرو اعتراف جرم کرلیاہے اور ملزم جام مقبول بلوچ نے بتایا کہ لاہور بم دھماکے کے بعد وہ بہاولپور میں دھماکہ کرنا چاہتا تھا لیکن بارود میں ڈیٹو نیٹر نصب کرنے سے پہلے ہی پھٹ گیا اور وہ زخمی ہونے کے باعث بم دھماکہ نہیں کر سکا۔ پولیس نے دیگر دوملزمان سید نجم الحسن اور کاشف چودھری کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔

ملزمان کی مبینہ نشاندہی پر لاہور میں موٹر وے کے نزدیک دو مختلف مقامات سے زمین میں دبا ہوا دھماکہ خیز مواد اور بم بنانے کے آلات برآمد کر لیےگئے ہیں۔

ایس ایس پی نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزمان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے اور جمہوری وطن پارٹی پنجاب کے ایک عہدیدار کے علاوہ ڈیرہ بگٹی کی ایک اہم شخصیت کے پوتے ملزمان کو ان کاموں کے لیے رقم فراہم کرتے تھے اور قوم پرستی کا درس دیتے تھے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ لاہور کے دو بڑے ہلاکت خیز دھماکوں کے علاوہ ملزمان نے ایک سال کے دوران اوچ شریف بہاولپور، لاہور کے علاقے وحدت کالونی ، لاہور کے نواحی علاقوں کالاشاہ کاکواور چھانگا مانگا میں بھی مبینہ طور پر بم دھماکے کیے اور گیس کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

چودھری شفقات احمد نے کہا کہ ملزمان کے منصوبے تھے کہ ریلوے کی لائنوں، گیس پائپ لائنوں،گرڈ سٹیشنوں،اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے لیکن ان کے بقول پنجاب پولیس نے ان کا نیٹ ورک توڑ لیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

ملزمان کا تعلق جس بلوچ لبریشن آرمی سے بتایا جاتا ہے بلوچستان کی بیشتر قوم پرست جماعتیں اعلانیہ طور اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتیں۔

اسی بارے میں
لاہور: دو دھماکے، چھ ہلاک
22 September, 2005 | پاکستان
اکرم لاہوری مقدمہ قتل سے بری
30 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد